لُمہ ناز بی بی اور اُم موسیٰ – سنگت ھانلی

15

لُمہ ناز بی بی اور اُم موسیٰ

تحریر: سنگت ھانلی

دی بلوچستان پوسٹ

جب میں نے آپ کو دور سے دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے آپ اپنے بچے کو گلے سے لگائی ہوئی ہیں۔ مگر یہ… یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ قرآن مجید؟ تو پھر آپ کا بچہ کہاں ہے، لُمّہ؟ آپ کے سینے سے لگنے کا حق تو اُس کا تھا نا؟ یہ سبز غلاف اور تصویر اُس کی جگہ کیسے آ گیے؟ آصف کہاں ہیں لُمّہ؟ آپ کس دروازے پر جا رہی ہیں؟ کس سے اپنے بچے کا پتا پوچھیں گی؟ کتنی بار یہ تصویر اپنے سینے سے لگائیں گی؟

عجیب بات ہے، انسان جن چیزوں سے محبت کرتا ہے، آخرکار اُنہیں اپنے سینے سے لگا لیتا ہے۔ کوئی اپنے محبوب کو، کوئی ماں باپ کو، اور کوئی اپنے بچے کی آخری تصویر کو، لُمہ آپ نے آج خدا کے کلام کو ہمراہ لے لیا تاکہ آپ کا بچہ آپ کو مل سکے۔ بلاشبہ اس دنیا میں قران سے زیادہ محفوظ تو کوئی کتاب نہیں۔ صدیوں سے لاکھوں سینوں نے اسے لفظ بہ لفظ یاد رکھا، ہر حرف گنا گیا، ہر زیر و زبر کی حفاظت کی گئی، تاکہ اس کا ایک لفظ بھی بدل نہ سکے۔

مگر المیہ دیکھیے، لُمّہ۔ آپ کے ایک ہاتھ میں دنیا کی سب سے زیادہ محفوظ کتاب ہے، اور دوسرے ہاتھ میں ایک ایسے بیٹے کی تصویر جس کی آخری خبر تک محفوظ نہ رہ سکی۔ قرآن کے ہر حرف کا حافظ مل جاتا ہے، مگر آصف کی آخری ساعت، آخری مقام، آخری خبر، آخری نشان… کسی نے محفوظ نہ رکھا۔ یوں آپ کے دونوں ہاتھ ایک ہی وقت میں اس سرزمین کی دو حقیقتیں اٹھائے ہوئے ہیں؛ ایک وہ جس کی حفاظت کے لیے لاکھوں فرشتے موجود ہیں، اور ایک وہ جس کی خبر محفوظ رکھنے والا ایک صحافی تک نہیں۔

یہ قرآن جو بلوچ مائیں اٹھاتی ہیں، اسی نے اُن کی کیفیت کو چودہ سو سال پہلے صرف ایک لفظ میں بیان کر دیا تھا۔
فَارِغًا
میرے نزدیک اس لفظ کا پورا حق نہ اردو ادا کر سکتی ہے، نہ عربی کے علاوہ کوئی اور زبان۔
انگریزی میں کسی حد تک اس کا مطلب tunnelled, hollowed, scraped لکھا جاسکتا ہے۔
کسی چیز کو اندر سے کھرچ کر، اس کا سارا وجود نکال کر، اُسے بالکل خالی کر دینا ہے۔

جب اُمِّ موسیٰ نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے بچے کو ظالم کے خوف سے دریائے نیل کے حوالے کیا، تو خدا نے عربی جیسی وسیع زبان میں اُن کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے یہی ایک لفظ چنا۔۔
scraped out
یعنی ہر چیز سے فارغ۔ اپنی ذات سے فارغ، اپنی سلامتی سے فارغ، روزمرہ کی ضرورتوں سے فارغ، چھوٹی بڑی تکلیفوں سے فارغ۔ دل سے سب کچھ نکال دیا جائے اور اُس میں صرف ایک ہی چیز بھر دی جائے۔

بچے کا غم۔

اسی فراغت کو ۱۹۶۰ کی دہائی میں امریکی ماہرِ نفسیات اور فیملی تھیراپسٹ Pauline Boss نے اپنے ریسرچ میں ambiguous loss کا نام دیا۔ یعنی ایسا نقصان جو واضح نہ ہو، ایسا غم جو مکمل نہ ہو۔ بوس کے نزدیک دنیا کا سب سے اذیت ناک غم واضح موت سے بچڑ جانا نہیں، بلکہ اس کا لاپتہ ہو جانا ہے۔ موت کے بعد انسان سوگ مناتا ہے، قبر پر جاتا ہے، آہستہ آہستہ حقیقت کو قبول کرنا سیکھ لیتا ہے۔ مگر جب کوئی انسان نہ زندہ قرار دیا جائے، نہ مردہ، تو ذہن سوگ کے عمل کو مکمل پراسیس ہی نہیں کر پاتا۔

جولائی کے وسط میں آصف کو اٹھایا جاتا ہے اور اگلے ہی دن اُسکی ماں تپتے خضدار میں آصف کو تلاش کرنے نکل جاتیں ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اُن میں کچھ بھی بے ترتیب نہیں۔ لُمّہ کا دوپٹہ سلیقے سے سر پر جما ہوا ہے، کپڑوں پر کڑھائی سلیقے سے سلی ہوئی ہے، تصویر پلاسٹک میں صاف طریقے سے لیمینیٹ کی گئی ہے، اور یہی سب سے ڈراؤنی بات ہے۔ ایک ماں جس کا بیٹا لاپتہ ہو، اسے تو بال نوچنے چاہییں، زمین پر گرنا چاہیے، چیخنا چاہیے۔ کیا یہ حکم بذات خود ایک تضاد نہیں کہ ایک ماں کو کہا جا ئے کہ وہ اپنے جوان بچے کی گمشدگی کے بعد بھی تسلی سے رئے۔؟

اجازتِ ماتم کے باوجود آج بلوچ مائیں مسکرا کر، سلیقے سے نکلتی ہیں، احتجاج کرتی ہیں اور امن سے اپنے بچے مانگتی ہیں۔ صفتِ ہاجرہؑ اپنے اسماعیلؑ کے لیے صفا سے مروہ تک، سڑکوں سے پریس کلبوں تک، گھروں سے دھرنوں تک آتی جاتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ اُنہیں اپنے بچے کی کوئی صورت مل جائے۔ چاہے اس کے لیے اُنہیں اماں ہوری کی طرح تیرہ سال کی جدوجہد کے بعد موت کو گلے لگانا پڑے، یا اماں راج بی بی کی طرح سترہ سال گزر جانے کے بعد بھی اسی جدوجہد کو جاری رکھنا پڑے۔

دھرنوں میں اٹھائے گئے اُن پلاسٹک کے پوسٹرز اور تصویروں کو پار کرتے ہوئے اگر زندانوں کی ٹھنڈی کوٹھڑیوں تک پہنچا جائے، تو وہاں بھی ہر طرف آصف لُمّہ ناز بی بی کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنے خون سے لتھڑے جسم کو گھسیٹتے ہوئے وہ زندان کے دروازے تک آنے کی کوشش کرتے ہیں، اس امید پر کہ شاید ابھی جو آواز آئی، وہ اُن کی ماں کی تھی۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کبھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جو خوشبو ابھی ہوا کے ساتھ اندر آئی ہے، وہ اُسی دوپٹے کی ہے جو اُن کی ماں اوڑھا کرتی تھی۔ ہر زندان میں ایک آصف یہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ میری لُمّہ ناز بی بی، جو میرے رات کو ذرا سی دیر سے گھر آنے پر بھی پریشان ہو جایا کرتی تھی، آج میرے ہفتوں، مہینوں، بلکہ برسوں سے گھر نہ لوٹنے پر کس حال میں ہوگی۔ کیا میرا غم اُس کی آنکھوں کی بینائی چھین چکا ہوگا؟ کیا انتظار نے اُس کی کمر جھکا دی ہوگی؟ یا وہ آج بھی میری تصویر سینے سے لگائے، اسی امید کے ساتھ کسی سڑک پر میرا انتظار کر رہی ہوگی کہ شاید اگلا احتجاج اُسے اُس کے آصف تک پہنچا دے۔

زندانوں کے دوسری جانب لُمّہ ناز بی بی اپنے لرزتے ہاتھوں میں تھامی اپنے بچے کی تصویر کو دیکھتی ہوں گی اور یہی سوچتی ہوں گی کہ کیا میرا آصف کبھی واپس آ پائے گا؟ یا انتظار میری آنکھوں کی بینائی چھینتی رہے گی، میری کمر جھکاتی رہے گی، اور میری زندگی کے باقی ماندہ سال انہی سڑکوں، انہی دھرنوں اور انہی تصویروں کے ساتھ گزرتے رہیں گے؟ کیا وہی خدا جس نے یوسفؑ کو یعقوبؑ سے ملوایا، موسیٰؑ کو دوبارہ اُس کی ماں کی آغوش میں لوٹا دیا، وہی خدا ایک دن ہزاروں لُمّہ ناز بی بیوں کو بھی اُن کے آصف واپس لوٹائے گا؟ وہ رب جس نے اپنے کلام میں موسیٰ ماں کے غم کو جگہ دی، اور اُس کی آنکھوں کے لیے تسلی لکھی، کیا اُس نے اُن ماؤں کے لیے بھی کوئی تسلی محفوظ رکھی ہے جو آج بھی قرآن کو سینے سے لگائے اپنے بچوں کی راہ تک رہی ہیں؟ اگر اُس نے غم کو بیان کیا ہے، تو کیا اُس نے اُس غم کا مداوا بھی کہیں لکھ رکھا ہے؟

وہی خدا جس نے اُمِّ موسیٰ کے دل کو فَارِغًا کر دیا تھا، وہی خدا اُس دل کے لیے قُرَّةَ عَيْنٍ بھی مقدر کرتا ہے۔
خدا کہتا ہے کہ پھر ہم نے اسے اُس کی ماں کی طرف واپس لوٹا دیا تاکہ اُس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور وہ غم نہ کرے۔
مگر یہاں ایک اور گہرا تضاد جنم لیتا ہے۔ اُمِّ موسیٰ کو کم از کم یہ یقین تھا کہ اُن کا بیٹا زندہ ہے، اگرچہ اُن کی آغوش سے دور ہے۔ بلوچ ماؤں سے تو یہ یقین بھی چھین لیا گیا ہے۔ وہ نہیں جانتیں اُن کا بیٹا کس زندان میں ہے، کس حالت میں ہے۔ اُن کا امتحان جدائی کے ساتھ، لاعلمی کا بھی ہے؛ اور لاعلمی غم کی سب سے بے رحم صورت ہے۔

پھر بھی عجیب بات ہے کہ خدا نے اپنی ابدی کتاب میں ایک ماں کے درد کو نظرانداز نہیں کیا۔ گویا وحی نے ایک ماں کے غم کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جتنی ایک نبی کی رسالت کو۔ پھر وہ رب اُن ماؤں کی آہوں سے کیسے صرفِ نظر کر سکتا ہے جو آج بھی قرآن کو سینے سے لگائے، اپنے بچوں کی تصویریں اٹھائے، انصاف کے دروازوں پر دستک دے رہی ہیں؟

اگر اُمِّ موسیٰ کے لیے قُرَّةُ عَيْنٍ لکھی جا سکتی ہے، تو تاریخ کا ہر فَارِغًا بھی اپنے اندر کسی نہ کسی قُرَّةِ عَيْنٍ کا امکان رکھتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔