بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں پانچ افراد کے جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گوادر سے جبری گمشدگی کا شکار دو افراد تقریباً ایک ماہ بعد بازیاب ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کیچ کے علاقے بلیدہ سے 6 اگست 2026 کی صبح پاکستانی فورسز، ایف سی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں نے تین افراد کو ان کے گھروں سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ لاپتہ ہونے والوں میں 18 سالہ یاسر ولد حاجی نیک سال، 20 سالہ شے حق ولد بشیر احمد اور 24 سالہ سیف اللہ ولد ظہور احمد شامل ہیں۔
یاسر اور سیف اللہ کا تعلق بلیدہ کے علاقے کورپشت سے ہے، جبکہ شے حق بلیدہ کے علاقے ڈمبانی کا رہائشی اور طالب علم ہے۔ تینوں کو 6 اگست کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے موسیٰ کالونی، سریاب سے بھی دو افراد کی جبری گمشدگی رپورٹ ہوئی ہے۔ 19 سالہ مزمل ولد عبدالماجد کو 28 جولائی 2026 کی صبح تقریباً چار بجے ان کے گھر سے، جبکہ 17 سالہ جلیل ولد سلیم کو 7 اگست کی صبح تقریباً چھ بجے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔ دونوں کو سی ٹی ڈی اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔
ادھر گوادر کے علاقے پانوان جیونی سے 11 جولائی 2026 کو جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے دو افراد محمد بلوچ ولد حبش اور اعظم بلوچ ولد احمد 7 اگست کو بازیاب ہوگئے ہیں۔ دونوں کو ان کے آبائی علاقے پانوان جیونی، گوادر سے بازیاب کیا گیا۔


















































