جبری گمشدگی کے شکار افراد کے گھروں کو مسمار کرنا ریاستی جبر کی انتہا ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی

31

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم جیونی کے رہائشی اصغر علی کی جبری گمشدگی کے بعد ان کے خاندان کے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ایک نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کرنا ہی کافی نہیں سمجھا گیا، بلکہ اس کے اہلِ خانہ کو بھی مسلسل ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گھروں پر بار بار چھاپے مارنا، اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا، جبری دباؤ کے ذریعے بیانات دلوانا، اور بالآخر بھاری مشینری کے ذریعے گھروں کو مسمار کرنا بلوچ نسل کشی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کے ہر فرد کو سزا دینا اور بلوچ معاشرے کو اجتماعی اذیت اور کرب سے دوچار کرنا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ جیونی میں جبری گمشدگی کے شکار اصغر علی کے خاندان کے علاوہ دیگر رہائشیوں، رضوان رشید، علی اصغر ، غلام نبی جعفر ، یار جان ، محمد جان، اور غنی جعفر کے گھروں کو بھی مسمار کیا گیا۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اجتماعی سزا کو باقاعدہ ریاستی پالیسی کے طور پر نافذ کیا جا چکا ہے۔ کسی بھی عام شہری کو بغیر کسی قانونی جواز اور عدالتی حکم کے گھر سے زبردستی بے دخل کرنا، اہلِ خانہ کو تپتی دھوپ میں کھڑا کرنا، اور ان کے سامنے ان کا گھر مسمار کر دینا بدترین ریاستی جبر کی مثال ہے۔ بلوچ سرزمین کو بلوچوں کے لیے تنگ کر دینا بلوچ نسل کشی کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی ماہ سے بلوچستان میں ریاستی فورسز کی جانب سے گھروں کو جلانے، توڑنے، بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کرنے اور لوٹ مار کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی سے لے کر تمپ کوہاڑ تک، اور جیونی سے لے کر دشتِ مستونگ تک، بلوچوں کی جان و مال محفوظ نہیں رہی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات ریاست کے اپنے آئین اور قوانین کی رو سے بھی غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔ ریاست کے پاس ان اقدامات کے لیے نہ کوئی اخلاقی جواز موجود ہے اور نہ ہی کوئی قانونی بنیاد۔ اس کے برعکس، ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز، بالخصوص ایف سی، کے ہاتھوں سرزد ہو رہے ہیں، جبکہ ملک کا کوئی ادارہ یا سیاسی جماعت ان جرائم کے خلاف مؤثر آواز اٹھانے کی جرأت نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہاکہ جبری گمشدگی کے شکار اصغر علی، رضوان رشید، علی اصغر ، غلام نبی جعفر ، یار جان ، محمد جان، غنی جعفر اور دیگر بلوچوں کے گھروں کو مسمار کرنا ریاستی بربریت کی ایک سنگین مثال ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو متوجہ کرتی ہے کہ جب تک ریاستِ پاکستان کو ان اقدامات پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، تب تک ریاست پاکستان بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے گی۔