بلوچ نسل کشی کے دوران پشتون قیادت سے امیدیں وابستہ تھیں، آج وہی حالات پشتونوں کو درپیش ہیں۔ اختر مینگل

1

کوئٹہ ہنہ آوڑک واقعہ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، اختر مینگل کا عدالتی کمیشن اور احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کوئٹہ میں ہنہ آوڑک واقعہ میں ہلاک پولیس اہلکاروں کے لیے جاری دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے آئندہ احتجاجی فیصلوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اپنے خطاب میں اختر مینگل نے کہا کہ زیارت کے حالیہ سانحے پر ہونے والا احتجاج کسی ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ یہ سلسلہ پاکستان کے قیام سے جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست نے بلوچستان کے عوام کے خون پر اپنی معیشت قائم کی، جبکہ بلوچستان کے وسائل، تیل، گیس اور معدنیات سے فائدہ اٹھایا گیا، مگر یہاں آباد بلوچ اور پشتون عوام کو نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی نظر میں بلوچستان کے عوام کی کوئی انسانی حیثیت نہیں، ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جاتا ہے اور بعد ازاں فراموش کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے پشتون عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف قتل عام اور نسل کشی ہو رہی تھی تو بلوچ عوام کو امید تھی کہ پشتون قیادت ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

ان کے بقول بلوچ رہنماؤں نے اس وقت بھی خبردار کیا تھا کہ جو ظلم بلوچوں پر ڈھایا جا رہا ہے، وہ ایک دن پشتونوں تک بھی پہنچے گا، اور آج وہی صورتحال سامنے آچکی ہے۔

اختر مینگل نے کہا کہ آج پشتون عوام جس طرح تشدد اور قتل و غارت کا سامنا کر رہے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے اور آخر تک ان کا ساتھ دے گی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا بلوچستان میں بلوچوں کو کچلنے کے لیے ریاست نے مختلف علاقوں میں ڈیتھ اسکواڈ قائم کیے، جنہوں نے مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکیں، گھروں میں گھس کر کارروائیاں کیں اور لوگوں کو اغوا کیا، جبکہ کسی ریاستی ادارے نے انہیں نہیں روکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان گروہوں کو اس حد تک اختیارات دیے گئے کہ وہ لوگوں کے گھروں سے خواتین کو بھی اٹھا کر لے جاتے تھے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی تھی۔

انہوں نے 2016 کے سول ہسپتال کوئٹہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے چمن سے پشین تک مختلف علاقوں میں جا کر عوام سے اتحاد کی اپیل کی تھی، کیونکہ ان کے مطابق اگر عوام متحد نہ ہوئے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

بی این پی سربراہ کے مطابق آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لاشیں کنٹینروں میں رکھی جارہی ہیں، تاہم بلوچستان میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہیں اپنے پیاروں کی لاشیں تک نصیب نہیں ہوئیں۔

اختر مینگل نے کہا کہ وہ خود بھی ان افراد میں شامل ہیں جو گزشتہ 45 برس سے اپنے بھائی کی لاش نہیں دیکھ سکے اور نہ ہی انہیں آخری کندھا دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے، اور اگر کسی ریاست میں حق مانگنا اور سچ بولنا جرم بن جائے تو ایسی ریاستیں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ہلاکو اور ہٹلر جیسے حکمرانوں کی ریاستیں بھی باقی نہیں رہیں۔

اختر مینگل نے ہنہ آوڑک واقعہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہے تو پھر حکومت عدالتی تحقیقات سے خوفزدہ کیوں ہے، ریاست کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچستان میں کیے گئے تجربات، جن میں لیویز کو ختم کرکے پولیس میں ضم کرنا اور مختلف سیکیورٹی پالیسیاں شامل ہیں، کی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے۔

انہوں نے دھرنے کی قائم کردہ کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج ختم کرانے یا مطالبات سے دستبردار کرانے کی کوششیں کی جائیں گی، تاہم شرکاء کو اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔

اختر مینگل نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایک شخص کی ہلاکت پر بھی وزراء استعفے دیتے ہیں، مگر بلوچستان میں متعدد جانوں کے ضیاع کے باوجود حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندے ہوتے تو وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دے کر متاثرین کے ساتھ دھرنے میں شریک ہوتے، تاہم موجودہ حکمران عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔

خطاب کے اختتام پر اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اسلام آباد میں بھی ہنہ آوڑک، زیارت اور دیگر واقعات کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے، دھرنے کے شرکاء آئندہ جس بھی احتجاجی لائحہ عمل، شٹر ڈاؤن، پہیہ جام یا دیگر اقدامات کا فیصلہ کریں گے، ان کی جماعت ان تمام فیصلوں میں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔