20 اگست سے جڑی یادیں – کاکا انور

17

20 اگست سے جڑی یادیں

تحریر: کاکا انور

دی بلوچستان پوسٹ

20 اگست بہت سارے لوگوں کے لیے شاید ایک عام دن جیسا ہو، مگر میرے لیے وہ میری زندگی کا سب سے اہم دن ہے۔ یہ وہی دن ہے جب میری جان، میرا لختِ جگر، میرے دل کا ٹکڑا سربلند جان ہم سب سے جسمانی طور پر الگ ہو گیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وطن پر قربان ہو گیا۔ یہ وہ دن ہے جس نے مجھے میرے بچے سے ایک شناخت دی، ایک ایسی شناخت جو مجھے مرتے دم تک میرا سر فخر سے بلند رکھے گی۔

اگر میں کہوں کہ سربلند کی شہادت سے میں نے درد اور اذیت کے بدترین لمحات محسوس نہیں کیے تو شاید یہ ایک باپ کی حیثیت سے جھوٹ ہوگا۔ جب اس کا لختِ جگر اس جوانی میں اسے چھوڑ جائے تو وہ تکلیف محسوس نہ کرے، یہ ممکن نہیں۔ لیکن جب انسان ہوش سنبھالتا ہے اور اپنی عام زندگی میں آ جاتا ہے تو یہ اس کی زندگی کا نایاب ترین لمحہ بن جاتا ہے کہ اس کے بیٹے نے اس کا نام اور سر بلند رکھا ہے، اور مجھ جیسے ایک عام اور کمزور دل انسان کو سربلند جیسے عظیم بیٹے کے باپ ہونے کا اعزاز ملا ہے۔

سربلند کی قربانی نے میرے دل کو مضبوط بنا کر سوچ کو ایک وسیع نظریہ دیا کہ وطن سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور وطن پر شہادت ایک ایسا اعزاز ہے جو شاید ہی کچھ خوش نصیب انسانوں کو ملتا ہے۔ میں خود کو ان خوش نصیب انسانوں میں شمار کرتا ہوں جنہیں فدائی کے باپ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

سرزمین اور بقاء کی خاطر شہادت حاصل کرنے والے اولاد کی  شہادت نے مجھے جدائی کی غم  محسوس ہونے تک نہیں دیا کیونکہ ان کی قربانی نے ہمیں ایک نئی زندگی عطا کر دی ایک ایسی زندگی جو مرتے دم تک اجتماعی طور پر وطن کے ہو گئے سرزمین کے ہو گئے اور سرزمین کی حفاظت و زندگی کو اپنا سب کچھ ماں لیا۔ قربانی دینا ایک عام بات نہیں اور سربلند جان نے عملی شکل میں خود کو قربان کرکے ثابت کیا کہ وہ ایک بہادر اور باہمت اولاد رہا ہے۔

عام طور پر ایک باپ اپنے اولاد کو راہ دکھانے، سہی اور غلط کا راستہ اختیار کرنے کا ذمہ دار اور بڑا ہوتا ہے اور ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سہی راہ دکھائیں اور انہیں زندگی کے منزل سے آگاہ کریں لیکن ہمیں ہمارے اولاد نے سبق دیا کہ غلامی کے دور میں اصل زندگی کیا ہوتی ہے اور کیسے حقیقی حالات میں جیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی جان کی قربانی سے کر ہمیں سہی راستہ دکھایا کہ ہم سب کو وطن اور قومی آزادی کے لیے قربانی دینا ہوگا۔

سربلند کی قربانیوں نے میرے بے نور گھر کو پرنوریت بخشی۔ وہ آج تک ہمارے لیے امید، حوصلے اور ہر قدم آگے بڑھ کر سوچنے کی صلاحیت کا مشعلِ راہ ہے۔ آج تک پورے خاندان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ ہماری دنیاوی زندگی کا کیا ہوا، وہ زندگی جس کے لیے ہم دن رات محنت کرکے دولت کمانے میں مصروف اور مگن تھے۔ حالانکہ زندگی کا مقصد صرف کمانا اور کھانا نہیں، بلکہ اس کے اور بھی کئی مقاصد ہیں، جن سے ہم اپنی مصروف زندگی میں بے خبر تھے۔ دولت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، مگر کردار ہی وہ چیز ہے جو انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ میری کتنی ہی تمنائیں تھیں، مگر مجھے ذرا بھی افسوس نہیں ہوا کہ ان کا کیا ہوا۔ سربلند کی قربانی نے ہمیں یہ سکھایا کہ زندگی کی اصل قدر دولت میں نہیں، بلکہ کردار، مقصد اور ان اصولوں میں ہے جن کے لیے انسان اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے۔

آج بلوچ کو اپنی بلوچ بہادری پر ناز کرنے والوں کے سامنے ایک امتحان آن پڑا ہے۔ جنگ جاری ہے، اور ہر بلوچ کو اپنی ماں سرزمین کا حق ادا کرنے کا ایک موقع میسر آ چکا ہے۔ اس مشکل وقت میں اپنا سب کچھ قوم، وطن اور بقا کی خاطر قربان کرنا بلوچ پر فرض ہے۔ہمیں سربلند ہونا ہوگا۔ سربلند جیسی سوچ رکھنے والے لوگ با مقصد زندگی کو امر بنا دیتے ہیں۔ استاد جیسی شخصیت نے اپنے بچوں سمیت اپنی سرزمین پر فدا ہو کر خود کو امر کر دیا۔

بلوچستان کی سلامتی اور بلوچ قوم کی بقا کے لیے اس جدوجہد میں شامل ہونا ایک خوشحال مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ بلوچ ماں، بہن، بھائی، بچے اور بزرگ، سب اگر وطن کے لیے اپنا کردار ادا کریں تو وطن کی آزادی ہمارا مقدر بن سکتی ہے، اور ہمارے شہداء کی قربانیاں نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پوری بلوچ قوم کے لیے دنیا میں سربلندی کا باعث بنیں گی۔

میں سربلند عمر جان کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں اور وطن کی خاطر ان کی شہادت پر سرخ سلام پیش کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ان تمام شہداء کو بھی سرخ سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اپنے مادرِ وطن کے لیے اپنا لہو نچھاور کرکے خود کو امر کر دیا اور ان تمام شہداء کے والدین، قبلہ و محترم، کو والدینِ شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کے بیٹوں نے اپنی سرزمین اور قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آپ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔