جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی، فوری رہائی کا مطالبہ

132

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلبہ؛ اظہر بلوچ ولد حیات، غوث بخش بلوچ ولد حیات، شہزاد بلوچ ولد شاہد، انیس بلوچ ولد عظیم، اور وسیم بلوچ ولد محمد امین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کی جانب سے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں واقع ان کی رہائش گاہ سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات تقریباً 2 بجے مذکورہ اہلکاروں نے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا۔ طلبہ کو جسمانی تشدد اور ہراساں کرنے کے بعد، پانچوں بلوچ طلبہ کو ان کے سامان سمیت زبردستی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ غیر قانونی حراست کے بعد سے ان طلبہ کا کوئی پتہ نہیں چل سکا اور ان کی موجودہ صورتحال نامعلوم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی جامعہ کراچی کے ایم فل کے طالب علم خلیل بلوچ کو یونیورسٹی کی حدود سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور واقعے میں حب ڈگری کالج سے بی ایس کیمسٹری کے فارغ التحصیل طالب علم زبیر بلوچ ولد نور محمد کو حب سے اس وقت لاپتہ کیا گیا جب وہ اپنے خلاف فورتھ شیڈول کیس کی سماعت کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اظہر بلوچ کا تعلق گوادر سے ہے اور وہ جنرل ہسٹری کے طالب علم ہیں، جبکہ ان کے بھائی غوث بخش بلوچ بی ایس اکنامکس کے طالب علم ہیں۔ شہزاد بلوچ، جو گوادر کے رہائشی ہیں، ماحولیاتی علوم کے طالب علم ہیں۔ انیس بلوچ، جن کا تعلق نوشکی سے ہے، بی ایس فلسفہ کے طالب علم ہیں، جبکہ وسیم بلوچ، جو قلات کے رہائشی ہیں، جامعہ کراچی میں بی ایس پولیٹیکل سائنس کے طالب علم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام افراد جامعہ کراچی کے باقاعدہ طلبہ ہیں، جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے آبائی علاقوں سے نکلے تھے، لیکن بدقسمتی سے مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار بن گئے۔ جامعہ کراچی کے اندر اور اس کے گردونواح میں طلبہ کو نشانہ بنانا اور اغوا کرنا ایک نہایت تشویشناک معاملہ ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف بلوچ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انہیں شدید ذہنی اذیت اور صدمے سے بھی دوچار کرتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ اس سنگین رویے کو فوری طور پر روکا جائے، تمام سات بلوچ طلبہ کو بحفاظت فوری طور پر رہا کیا جائے، اور تمام بلوچ طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔