سوراب پہ فضائی حملہ تاریخ کے تناظر میں – چیدہ بزدار

28

سوراب پہ فضائی حملہ تاریخ کے تناظر میں

تحریر: چیدہ بزدار

دی بلوچستان پوسٹ

سوراب گدر پہ فضائی حملہ

یہ پاکستان کا بلوچ عوام پہ پہلا فضائی حملہ نہیں۔ اگر ہم 1947ء سے اب تک فضائی حملوں یا کیے گئے دوسرے فوجی آپریشنز پہ چھوٹی سی نظر دوڑائیں تو ہمیں لاکھوں کی تعداد میں فوجی آپریشنز دیکھنے کو ملیں گے۔ اور بلوچ قوم پہ ظلم کی اس داستان کی شروعات 1947ء سے ہی کریں گے۔ اب تک بلوچستان پہ ظلم و جبر کی داستان لکھی جائے تو یہ تحریر اس دردناک داستان، ظلم و جبر، فرونیّت اور بلوچ نسل‌کشی کی ہے جو ظالم ریاست نے ہماری مظلوم راج پہ ڈھائی۔ اس تحریر میں کمی بیشی کے لیے معذرت خواہ ہوں، اور ہزار کوشش کی کہ میں اپنے شہدا کا حق ادا کرسکوں، مظلوم راج پہ ڈھائے گئے ظلم و ستم کو بیان کرلوں۔ اس کو ایک چھوٹا سا خلاصہ ہی سمجھ لیں۔

بلوچستان 1947 سے پہلے

برطانوی دور کے آخری سالوں میں موجودہ بلوچستان کے علاقے مختلف حصوں میں تقسیم تھے۔ خاناتِ قلات ایک Princely State تھا، اور ریاستِ قلات بلوچ سربراہ اور بڑی ریاست تھی۔ مکران، خاران اور لسبیلہ اس کے ساتھ مختلف نوعیت کے سیاسی تعلقات رکھنے والی چھوٹی ریاستیں تھیں۔

دوسری طرف British Balochistan براہِ راست برطانوی انتظام میں تھا، اور شال، سبی، چاغی اور کوہِ سلیمان، مری، بگٹی قبائل برٹش بلوچستان میں شمار تھے۔

11 اگست 1947 کو خانِ آفِ قلات اور برطانوی حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد قلات کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
12 اگست 1947 کو باقاعدہ بلوچستان میں آزادی کے دستاویزات کا اعلان سامنے آیا، لیکن بلوچستان کی بدقسمتی بول سکتے ہیں: وہاں دوسری طرف قبضہ گیر ریاستیں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے Established Colonial Rule in Region ہندوستان سے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو مذہبی جواز دے کر اس کو وجود میں لانے کی تیاری میں تھیں، جس کی بنیاد پہ پاکستان وجود میں آیا۔ اور پاکستان کی پنجابی سامراج نے ہمیشہ اپنی عوام کو آزادی کے نام پر دھوکے میں رکھا۔ پاکستان آزاد نہیں، بلکہ وجود میں آیا۔

1948: قلات پہ حملہ

پاکستان کی فوج قلات پہ حملہ آور ہوئی اور خانِ آفِ قلات کو حراست میں لیتے ہوئے بلوچستان کو طاقت کے زور پہ جبراً پاکستان کے ساتھ الحاق کروایا، اور بلوچ قوم نے اس عمل کو جبری الحاق قرار دیا۔ وہیں سے 1948 کو پہلی مزاحمت شہزادہ عبدالکریم، جو خان کے چھوٹے بھائی تھے، نے پاکستان کے خلاف شروع کردی۔

1958: نواب نوروز خان کی مسلح مزاحمت

1958 میں پاکستان میں صدر اسکندر مرزا کے دور میں ملک میں مارشل لا نافذ ہوا، اور بلوچستان کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس دور میں One Unit نظام کے خلاف بلوچستان میں شدید مخالفت موجود تھی۔ بلوچستان کے مختلف قبائل اور سیاسی حلقوں میں مرکزی حکومت کے اختیارات کے حوالے سے اختلافات تھے۔ نواب نوروز خان بلوچ نے مسلح مزاحمت شروع کی۔ ان کے ساتھ ان کے بیٹے اور دیگر ساتھی بھی شامل تھے۔ حکومت نے مذاکرات اور قرآن پاک کا وعدہ/امن کی یقین دہانی کے ذریعے نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے نیچے آنے پر آمادہ کیا، لیکن پاکستان نے دھوکا دیتے ہوئے ان کو حراست میں لے کر مقدمات درج کرکے 1960 میں ان کو ان کے ساتھیوں سمیت حیدرآباد جیل بھیج کر بیٹوں، ساتھیوں اور نوروز خان کو پھانسی دے دی گئی۔ حکومتی یقین دہانی کے باوجود سزائیں دیے جانے کو مزاحمت کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

1958–60 — نواب نوروز خان کی مزاحمت

1960–69 — سیاسی کشیدگی اور نسبتاً خاموش دور

1969 — One Unit کا خاتمہ

1970 — بلوچستان کو صوبائی حیثیت، انتخابات

1973 — NAP حکومت کی برطرفی اور شورش

1973: بڑی فوجی کارروائیاں

حکومت نے بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کیا۔ مری، مینگل اور دیگر علاقوں میں فوج اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپیں بڑھتی گئیں۔ 1974 تک یہ تنازع ایک بڑے مسلح conflict میں تبدیل ہو چکا تھا۔

پاکستان نے آپریشن کا جواز کچھ اس فریب سے کیا: پاکستان نے عراق پر بلوچستان کی شورش میں مداخلت کا الزام لگایا، اور ایران کے ساتھ مل کر بلوچ قوم کا خون بہایا گیا۔

1974: فوجی آپریشن، چمالنگ فضائی حملہ

ستمبر 1974 میں چمالنگ میں تقریباً 15,000 مری قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اور مال مویشیوں کے ساتھ موجود تھے۔ پاکستانی فوج نے زمینی کارروائی کے ساتھ فضائی طاقت استعمال کی۔ ایرانی جیٹ طیارے اور F-86 اور Mirage طیاروں، helicopter gunships اور ایرانی pilots کی موجودگی براہِ راست شامل تھی۔ ظالم نے ظلم کی داستان رقم کرتے ہوئے فوج نے پیش قدمی کی۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا؛ یہاں تک کہ مال مویشی تک کو بھی مار دیا گیا۔ اور کچھ خواتین کو زندہ گرفتار کرکے عزت پہ ہاتھ ڈالتے ہوئے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ انہیں لے جاکر ان کے سروں کے دوپٹے، باقی کپڑے اتار کر نیچے پھینک دیا گیا۔ اس ظلم کو آج تک بلوچ راج کے بچے بچے اپنے سینوں پہ نقش کرچکے ہیں۔

2006–2007: کوہلو، ڈیرہ بگٹی پہ فضائی حملہ

نواب اکبر بگٹی کی شہادت سمیت ان علاقوں پہ بدستور فضائی حملہ کیے گئے۔ براہِ راست آبادی پہ بم برسائے گئے، اور کثیر تعداد میں بلوچ آبادی کو نشانہ بنا کر مردوں اور عورتوں سمیت شیر خوار بچوں کو شہید کیا گیا۔

2008–2016: بلوچستان پہ کچھ علاقوں میں فضائی حملہ اور آپریشنز

اس دوران پورے بلوچستان میں مکران، کوہِ سلیمان سمیت سراوان اور جھالاوان میں فوجی آپریشنز، فضائی حملوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ مردوں سمیت خواتین کو لاپتہ کرنا، بوری بند لاشیں پھینکنا پاکستانی حکومت کا دستور رہا ہے۔ Fake Encounters میں بے حد اضافہ دیکھا گیا، جو بدستور جاری ہے۔ بولان میں باقاعدہ بلوچ آبادی پہ فضائی حملہ کیے گئے، لوگوں کو شہید کیا گیا۔ تقریباً Areas Rural سے Urban Area کی طرف زبردستی نقل مکانی کرانا، آباد گھروں کا مسمار کرنا ریاست کے لیے ایک عام سی بات ہے۔

2020 سے آج تک

اس دورانیہ میں بلوچستان میں سیاسی شورش اور مسلح کاروائیوں میں بے پناہ تیزی دیکھی گئی۔ دن بہ دن کاروائیوں میں اضافہ، شہروں پہ مسلح افراد کا کنٹرول، اور Chinese کمپنی اور ان کے سیٹلرز پہ متواتر کامیاب حملے، ان کا بہ خوف سڑکوں پہ سنپ چیکنگ، جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا اور فدائی حملہ—اس طرح کی کاروائیوں کا بے حد کامیابی کے ساتھ جاری رہنا، اور Rural سے جنگ کو Urban War کی طرف شفٹ کرنا ان کی کامیابی ہی ہے۔

سوراب گدر پہ فضائی حملہ

12 اگست 2026 کو پاکستان نے گدر کی آبادی پہ فضائی حملہ کیا۔ اس حملہ میں 27 سے زائد بلوچ افراد اور شیر خوار معصوم بچے شہید ہوئے، جس سے پورے بلوچستان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ وہاں آبادی پر گرائے گئے بم/میزائل کے باقیات کی تصویریں سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں۔

فضائی حملہ کیوں؟

ریاست نے دیکھا کہ روایتی زمینی فورسز کی کارروائی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔ بھاری بکتر بند کارروائیوں اور جدید زمینی سازوسامان کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ مل سکے، جس کے باعث فضائی طاقت اور دور فاصلے سے حملہ کرنے کی صلاحیت پر زیادہ انحصار کیا جائے گا، اور کیا گیا۔ اور آگے جاکر ریاست بلوچ آبادی پہ کیمیکل اٹیک بھی کرے گی؛ اس سے بھی بدتر وحشی پن اختیار کرسکتی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ زمینی کارروائیوں کی ناکامی ہے: اپنے فوجی کیمپوں میں محدود ہوجانا، بے بس ہونے سے وحشی پن جاگ سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا، کیونکہ جب بھی ریاست کا کمر توڑ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس آخری آپشن فضائی حملے رہے جاتے ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ قبضہ گیر نے بے بسی، لاچاری سے زمینی شکست کے بعد فضائی حملوں کی مدد لی۔ ہمارے پاس دنیا کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

سامراجوں کے فضائی حملے

فرانس اور الجزائر کی جنگ (1954–1962) کے دوران فرانس نے الجزائر پہ قبضہ برقرار رکھنے کے لیے فرانسیسی فوج نے بعض آبادی والے علاقوں اور دیہات میں فضائی کارروائیاں کیں، جن میں عام شہریوں کا بے باک قتل عام کیا گیا، اور ایویان معاہدوں کے بعد آزادی کی راہ ہموار ہوئی۔

اٹلی اور ایتھوپیا
1935–1936: اٹلی افواج نے ایتھوپیا میں مسٹرڈ گیس سمیت کیمیائی ہتھیار فضائی حملوں میں استعمال کیے، جن سے فوجیوں اور عام شہریوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ متاثر اور ہلاک ہوئے۔ آخر کار ایتھوپیا نے 1941 میں اٹلی کے قبضے سے آزادی حاصل کی۔

کیوبا پہ فوجی حملہ
1958 میں کیوبا کے انقلاب کے دوران باتیستا حکومت نے باغیوں کے خلاف فضائی طاقت استعمال کی، جس کے نتیجے میں بعض دیہی علاقوں اور آبادیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں بمباری اور زمینی اہداف پر فضائی فائرنگ شامل تھی، جس کے باعث بہت بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ باتیستا کی حکومت کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی، لیکن کیوبا پر اس وقت امریکہ کا براہِ راست قبضہ نہیں تھا۔ آخر کار کیوبا 1959 میں باتیستا کی آمریت سے آزاد ہوا۔

ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تاریخ میں کئی قوموں اور تحریکوں نے قابض یا استعماری طاقتوں کا مقابلہ کیا اور آخرکار آزادی حاصل کی، جنہیں دنیا ان کو ان کی پہچان اور بہادری سے جانتی ہے، اور ان کی تاریخ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگئی۔ اور وہ ثابت قدم رہے اور اپنے سروں کی قربانیاں دیں۔ ہمیں بھی انہیں تحریکوں سے سبق حاصل کرنا ہوگا، قربانیاں دے کر خود کو اس سامراج سے آزاد کرنا ہوگا۔ لڑنا ہوگا، کیونکہ یہ جنگ ہی ہمارے امن، آزادی کا ایک آخری واحد راستہ رہے گی۔ بقول جنرل استاد اسلم بلوچ: «دشمن کے ہاتھوں میں ٹینک، جیٹ، بندوقیں ہیں؛ وہ ہمیں مار رہا ہے تو ہم اس کے سامنے پھول نہیں اٹھا سکتے۔ بندوق کا جواب بندوق سے دیا جائے گا،» اور آزادی کی منزل خود تمہاری طرف دوڑتی ہوئی آئے گی۔

ان کا بہ خوف سڑکوں پہ سنپ چیکنگ، جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا اور فدائی حملہ—اس طرح کی کاروائیوں کا بے حد کامیابی کے ساتھ جاری رہنا، اور Rural سے جنگ کو Urban War کی طرف شفٹ کرنا ان کی کامیابی ہی ہے۔

سوراب گدر پہ فضائی حملہ

12 اگست 2026 کو پاکستان نے گدر کی آبادی پہ فضائی حملہ کیا۔ اس حملہ میں 27 سے زائد بلوچ افراد اور شیر خوار معصوم بچے شہید ہوئے، جس سے پورے بلوچستان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ وہاں آبادی پر گرائے گئے بم/میزائل کے باقیات کی تصویریں سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں۔

فضائی حملہ کیوں؟

ریاست نے دیکھا کہ روایتی زمینی فورسز کی کارروائی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔ بھاری بکتر بند کارروائیوں اور جدید زمینی سازوسامان کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ مل سکے، جس کے باعث فضائی طاقت اور دور فاصلے سے حملہ کرنے کی صلاحیت پر زیادہ انحصار کیا جائے گا، اور کیا گیا۔ اور آگے جاکر ریاست بلوچ آبادی پہ کیمیکل اٹیک بھی کرے گی؛ اس سے بھی بدتر وحشی پن اختیار کرسکتی ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ زمینی کارروائیوں کی ناکامی ہے: اپنے فوجی کیمپوں میں محدود ہوجانا، بے بس ہونے سے وحشی پن جاگ سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا، کیونکہ جب بھی ریاست کا کمر توڑ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس آخری آپشن فضائی حملے رہے جاتے ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ قبضہ گیر نے بے بسی، لاچاری سے زمینی شکست کے بعد فضائی حملوں کی مدد لی۔ ہمارے پاس دنیا کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔