آٹھ جون ہمیں اپنے ان پیاروں کی یاد دلاتی ہے جو قابض پاکستانی عقوبت خانوں میں قید انسانیت سوز اذیتیں سہہ رہے ہیں۔ بی ایس او آزاد

19

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہے کہ آٹھ جون کو تنظیم کی جانب سے بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کے طور پر منسوب کیا گیا ہے جس کا مقصد قابض پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ان بلوچ فرزندوں کو یاد کرنا اور ان کے لیے آواز اٹھانا سمیت بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کے جرائم کو آشکار کرنا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب معمولی عمل بن چکی ہیں جہاں ہر روز درجنوں کے حساب سے بلوچوں کو جبری گمشدہ کرکے ان کو ٹارچر سیلوں میں انسانیت سوز اذیتیں دی جاتی ہیں جس میں ہرطبقے کے لوگ طالبعلم، سیاسی کارکنان، صحافی، اساتذہ، کسان، دکاندار، ڈرائیور، کاروباری اشخاص اور عام آدمی سمیت بوڑھے، بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق صرف سال 2025 میں 1223 لوگ پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بنے ہیں جن میں 832 اب تک ٹارچر سیلوں میں بند ہیں۔ ان رپورٹوں کے علاوہ کئی کیسز ایسے بھی ہیں جنہیں متاثرہ خاندان ریاستی ڈر اور خوف کے سبب رپورٹ نہیں کرتے۔

ترجمان نے کہاکہ جبری گمشدگیاں سنگین جرائم ہیں جن کے روک تھام کے لیے اقوام متحدہ سمیت دیگر انسانی حقوق کے ادارے سرگرم ہیں مگر بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر آواز اٹھانے اور ان جرائم کے خلاف وکالت کرنے کے باوجود متعلقہ ادارے اس انسانیت سوز جرائم کو روکنے میں ناکام دیکھائی دیتے ہیں۔ جس سفاکیت سے قابض پاکستانی ریاست بلوچ قوم کی نسل کشی کررہی اور انسانوں کو جبری گمشدہ کرکے ان کو ٹارچر سیلوں میں قید کرکے ازیتیں دیتی ہے، ان کو جسمانی ٹارچر سمیت ایسے نفسیاتی اذیتوں کا شکار کیا جاتا ہے کہ ان میں کوئی رہا بھی ہوجائے تو وہ اپنی پوری زندگی ٹراما میں گزارتی ہے۔ دنیا میں شائد ہی کہیں ایسے مثال موجود ہوں مگر عالمی اداروں کی منافیقت کی بھی حد ہے کہ ایسے جابر ریاستوں کو روکنے میں اپنی زمہ داری نبھانے میں ناکام ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی ٹارچر سیلوں سے جتنے بلوچ بچ کے نکلیں ہیں ان کی دل دہلانے والے داستانوں سے ساری بلوچ قوم واقف ہے مگر یہ داستانیں ناں بڑے پردے پر دیکھنے کو ملتے ہیں اور ناہی عالمی ادارے ان کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہیں۔ مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ ان جرائم کے سبب بلوچ قوم ٹراما میں زِندگی بسر کررہی ہے اور بلوچستان میں معمول کی زِندگی مکمل طورپر مفلوج ہو چکی ہے۔ ہر خاندان ہمیشہ اسی خوف میں رہتا ہے کہ ان کے پیارے گھر سے واپس آئینگے یا نہیں کیونکہ بلوچ گھروں، یونیورسٹیوں، سفر، کھیتوں، بازاروں سمیت جہاں بھی ہوں خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں۔ قابض پاکستانی ریاست بلوچ قومی تحریک سے اتنا خوفزدہ ہے کہ وہ بلوچوں کو اپنے ہی کٹھ پتلی عدالتوں میں بھی پیش کرنے سے ڈرتی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے یہ ایک حقیقی قومی جدوجہد ہے اور اس جدوجہد میں شامل لوگوں کے خلاف کسی بھی قانونی کاروائی نہیں ہوسکتی اسی لیے وہ بلوچ قومی تحریک کو چھپانے اور اپنی ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے جبری گمشدگی کا سہارا لے کر سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ مگر بلوچ قوم کبھی بھی قابض کے سامنے سر جھکانا اختیار نہیں کرے گی اور ناہی اپنی مقبوضہ سرزمین کی آزادی کے جدوجہد سے دستبردار ہوگی۔ ہم اپنی قوم کے کسی ایک فرزند کو بھی ایسے بے وارث نہیں چھوڑیں گے کہ وہ ایسے انسانیت سوز اذیتوں کا شکار ہوں اور اس کے خلاف پوری بلوچ قومی متحد ہوکر لڑرہی ہے۔

مزید کہاکہ آٹھ جون کو بلوچستان میں بلوچ مسنگ پرنسز ڈے کے مناسبت سے یاد کی جاتی ہے جسے بی ایس او آزاد نے منسوب کیا ہے، اس دن کو قابض پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں نے تنظیم کے سابقہ وائس چئیرمین زاکر مجید کو بلوچستان کے علاقے مستونگ میں جبراْ گمشدہ کیا جو تاحال پاکستانی عقوبت خانوں میں قید ہے۔ اسی دن کے مناسبت سے ہم ان تمام بلوچ فرزندوں کو یاد کرتے ہیں جن کی زندگیاں قابض پاکستانی ریاست نے تباہ کی ہوئی ہے اور ہزاروں خاندانوں کو اذیت میں ڈال کر ان کے پیاروں کو عقوبت خانوں میں قید کیا ہوا ہے۔ یہ دن ہمیں انسانیت اور زندگی کی قدر کی یاد دلاتی ہے اور ہم زندہ قوم کی طرح اپنے لوگوں کے کی بازیابی کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہیں گے۔