چاغی: پاکستانی فورسز کے دو اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق ہوگئی

1

بلوچستان کے ضلع چاغی میں ہونے والے ایک مسلح حملے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، حملے میں دو اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

گذشتہ روز چاغی، دالبندین میں چارسر کے مقام پر تجارتی شاہراہ کوئٹہ تفتان روٹ پر مسلح افراد نے تجارتی گاڑیوں اور فورسز کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا جس میں متعدد تجارتی گاڑیوں سمیت فورسز پر براہ راست حملے کی زد میں آئیں۔

سوشل میڈیا پر وائل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تجارتی شاہراہ پر گاڑیوں کا قافلہ رک چکا ہے جبکہ ایک ڈرائیور بتا رہا ہے کہ شدید فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حملے میں ہلاک پاکستانی فوج کے دو اہلکاروں کی شناخت نائک اختر اور سپاہی وقاص کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ وہ 35FF یونٹ سے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرچکی ہے۔ گذشتہ روز جیئند بلوچ نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نوشکی، قلات، خاران، واشک، زہری اور چاغی میں مزید 8 مختلف کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان کارروائیوں کی مکمل تفصیلات بی ایل اے کے آنے والے ہفتہ وار بیان میں جاری کی جائیں گی۔

جیئند بلوچ نے ایک اور تفصیلی بیان میں کہا کہ لوچ لبریشن آرمی یہ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار، نوآبادیاتی استحصالی منصوبوں اور قابض فوج کی عسکری نقل و حرکت کے خلاف ‘معاشی ناکہ بندی’ کی پالیسی پوری سختی سے نافذ رہے گی۔ بلوچستان کی تمام اہم تجارتی ومعاشی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا، اور قابض فوج کے معاشی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والی تمام گاڑیوں ومنصوبوں کو ہدف بنایا جاتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح زامران اور اس کے ملحقہ علاقوں میں قابض فوج کے لیئے راشن اور لاجسٹک سامان کی نقل وحمل پر عائد پابندی بدستور برقرار ہے۔ تمام مقامی ڈرائیوروں، ٹھیکیداروں اور تاجروں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ قابض فوج کو راشن یا کسی بھی قسم کی امداد کی فراہمی سے مکمل طور پر گریز کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ہونے والے تمام جانی ومالی نقصان کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر خود عائد ہوگی۔ سرمچار قومی آزادی کے ہدف تک اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔