یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 9 اگست کی صبح 10:00 کے قریب کوئٹہ کے علاقے ڈغاری کراس میں ریاستی مخبر نصراللہ جتوئی ولد حکیم کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔
تنظیم کے مطابق مذکورہ شخص گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی خفیہ و ریاستی اداروں کے لیے کام کررہا تھا اور سی ٹی ڈی سے بھی وابستہ رہا، اس دوران متعدد بلوچ نوجوانوں کی گرفتاری اور مختلف مواقع پر بلوچ آزادی پسندوں کی نشاندہی میں کردار ادا کرتا رہا۔
مزار بلوچ کے مطابق 11 اگست کو سبی کے علاقے بختیار آباد ڈومکی کے قریب ڈیرہ مراد جمالی سے سبی جانے والی مین ٹرانسمیشن لائن کے ٹاور کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا جس کے نتیجے میں اوچ پاور پلانٹ ڈیرہ مراد جمالی سے سبی گرڈ اسٹیشن کو بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی۔
یو بی اے ترجمان کے مطابق 13 اگست کے شب دو مختلف کاروائیوں میں بولان N-65 قومی شاہراہ پر واقع کمبڑی پل کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا جس کے نتیجے میں پل کو شدید نقصان پہنچا جس سے ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔
انہوں نے مزید کہا 13 اگست کی شب 9:50 کے قریب ایک اور کاروائی میں ضلع کچھی کے مرکزی شہر ڈھاڈر سنی روڈ پر واقع دوپاسی پل کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پل کے ایک بڑے حصہ کو شدید نقصان پہنچا پل تباہ ہونے سے ڈھاڈر اور سنی کے درمیان آمدورفت معطل ہوگئی۔
مزار بلوچ کے مطابق ان کارروائیوں سے دشمن کی لاجسٹک سپلائی، نقل و حرکت اور فوجی رسد کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، مذکورہ پل قابض پاکستانی فوج کے لیے روزانہ فوجی سامان کی ترسیل، اہلکاروں کی نقل و حرکت اور آپریشنل سرگرمیوں کے لیے ایک اہم گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
انہوں نے آخر میں کہا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری ہماری تنظیم یو بی اے قبول کرتی ہے، ہمارے اس طرح کے حملے آزاد بلوچستان کے حصول تک جاری رہیں گے۔












































