بندوق کی زور اور پروپگنڈے کے زریعے نام نہاد “ جشنِ آزادی” قابض کی بلوچستان میں شکست ہے۔ چئیرمین بی ایس او آزاد

0

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے چئیرمین زرّین بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ دنیا میں یومِ سیاہ (بلیک ڈے) کو عموماً ایک یونیورسل تصور کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں یاداشتوں کو مذہبی اور قومی سطح پر تہوار، شہادت، مرثیہ، سوگ سمیت دیگر واقعات کی شکل میں یاد کیا جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا یہ تمام  اجتماعی واقعات غم و غصہ، ماتم، ٹراما اور مزاحمت کے سائے تلے تاریخ میں نقش ہونے والے واقعات کی یاد دہانی کراتے ہیں اور نفسیاتی اذیت ناکیوں کی شکل میں ذہنوں پر بھیانک اثرات مرتب کرتے ہیں اور لوگوں پر نہ ختم ہونے والی یادداشت، اجتماعی اندوہ کی صورت میں روح کا حصہ بن کر اذیت سے دوچار کرتے ہیں۔

زرین بلوچ نے کہا ہے چودہ اگست ہماری اجتماعی روح کی نفسیاتی تشکیل میں محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ قومی فکری مشق کے اظہارِ بیان کاایک اہم نکتہ بھی ہے، دشمن اس دن کو اپنے اہم دن کے طور پر مناتا ہے جہاں اپنی نوآبادیاتی بیانیے اور پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا میں بلوچ سرزمین کو صوبے کے تناظر میں پیش کرکے  بلوچ قومی تشخص و عزتِ نفس کو مجروح  کرتی ہے جواس بات کی گواہ ہے کہ دشمن ہزار سالہ بلوچ  تہذیب و تمدن کی بے حرمتی کرنے کے درپے پہ ہے۔   

“لیکن بلوچ قوم اس دن کو صرف  ایک ماتمی دن کے طور پر دیکھنے کے بجائے احساسِ غلامی، ذلت اور دشمن کی مادرِ وطن پر یلغار کی نگاہ سے دیکھتی ہے”۔

انکا کہنا تھا بلوچ ہر روز ہونے والے جبر کے باعث دیگر ایام کو بھی چودہ اگست سے کمتر نہیں سمجھتی بلکہ اس دن کو تاریخی تضاد کے طور پر اپنے احساسات میں جذب کرتی ہے، قوم ہر عمل کو عزتِ نفس پر حملہ اور آزادانہ زندگی کو مفلوج کرنے کے مترادف سمجھتے ہوئے یہ آگاہی دیتی ہے کہ ہماری کوئی شے محفوظ نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا المیہ یہ ہے کہ ریاستی قبضہ گیری کے متعلق دیگر اقوام نے اسی تاریخی تضاد کو اپنے قومی سوال اور اجتماعی فکر میں پنپنے دیا لیکن یہ دن ریاست میں تمام تر مظلوموں کی شناخت، وجود اور سرزمین کے لیے بھی اہم وبالِ جان ہے۔

بی ایس او چیئرمین کا کہنا تھا بلوچ قوم نے اپنی لغت میں اس بیانیے کی اس طرح تشہیر کیا ہے کہ یہ کوئی معمولی تہوار نہیں بلکہ وجودی ساخت پر نفسیاتی حملہ ہے، اسی دن کے متعلق دیگر قومیں مختلف بیانیوں کے جال میں پھنستے ہیں، اس لیے وہ دشمن کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں کیونکہ وہ اپنے اجتماعی لغت میں اس دن کو چیلنج کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

زرین بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے چودہ اگست محض سوگ یا نفرت کے اظہار کی حد تک محدود کوئی دن نہیں بلکہ ایک فکری مشق کے طور پر بلوچ قومی تضادات کی اہم جڑ ہے جہاں ہماری ہزار سالہ تہذیب و تمدن اور آزادی پر ناجائز قبضہ ہے اور یہ قبضہ گیری ہی ہے جس نے ہمارے قومی فخر کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے، چودہ اگست کی مناسبت سے دشمن کی ہمہ وقت کوشش رہی ہے کہ دنیا کے سامنے بلوچ قوم کو ریاستی ڈھانچے کا اہم حصہ دکھایا جا سکے اور اسی پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے منفی بیانیے کو جواز فراہم کر سکے۔

بی ایس او چیئرمین کا کہنا تھا آج ریاستی چھاونیوں میں آزادی کی تقریبات، نام نہاد “صوبہ بلوچستان” میں ریاستی وفاداری کو طول بخشنے کے لیے منائی جارہی ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنے جھوٹے وجود کو تھریٹ میں محسوس کر رہی ہے کیونکہ چودہ اگست کا دن بلوچستان میں ریاستی وجود کے لیے اب خطرہ بن چکاہے۔ 

“بلوچستان میں لاکھوں سیکورٹی اہلکار تعینات کرنے کے باوجود ریاست کو اپنے عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کہ ایک کھلی نفسیاتی شکست ہے اور یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ بیانیے کے میدان میں دشمن کی پسائی اور بلوچ قومی تحریک کی فتح ہے”۔

انہوں نے کہا بلوچ قومی تحریک کی فکری اور نظریاتی اکائی دشمن کے وجود سے انکاری، مصنوعی بیانیے کو مسترد کرنا، تسلیم کرنے سے انکاری، پارلیمانی نظام کو فرسودہ نوآبادیاتی ڈھانچہ سمجھنا اور ستائیس مارچ کو اپنی سرزمین پر قبضہ گیریت، اور چودہ اگست کے دن ریاست کو یہ باور کروانا ہے کہ بلوچستان میں اب تمہاری جڑیں کمزور پڑ رہی ہیں اور مزید اسی دن کو بلیک ڈے کے طور پر منا کر دشمن کو یہ پیغام دینا ہے کہ ریاستی خوشیاں ہمارے وجود کے لیے اہم خطرہ ہیں، کیونکہ دشمن کی لغت سے ہمیں خود کو ملاوٹ ہونے سے محفوظ رکھنا ہے اسی دن کو سوگ کے طور پر منانا بیانیے کی جنگ میں کامیابی کا ضامن ہے۔

بی ایس او چیئرمین کا کہنا تھا چودہ اگست بلوچیت کے ضامن پر ایک نظریاتی حملہ ہے اسی لیے ڈسکورس تجزیاتی نگاہ سے ریاست کا سیاسی، معاشی، ادبی، ثقافتی اور دیگر معاملات سے انکار ہی ریاستی وجود کی شکست ثابت ہو رہا ہے جس کا عملی مظاہرہ بلوچستان میں کم ہوتی ریاستی رٹ سے روزروشن کی طرح عیاں ہے۔

زرین بلوچ کے مطابق بلوچ قوم آج تاریخ کی جنگوں میں سے کسی ایک معمولی جنگ کا حصہ نہیں بلکہ بے رحم مزاحمت کر رہی ہے، کم ظرف دشمن ہماری سرزمین اور شناخت پر یلغار کو اپنی سلامتی کا جشن منا رہا ہے جس کے لیے ہمیں اس بیانیے کے نفسیاتی پہلو کو سمجھنے کی ضرورت ہے، عالمی سیاسی منظرنامے کے تناظر میں ریاست ہمیشہ سے بلوچستان کو اپنا اہم حصہ ظاہر کرنے کی کوشش میں رہی ہے تو دوسری جانب بطور قوم ہمیں بھی جھوٹے بیانیے کو شکست دینے کے لیے تمام تر ریاستی اشیاء سے دور رہ کر ریاست سے بدترین نفرت کا اظہار کرنا چاہیے۔ 

“اب چونکہ چودہ اگست کا بائیکاٹ دشمن کے وجودی بحران کی علامت بن چکا ہے، اسی جذبے کو مزید وسعت دینا ہماری کامیابی اور افکار کی نشانی بنے گا کیونکہ بلوچستان میں آن ریکارڈ چودہ اگست کے نام نہاد “جشنِ آزادی” کے تقریبات اب مجبوری بن چکے ہیں جہاں مختلف تقریبات ایک ماہ قبل جولائی میں ہوتے ہیں اور ان کی نشریات چودہ اگست کے دن کی جاتی ہیں”

زرین بلوچ نے کہا یہ واقعات بذات خود ایک بحران اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں جہاں زمینی حقائق کو چھپانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں اب ریاست اپنے محاذِ فکر سے لے کر بیانیے کے میدان تک اس قدر ناکام ہو چکی ہے کہ چور و ڈکیتوں کے ذریعے چار دیواری میں بند چھاونیوں میں تقریبات منعقد کر رہی ہے اور دوسری جانب عام لوگوں کو بندوق کے زور پر اپنی منحوس جھنڈے دے کر فوٹو سیشن کرتی ہے۔ 

بی ایس او آزاد چیئرمین زرین بلوچ نے اپنے بیان میں کہا یہ بلوچ قوم پر منحصر ہے کہ وہ اس دن کو کس طرح دیکھتی ہے یہ ہماری فکری برتری کی نشانی ہے کہ ہم نے اپنے دشمن کے تمام اہم دنوں کو اپنے بیانیے کے مطابق ڈھالنے کی جدوجہد کی ہے، جیسا کہ ستائس مارچ اور اٹھائیس مئی یومِ آسروخ ہیں۔ 

“البتہ چودہ اگست دشمن کی فطرت، مائنڈ سیٹ، انٹیلیجنسیا، تھنک ٹینک، میڈیا اور سیاسی عزائم کو سمجھنے میں ہمیں مدد فراہم کرتا ہے، اس کے ساتھ یہ ایک دن دو بیانیوں کی جنگ بھی ہے، کیونکہ ایک طرف دشمن اربوں روپے خرچ کر کے اپنے تقریبات کی تشہیر کر رہا ہے تو دوسری جانب بلوچ قوم کی بھی یہ ذمہ داریاں ہیں کہ اس دن کی مناسبت سے عالمی رائے عامہ میں دشمن کے بیانیے کو شکست دے کر یہ پیغام دے کہ بلوچ قوم کے لیے ریاستی فریم ورک میں جدوجہد کرنا ایک مقامی تضاد نہیں بلکہ ایک خالص قومی تحریک ہے، جہاں آزادی کے لیے ہزاروں فرزند اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور یہ بات ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بلوچ قومی تحریک کو باقاعدہ لبریشن موومنٹ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے”

انکا مزید کہنا تھا بلوچ عوام چودہ اگست کو ریاستی رائے عامہ کو چیلنج کر کے دشمن کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ عوامی حمایت بھی قومی تحریک کو حاصل ہے  اور اسی بات کا ادراک کہیں نہ کہیں ریاست کو بھی ہے اس  کے لیے باقی ماندہ بچنے والی شئے اس کے خونخوار فوجی ہیں جو قبضہ کرنا تو جانتے ہے مگر بلوچستان میں  فکری بیانہ بنانا نہیں، جیسے سوراب میں  حالیہ جیٹ طیاروں کی بمباری سے بلوچ شہداء کی لاشوں پر جشن منایا جارہا ہیں اور اس کے ساتھ دشمن فوج کے ترجمان کا مسلسل بلوچستان کے متعلق پریس کانفرنس کا مقصد عالمی تجارت کمپنی کو یہ باورکرانا ہے کہ بلوچستان کے حالات نارمل ہیں۔ 

انہوں نے کہا عالمی تجارت کاروں سے سیکورٹی کی تحفظ اور ضمانت میں ناکام، عوامی مزاحمت سے خوف کی عالم میں بلوچستان بھر میں کرفیوں کا سماں، سڑکوں کو بندکرنا خوفناک ہائی لیول تھریٹ، انٹرنیٹ کی بندش، ریاستی فوجوں کی انخلاء سے پہلے کےاثرات ہیں جو بلوچستان میں  دیکھنے کو مل رہے ہیں اور یہی چیز ریاستی خوف میں اضافہ کرکے جھوٹ پر کھڑی بیانیے کو شکست دے رہی ہیں اور بلوچ عوام میں علاماتاتی فتح اور مزاحمت کو پروان چڑھا رہی ہے۔

بی ایس او چیئرمین نے آخر میں کہا دشمن کے “آزادی” کے تصور کو اپنی لغت سے مٹانا نفسیاتی محرکات کو ایک اہم معنی دینا ہے کہ بلوچستان میں جو بھی ریاستی مفادات باقی ہیں، بلوچ ان سے شدید نفرت کرتے ہیں اس مناسبت سے ہمیں علامتی یومِ سیاہ کے تصور کو ایک ایسے دن کی نگاہ سے بھی پرکھنا ہے جو ہماری بقا کی لغت سازی میں اہم کردار ادا کرے، جہاں ہم قوم کو ایک علمی اور نظریاتی نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ کر دشمن کی سکرات نما لغت، طاقت اور ڈسکورس کو بھی دفن کر سکیں۔