قدوس سے سکندر تک کا سفر
تحریر: چاکر زہری
دی بلوچستان پوسٹ
زندگی شاید کائنات کے چند عناصر کے بے ترتیب مل جانے کا نام ہے اور موت انہی عناصر کے خاموشی سے بکھر جانے کا لیکن انسان کو صرف یہ عناصر نہیں بناتے۔ اسے اس کے احساس، محبتیں، تعلقات، خواب اور وہ یادیں زندہ اور خوبصورت رکھتی ہیں جو وہ دوسروں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ اپنی موجودگی کو یادوں اور قربانیوں کی صورت میں زندہ چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کے چلے جانے کا دکھ صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ کئی دلوں کے ایک ساتھ ویران ہو جانے کا نام ہوتا ہے۔
شہید قدوس عرف سکندر کا نسب مزاحمت کی صدیوں پرانی سرزمین قلات سے جا ملتا ہے مگر قسمت نے اس کی پہلی سانس خضدار کی مٹی میں رکھی۔ یہی وہ خاک تھی جس نے اس کے ننھے قدموں کے نشان پہلی بار اپنے دامن میں محفوظ کیے اور اسی سرزمین پر اس نے بچپن گزارا، خواب دیکھے، اور زندگی کو پہلی مرتبہ محسوس کیا۔ شاید اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ ایک دن اسی مٹی میں وہ ہمیشہ کے لیے آسودۂ خاک ہو جائے گا اور اس کا لہو اسی زمین کے دیگر شہدا کی خون کے ساتھ ملکر اس زمین کو گلستان بنا دے گا۔
قدوس ایک دلکش شخصیت کا مالک تھا۔ اس کی طبیعت میں بے ساختگی تھی، خوبصورت چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی اور گفتگو میں ایسی کشش تھی کہ جو ایک بار اس سے ملتا وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رے سکتا تھا۔ وہ زندگی کو اپنے انداز سے جینے والا انسان تھا۔ خوف اس کے مزاج سے ناآشنا تھی۔ جو بات درست محسوس ہوتی وہ بے جھجک اس کی طرف بڑھ جاتا۔ بلوچی رقص سے اسے بے پناہ محبت تھی۔ موسیقی کی دھن کانوں میں پڑتے ہی وہ زندگی کی مستی میں گم ہو کر جھوم اٹھتا۔اس کی جوانی قہقہوں، دوستیوں اور بے فکری سے عبارت تھی۔
کم عمری میں ہی اس نے گھر چھوڑ کر شال کا رخ کیا تھا۔ وہاں اس نے اپنی جوانی کے خوبصورت سال گزارے تھے۔ دوستوں کی محفلیں اس کے بغیر ادھوری لگتی۔ اس کی بذلہ سنجی، شوخ مزاجی اور بے تکلف گفتگو ہر محفل میں زندگی بھر دیتی تھی۔ وہ اپنے دوستوں میں ایک زندہ دل اور محبت کرنے والے انسان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی ہنسی دیکھ کر شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہی نوجوان ایک دن خاموشی کو اپنا مقدر بنا لے گا۔
ان دنوں بلوچ قومی مزاحمت کی تاریخ سے اس کی وابستگی گہری نہیں تھی۔ سیاست اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں تھی۔ البتہ میر احمد کے مزاحمتی گیت اسے غیر معمولی طور پر پسند تھے۔ ابتدا میں وہ انہیں صرف ان کی موسیقیت اور خوبصورتی کے باعث سنتا جبکہ براہوئی گیت اس کے ذوق کا مستقل حصہ تھے کیونکہ وہ ایک عاشق مزاج انسان تھا اور براہوئی کی خوبصورت شاعری اسکے مزاج سے مطابقت رکھتی تھی۔ لیکن شاید اس وقت وہ مزاحمتی گیتوں میں پوشیدہ دکھ، مزاحمت اور تاریخ کو پوری طرح نہیں سمجھتا تھا مگر بعض آوازیں انسان کے شعور تک پہنچنے سے پہلے اس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی جنم لینے لگی۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ زندگی محض روزگار، دوستوں، مستی اور خوشیوں کا نام نہیں۔ اس کے اندر کسی مقصد کی تلاش شدت اختیار کرنے لگی۔ اسی تلاش نے اسے شال سے لاہور پہنچایا، پھر لاہور سے اُوتھل، اوتھل سے ایک مرتبہ پھر لاہور اور نہ جانے کتنے راستوں کی خاک چھنوائی۔ مگر منزل ابھی اس کی منتظر تھی۔ وہ مسلسل سفر میں تھا مگر اصل سفر ابھی شروع ہونا باقی تھا۔
بالاچ کے قتل ہونے سے جو عوامی سیاسی تحریک شروع ہوئی اس سے بلوچستان کی سیاسی فضا یکسر بدل گئی۔ اسلام آباد میں اور بعد ازاں بلوچ راجی موچی کے دوران بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن شروع ہوا۔ قتل و غارات، گرفتاریاں، عورتوں، بچوں اور سفید ریشوں کی تذلیل، گمشدگیاں اور احتجاج بلوچستان کے ہر باشعور نوجوان کے دل میں سوال پیدا کر رہے تھے۔ قدوس بھی ان سوالوں سے بچ نہ سکا۔ اس نے اپنی قوم کی بے بسی کو قریب سے دیکھا۔ ماؤں کی منتظر نگاہیں، بہنوں کی خاموش سسکیاں اور ہر گھر میں پھیلی بے یقینی اور بے چینی نے اس کے اندر کی دنیا بدل دی۔
اب وہی مزاحمتی گیت جنہیں وہ کبھی صرف شوق سے سنتا تھا اب انہی میں وہ اپنے زندگی کا مقصد دیکھنے لگا جس کے لیے کہ وہ در در بھٹک رہا تھا۔ وہ ہر شعر کا مطلب پوچھتا، ہر استعارے کو سمجھنے کی کوشش کرتا اور ہر لفظ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرنے لگا۔ آہستہ آہستہ اس کی ہنسی کم ہونے لگی۔ محفلوں کا سب سے شوخ نوجوان اب دیر تک خاموش رہتا۔ دوست باتیں کرتے اور وہ سوچتا رہتا۔ گویا اس کے اندر کوئی نئی شخصیت خاموشی سے جنم لے رہی تھی۔ اسی خاموشی نے اسے اس کے مقصد اور مزاحمت کی راہ تک پہنچا دیا اور بلآخر لاہور میں وہ شہید سفیان کرد اور قادر بلوچ کے کارواں میں شامل ہوگیا۔
وہ دوبارہ قلات لوٹا مگر اس بار وہ قدوس نہیں تھا بلکہ اب وہ سکندر بن کر لوٹا تھا اپنے سوچ کے ساتھ وہ اپنا نام بھی بدل چکا تھا۔ اب اسکی زندگی اس کی اپنی نہیں رہی تھی۔ اس نے اپنے آرام، اپنی خواہشات اور اپنی ذاتی زندگی کو ایک بڑے مقصد کے تابع کر دیا تھا۔ وہ شعور سے آراستہ ایک ایسا فوجی بن چکا تھا جس کے لیے وطن محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ اپنی شناخت، اپنی تاریخ اور اپنے لوگوں کا نام تھا۔
محاذ پر پہنچ کر وہ جلد ہی ایک تجربہ کار اور پیشہ ور لڑاکا کی شکل اختیار گیا۔ اس نے ہر قسم کے ہتھیاروں پر عبور حاصل کیا اور دشمن کے خلاف اہم کارروائیوں میں فعال کردار ادا کیا۔
قلات کی جسم کو چیر دینے والی سردی اور جہد کی سختیوں کو برداشت کرنے کے بعد اس کا سفر جھل مگسی کے گرم علاقوں تک پہنچا جہاں اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مزاحمت کی زندگی گزاری اور دشمن پر قہر بن کر ٹوٹا۔ سختیاں آئیں، مسلسل نقل و حرکت رہی، خطرات ہر قدم پر موجود تھے مگر اس نے واپسی کا راستہ کبھی تلاش نہیں کیا۔ اس نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کی منزل آسان نہیں۔
پھر ایک دن تقدیر نے اسے دوبارہ خضدار پہنچا دیا، یہ وہی شہر تھا جہاں پچیس برس پہلے ایک بچے نے پہلی مرتبہ آنکھیں کھولی تھیں۔ مگر اب واپس آنے والا وہ بچہ وہ نہیں تھا۔ اب وہ سکندر تھا۔
خضدار کے علاقے زیدی میں ۱۰ جولائی کی صبح اس کا سامنا دشمن سے ہوا تووہ غضب بن کر برس پڑا۔ دشمن نے اپنی زمینی افواج، ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے اسے ساتھیوں سمیت چاروں طرف سے گھیر لیا تھا مگر سکندر جھکنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے ہر طرف سے برستی گولیوں کے درمیان ثابت قدمی سے مزاحمت جاری رکھی۔ وہ آخری گولی تک لڑنے کا عزم لے کر میدان میں اترا تھا اور تامرگ اسی عزم پر قائم رہا۔
شدید جھڑپ گھنٹوں جاری رہی۔ وہ اس وقت تک دشمن کا مقابلہ کرتا رہا جب تک اس کے ہتھیار میں صرف ایک آخری گولی باقی نہ رہ گئی۔ مگر وہ آخری گولی بھی دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں تھی۔ اس نے گرفتاری پر اپنی آزادی اور وقار کو ترجیح دی اور شہید امیر کی آخری گولی کی فلسفیانہ روایت کو اختیار کرتے ہوئے اسے اپنے ہی نام کر دیا۔ وہ خاک جہاں اس نے سب سے پہلے اپنی آنکھیں کھولی اسی خاک نے ہی اسے ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں سولادیا۔ یوں قدوس کا خاتمہ تو چند برس پہلے ہوچکا تھا لیکن سکندر ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ کو ہمیشہ کے لیے خضدار کی خاک ذیدی میں امر ہوگیا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































