بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6320ویں روز بھی جاری رہا۔
قاضی محمد عمر نیچاری، خدائیداد اور محمد سدیس کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنے لاپتہ پیاروں کی جبری گمشدگی سے متعلق کوائف وی بی ایم پی کے پاس جمع کرائے۔
قاضی سید خان نے بتایا کہ ان کے بھائی قاضی محمد عمر نیچاری کو سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے 29 اور 30 جولائی کی درمیانی شب کلی نیو نیچاری، سمنگلی روڑ، سوئی گیس آفس کے قریب، کوئٹہ میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ان کے مطابق قاضی محمد عمر نیچاری کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
بی بی روبینہ نے بتایا کہ ان کے بھائی خدائیداد ولد خیراللہ کو ریاستی اداروں کے مسلح اہلکاروں نے 20 جون کو سہ پہر تین بجے مبارک ہوٹل، ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب، کوئٹہ سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
محمد اشرف نے وی بی ایم پی کو بتایا کہ ان کے بیٹے محمد سدیس کو سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے تین بجے مدرسہ روڑ، محلہ لانگو آباد، کلی اسماعیل، کوئٹہ میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد سے انہیں اپنے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے قاضی سید خان نیچاری، بی بی روبینہ اور محمد اشرف کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیمی سطح پر قاضی محمد عمر نیچاری، خدائیداد اور محمد سدیس کے کیسز لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ قاضی محمد عمر نیچاری، خدائیداد اور محمد سدیس سمیت دیگر لاپتہ افراد کو فوری طور پر باحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

















































