جنگِ آزادی اور قومی یکجہتی – نوک آپ بلوچ

1

جنگِ آزادی اور قومی یکجہتی

تحریر: نوک آپ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہم نے ہمیشہ تاریخ کی کتابوں اور مختلف رسائل میں پڑھا ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ظلم، جبر اور قابض سامراجی طاقتوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، تو اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کا اتحاد، استقامت اور قومی یکجہتی تھی۔ ان قوموں نے رنگ، نسل، ذات پات، زبان اور علاقائی امتیاز سے بالاتر ہو کر اپنے مشترکہ مقصد کو مقدم رکھا اور ایک قوم بن کر جدوجہد کی۔

آج اکیسویں صدی میں، جب پوری دنیا ترقی، علم اور نئی ایجادات کی راہ پر گامزن ہے، بلوچ قوم کو جبراً غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی سرزمین، حقِ حاکمیت اور اپنے قومی ورثے کا دعویٰ نہ کر سکے۔

یہ غلامی صرف زمین، وسائل اور جغرافیے پر قبضے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی ظالمانہ اور سفاک ریاستی پالیسی کا تسلسل ہے جس کی بنیاد بلوچ وسائل کی لوٹ مار، سیاسی و معاشی استحصال اور بلوچ نسل کشی پر استوار ہے۔ اس جبر کا مقصد صرف زمین پر قبضہ کرنا نہیں، بلکہ ایک قوم کی شناخت، تاریخ، ثقافت اور آزادی کے جذبے کو بھی مٹانے کی کوشش کرنا ہے۔

قومی یکجہتی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر فرد ایک ہی انداز میں سوچے یا ہر رائے ایک جیسی ہو۔ اختلافِ رائے ہر زندہ اور باشعور قوم کی پہچان ہوتی ہے، لیکن جب مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی قومی مقصد، انقلابی فکر اور آزادی کے مقصد پر یکجا ہو جائیں، تو یہی حقیقی قومی یکجہتی کی علامت ہوتی ہے۔

ایسے لوگ محض ایک قوم کے افراد نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک ہی شعور کے مختلف پیکر بن جاتے ہیں۔ ان کی سوچ کا محور ایک ہوتا ہے، ان کے احساسات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان کے عمل کا رخ بھی ایک ہی منزل کی طرف ہوتا ہے۔ جب دل ایک مقصد کے لیے دھڑکیں اور ارادے ایک خواب کی تعبیر بن جائیں، تو پھر زبان، نسل اور جغرافیے کی تمام حدیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔

بلوچ قومی جدوجہد انسانی نفسیات، مزاحمت اور قومی شعور کے حوالے سے دنیا کے سامنے کئی نئے پہلو اجاگر کر رہی ہے۔ یہ جدوجہد ایک ایسی قوم کی انقلابی فکر، اجتماعی شعور اور آزادی سے وابستگی کو نمایاں کرتی ہے جو ہر آزمائش کے باوجود اپنے نظریے پر قائم ہے۔

جنگ یقیناً محض ہتھیاروں کا تصادم نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک ارادے اور ایک مقصد کا اظہار بھی ہوتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ کا ارتقائی سفر اُس وقت شروع ہوا جب ایک انسان نے دوسرے انسان پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوچ سلطنتوں، ریاستوں اور منظم افواج کی صورت اختیار کرتی گئی، تاہم بلوچ قومی مزاحمت نے جنگ کو اپنے وطن سے عشق کا نام دیا ہے۔

بلوچستان کی سرزمین پر ایک تاریخی قوم آباد ہے جو شاید اس خطے میں انسانی تہذیب کی سب سے معتبر تاریخ کی مالک ہے؛ ایک ایسی تہذیب جس نے ہمیں یہ سکھایا کہ عظمت صرف بلند محلات، وسیع سلطنتوں اور جنگی فتوحات کا نام نہیں۔ کبھی کبھی اصل عظمت اس بات میں ہوتی ہے کہ انسان ہزاروں سال پہلے بھی شہر بساتا ہے، راستے بناتا ہے، پانی کو محفوظ کرتا ہے اور اجتماعی زندگی کو نظم و ضبط عطا کرتا ہے۔

ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بلوچ قوم اپنی تہذیب کی حفاظت بخوبی جانتی ہے۔ اپنے قومی وقار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پچھلے ستر سال سے یہ قوم مزاحمت کر رہی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ شدید ہوتی جا رہی ہے۔ بلوچ اپنے قومی ہیروز کو صدیوں گزرنے کے بعد بھی فراموش نہیں کرتی، ان کا احترام کرتی ہے۔ ان کی شہادت کے دن ان کی قومی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ بلوچ قوم اپنے شہداء اور جہدکار مرحومین کو دنیا کی ہر قیمتی چیز سے زیادہ مقدس سمجھتی ہے۔

جب بلوچ قومی جدوجہد کے ابتدائی اور کٹھن ادوار میں میر یوسف عزیز مگسی، میر عبدالعزیز کرد، بابو عبدالکریم شورش اور دیگر رہنماؤں نے اس شعور کی بنیاد رکھی، آج بھی بلوچ قوم ان عظیم جہدکاروں کو احترام کے ساتھ یاد کرتی ہے اور ان کی خدمات کو اپنی قومی تاریخ کا روشن باب سمجھتی ہے۔

بلوچ قوم آج تک ان عظیم جہدکاروں کو نہ بھول پائی، تو یہ کم ظرف دشمن کیا سمجھتا ہے کہ ہم اپنے فدائین، شاری، مائل، رفیق، بلال جان یا دیگر پھول جیسے جنگجوؤں کو بھولیں گے؟ یہ عوامل شاید ایک بدتہذیب اور ہیرا منڈی کی پیداوار قوم کا شیوہ ہو سکتے ہیں، مگر بلوچ قیامت تک اپنے ہر ایک شہید کو بیت المقدس سے بھی زیادہ عظیم سمجھیں گے۔

بلوچ قومی مزاحمت نے اس تاریخی اور باوقار قوم کو یکجا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ قومی آزادی کی جنگ نے بلوچ کو وسیع و عریض سرزمین میں ایسے متحد کیا ہے جس کی مماثلت ہمیں کسی بھی انقلابی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بلوچ وطن کے طول و عرض میں بسنے والے نوجوان نظریاتی طور پر مسلح جدوجہد میں ایک پرچم کے تلے اپنی سنگلاخ پہاڑوں کے محافظ بنے، اپنی قومی جنگِ آزادی پر کاربند ہیں۔

آپ ہمیشہ دیکھیں گے کہ جب بھی مسلح تنظیموں کی جانب سے بیان جاری کیے جاتے ہیں، جن میں وہ اپنے شہداء کی پروفائل تصاویر اور دیگر تفصیلات جاری کرتے ہیں، وہاں ایک چیز نہایت ہی تعجب خیز ہوتی ہے کہ ایک ہی محاذ پر بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مختلف زبانیں بولنے والے جنگجو ساتھ لڑ رہے ہیں، جو محبت اور بھائی چارے کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔

اس چالاک اور منافق ریاست نے روزِ اول سے اسی پروپیگنڈے پر کام کیا ہے کہ کیسے بلوچ کو ذات، پات، زبان اور دیگر روایتی عوامل کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ کبھی براہوئی، بلوچ کا تضاد، تو کبھی زگری و نمازی کا تضاد۔ پچھلے ادوار میں وہ کافی حد تک ان منفی حرکات و افعال میں کامیاب ہوتی رہی اور ہماری قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے میں اس کے ساتھ کئی قومی غداروں نے اپنا کردار ادا کیا، جو تاریخ کا حصہ ہیں۔

بلوچ قومی مزاحمت جو کہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جیسے کسی بھی مسلمان پر فرض ہے کہ صاحبِ ایمان ہونے کے بعد وہ سب سے پہلے توحید کو اپنے ایمان کا پہلا رکن سمجھے، اسی طرح ایک بلوچ فرزند اس جنگ کو اپنے ایمان کا سب سے اہم اور اولین رکن سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچ فرزند، جو کسی بھی رنگ، زبان یا نسل سے تعلق رکھتا ہے یا دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتا ہے، وہ اپنی قومی جنگِ آزادی کو اپنا مقدس قومی فریضہ سمجھتا ہے۔

بلوچ قومی مزاحمت اور مسلح جدوجہدِ آزادی نے ہمیں ایک دوسرے سے ایسے جوڑا ہے کہ اب اگر مکران میں محاذ پر لڑتے ہوئے دو بلوچ جوان شہید ہوتے ہیں، جن میں سے ایک رخشان اور دوسرا جھالاوان یا ساروان سے تعلق رکھتا ہو، مگر مکران کی مہربان مائیں ان کو اپنے لختِ جگر کا ٹکڑا سمجھ کر اپنے گھروں میں ان کے لیے آہ و زاری کرتی ہیں، فخر سے ان شہداء کا نام اپنے بچوں پر رکھتی ہیں اور وہاں کی زمین اپنے بلوچ فرزندوں کو اپنے سینے میں ایسی جگہ دیتی ہے جیسے وہ اس کے اٹوٹ انگ ہوں۔

میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ کو ایک ساتھ متحد کرنے میں جو کردار مسلح جدوجہد نے ادا کیا ہے، وہ کبھی بھی ہم روایتی طریقوں سے نہیں کر پاتے۔ یہ غاصب ریاست ہمیں دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر ختم کر دیتی۔ آج بلوچ اپنے حقِ حاکمیت پر مکمل عبور حاصل کر چکا ہے، اپنے خطے کے ایک ایک کونے کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے اور پوری دنیا کو ڈٹ کر یہ پیغام دے رہا ہے کہ میں اپنے وطن کا واحد مالک ہوں۔

یہ سرزمین بلوچ قوم کی ملکیت ہے اور بلوچ کی مرضی کے بغیر تم یہاں سے ایک پتھر بھی نہیں لے جا سکتے۔ آج تمہاری ساری طاقت جواب دے چکی ہے، تمہارے ایٹمی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، تم اپنی فوجی بیرکوں سے نہیں نکل سکتے۔

اس مقدس جنگِ آزادی نے ہمیں ایسے متحد کیا ہے کہ اب ہم دنیا کی کسی بھی طاقت کو للکار سکتے ہیں۔ اب ہم قومی سطح پر یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اگر اپنی پوری نسل کی قربانی بھی دینی پڑی، تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے، مگر اصولِ آزادی سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

ہماری آنے والی نسلیں اس جنگ کو لڑیں گی۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر ایک بلوچ فرزند باقی رہتا ہو، تو وہ ضرور شہداء کی مدفون ہڈیوں کی وارثی کرنے واپس لوٹے گا، اپنے سنگلاخ پہاڑوں کا محاذ سنبھالے گا اور رہتی دنیا تک تمہیں ایک عبرت کا نشان بنا کر چھوڑے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔