بی این پی رہنماء کے مطابق انھیں زہری میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر مینگل نے بیان میں کہا ہے آج صبح 8 بجے سے مجھے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے اراکین کو زہری جانے سے روکا جا رہا ہے، جہاں ہم سردار نصیر احمد موسانی کے صاحبزادے کے انتقال پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سردار موسیانی کے وہ بیٹے جو حراست میں ہیں، انہیں اپنے ہی بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی، پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور دوستوں کو بھی سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور یکجہتی سے روکا گیا۔
سردار اختر جان نے کہا غم میں شریک ہونا، جنازے میں شرکت کرنا اور تعزیت کرنا نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور روایتی اقدار کا بھی حصہ ہے، ایسے حالات کا سامنا ہمیں جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے مزید کہا یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والے نظام میں لوگوں کو اپنے پیاروں کے غم میں شریک ہونے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ زہری و گردنواح میں گذشتہ کئی ماہ سے پاکستانی فورسز کی جانب سخت کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، جہاں گذشتہ روز پاکستانی فورسز نے بی این پی مینگل کے مقامی رہنما ء کے گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے انکے بیٹے کو قتل و دیگر کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
بی این پی نے کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کو زہری میں داخلے سے روک دیا گیا جب وہ تعزیت کے لئے جارہے تھے۔
زہری کرفیو کے دوران گذشتہ دونوں پاکستانی فورسز کے فائرنگ سے دو شہری جانبحق ہوگئے تھے، جبکہ اس سے قبل گذشتہ ماہ زہری سو ہندہ کے قریب گیارہ لاشیں ملی تھی جنھیں پاکستانی فورسز نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

















































