بندوق مسئلے کا حل نہیں تو توپیں، ٹینک اور جنگی طیارے کیا مسئلہ حل کریں گے؟ سردار اختر مینگل

1

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کے اعتراف اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو واحد راستہ قرار دینے کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا یہ اعتراف کہ بلوچستان کے ساتھ ماضی میں زیادتیاں ہوئی ہیں کوئی نئی بات نہیں۔ ان سے پہلے آنے والے حکمران بھی بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اعتراف کرتے رہے ہیں اور بعض نے معافیاں بھی مانگی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان اعترافات کے بعد عملی طور پر بلوچستان کے عوام کو کیا دیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو مسخ شدہ لاشوں، ماؤں کی اجڑی ہوئی گودوں، یتیم ہونے والے بچوں، تباہ کیے گئے گھروں اور جلائے گئے دیہات کے علاوہ کیا ملا؟ خواتین اور بچوں کو پابندِ سلاسل کیا گیا، لوگوں کو لاپتہ کیا گیا اور بلوچستان کے ساحل و وسائل پر بھی بلوچستان کے عوام کے حق کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔

سردار اختر مینگل نے وزیراعظم کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بندوق مسئلے کا حل نہیں تو پھر ریاستی طاقت کے طور پر استعمال ہونے والی توپیں، ٹینک، جنگی طیارے، گن شپ ہیلی کاپٹر اور دیگر عسکری ذرائع کیا بلوچستان کے مسائل حل کر سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب شاید آپ آج اقتدار میں رہتے ہوئے نہ دے سکیں، لیکن اگر کبھی آپ حزبِ اختلاف میں آئے تو تاریخ آپ سے ضرور یہ سوال کرے گی کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے طاقت کے بجائے سیاسی، جمہوری اور بامعنی مذاکرات کی راہ کیوں اختیار نہیں کی گئی۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محض اعترافات، بیانات اور وعدوں کے نہیں بلکہ انصاف، برابری، آئینی حقوق، سیاسی اختیار اور اپنے وسائل پر حق کے طلب گار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل طاقت کے استعمال، فوجی کارروائیوں یا محض رسمی مذاکرات میں نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی، ماضی کی زیادتیوں کے ازالے، لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل اور بلوچستان کے عوام کو ان کے سیاسی و معاشی حقوق دینے میں ہے۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر ریاست واقعی بلوچستان کے ساتھ ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتی ہے تو اسے محض الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بلوچستان کے عوام بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں اور ان کے جان، مال، وسائل اور سیاسی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔