کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 6329ویں روز جاری، شاہد کرد اور نور محمد کرد کے لواحقین کی شرکت

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6329ویں روز بھی جاری رہا۔

رواں سال 8 اپریل کو کلی خلی، مغربی بائی پاس، کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لاپتہ پیاروں کے کیسز کمیشن میں زیرِ سماعت ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے کئی بار رابطہ کیا جا چکا ہے، تاہم تاحال انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث وہ شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہیں۔

لواحقین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد کے بارے میں معلومات فراہم کرکے انہیں اس کرب اور اذیت سے نجات دلائی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاہد احمد کرد اور نور محمد کرد سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ اگر کسی لاپتہ شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔