شہید ناصر جتک عرف صدام
الفاظ سے نظریے تک
تحریر: شاموز بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
شہید ناصر جتک عرف صدام 2005ء میں زہری کے علاقے مشک سراپ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ وہ ایک ایسے خاندان میں پلے بڑھے جو ہمیشہ سے بلوچستان اور یہاں کے مظلوم لوگوں کا حامی اور قابض کے بیانیہ کی کھلی مخالفت کرتا رہا ہے، چاہے وہ ریاست کے سرکاری سرداروں کی شکل میں ہو یا کسی ریاستی پالیسی کی شکل میں۔ شہید کے خاندان کے لوگ ان چیزوں سے بخوبی واقف تھے اور ہر میدان میں انہوں نے ان پالیسیوں کی مخالفت کی ہے اور کر رہے ہیں۔ شہید خود ایک قبائلی معتبر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ شہید کی تربیت میں اسلامی تعلیمات کا ایک گہرا اثر نمایاں تھا اور چونکہ اسلام ہی تو سب سے زیادہ حق و حقوق کی بات کرنے اور باطل کو للکارنے کا سبق دیتی ہے۔ اسی وجہ سے شہید کے دل میں وطن سے محبت کے جذبات بہت گہرے تھے۔
سنگت نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول چھوڑنے کے بعد ابتدائی عرصے میں دوسرے نوجوانوں کی طرح زندگی کے مشغلوں میں مصروف ہو گئے۔ سنگت ناصر کو بلوچستان کے بدلتے حالات اور آزادی کی جدوجہد کرنے والی تنظیم اور ساتھیوں کے بارے میں ابتدا میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ سنگت ناصر کو ان حالات کا اور اس جدوجہد کا اس وقت پتا چلا جب شہید سنگت آفتاب عرف وشین کی شہادت ہوئی۔ تب انہیں آزادی کی اس تحریک کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا اور یہیں سے سنگت کی سیاسی اور شعوری زندگی کا آغاز ہوا کیونکہ سنگت ناصر شہید وشین کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔
شہید آفتاب کی شہادت نے سنگت ناصر پر گہرا اثر ڈالا۔ جب انہوں نے شمولیت کا فیصلہ کیا تو اس سے قبل وہ شہید دلوش اور شہید دل جان بلوچ کی لازوال قربانیوں کے بارے میں پڑھ اور سن چکے تھے۔ شہیدوں کی بے مثال قربانیوں اور جدوجہد نے ان پر گہرا اثر ڈالا، جس نے ان کے اندر ایک مضبوط فکری وابستگی پیدا کی اور بالآخر ان کی شمولیت کے فیصلے کو حتمی شکل دی۔
اسی عرصے میں بلوچستان میں آزادی کی جنگ ایک تاریخی اور شدید دور میں داخل ہو چکی تھی۔ شہید آفتاب کی شہادت اور ساتھیوں کی بھرپور مزاحمت نے انہیں ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ انہیں دلیرانہ زندگی گزار کر جدوجہد کرنی چاہیے۔
ایک واقعہ جس نے شہید ناصر کی سوچ اور فکر کو حتمی فیصلے کی شکل دی۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ ہم زہری گئے تھے۔ بازار میں شہید ناصر اور کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ دوستوں نے ہمیں مشک سراپ آنے کی دعوت دی۔ میرے ساتھ ایک دوست بھی تھا۔ ہم نے انہیں رخصت کیا اور کہا کہ شام کو ہم آپ لوگوں کے پاس ضرور چکر لگائیں گے۔ جب ہم شام کو سرآپ کی جانب نکلے تو ایک دوست سے رابطہ کیا، مگر دوست نے ہمیں وہاں آنے سے منع کر دیا۔ ہم حیران ہوئے کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ شہید ناصر ایک معمولی سی تکرار کے بعد وہاں قریب ہی ایک پہاڑ پر مورچہ بند ہیں اور فائرنگ ہو رہی ہے۔ کافی دیر بعد علاقے کے لوگوں نے سنگت کو پہاڑ سے نیچے اتارا اور معاملہ حل کیا۔ اگلے روز ہم وہاں گئے اور دوستوں سے حال احوال کیا۔ اس واقعے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ سنگت ایک جنگجو طبیعت کے مالک ہیں اور ان کے اندر غیر معمولی جوش اور جرات موجود ہے۔ اسی دوران ایک دوست نے شہید ناصر کو سمجھایا کہ اپنی صلاحیتوں اور طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کرو، اسے اپنے لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ اپنے اصل دشمن کو پہچاننے اور اس کے مقابلے میں استعمال کرو۔
اس واقعے کے دوران ایک بزرگ شخص نے یہ کارروائی دیکھی۔ بعد میں ناصر ان کے پاس گئے اور کہا:
’’دیکھو، بلوچ ایسے لڑتے ہیں۔‘‘
اس بزرگ نے جواب دیا:
’’نہ بلوچ ایسے لڑتے ہیں، نہ اپنوں پر اپنی طاقت استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بلوچ کیسے لڑتے ہیں تو اپنا رخ پہاڑوں کی طرف کرو۔‘‘
یہ الفاظ شہید ناصر کے لیے محض ایک بزرگ کی نصیحت نہیں تھے، بلکہ ان کی سوچ اور فکر کو ایک نئی سمت دینے والا پیغام ثابت ہوئے۔
شہید سنگت ناصر جب آزادی کی جنگ لڑنے والے ساتھیوں کے صفوں میں شامل ہوئے تھے تب ان سے ایک جگہ ملاقات کا موقعہ ملا تو سنگت نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ “سنگت اُس کماش کی بات یاد ہے؟ جنہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دیکھنا چاہتے ہو کہ بلوچ کیسے لڑتے ہیں تو اپنا رخ پہاڑوں کی طرف کرو۔ اس جواب نے مجھے اندر سے ہلا دیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ بزرگ ایک شہید کے والد تھے۔ ان کے اسی ایک جملے نے مجھے وہ فیصلہ لینے کی ہمت دی جس کے بارے میں میں سنگت آفتاب کی شہادت کے بعد سے سوچ رہا تھا لیکن ایسے فیصلے اس وقت لیے جا سکتے ہیں جب انسان اپنے اندر کے اس انسان کو ماردے جو آزادی صرف کھیل کود، میر و سرداروں کو جی جی، اور ہر چوک و چوراہے پر تلاشی دینے کو سمجھتا ہے۔ تو اس دن مجھے لگا اس ایک جملے نے میرے اندر کے اس ناصر کو ماردیا، جس کا گلا میں خود دبا نہیں پا رہا تھا۔ اس کے بعد میں ان قافلوں میں شامل ہوا جن کی منزل میرے اور آپ کی تصور سے بھی خوبصورت اور حسین ہے۔ وہ ایک ایسا محبوب ہے جس کے لیے ہزاروں عاشقوں نے قربانی دی ہے اور مجھ سمیت ہزاروں صف بند کھڑے ہیں۔ وہ محبوب آزادی ہے اور جو اس کا عاشق ہے ہم اس کے دوست، جو اس کا دشمن ہم اس کے لیے زراب۔”
2024ء میں انہوں نے خضدار کے علاقے زہری میں آزادی کی راہ میں مدغم سنگتوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ شروع میں تنظیم کی طرف سے سنگت سے کیڈر بننے کا وعدہ لے کر انہیں دوبارہ شہری سرگرمیوں میں بھیج دیا گیا۔
2025ء میں سنگت شہری نیٹ ورک سے پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ شروع میں قلات کے کوہِ ہربوئی کی سخت سردی میں سنگت نے ہربوئی کے محاذ پر رہ کر مزاحمت جاری رکھی۔ یہ دور سنگت کے لیے بڑے تجربے کا ثابت ہوا تھا اور ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اس عرصے میں تنظیم میں شہید ہونے والے ساتھیوں اور جنگ کے دوران دیکھے گئے واقعات نے ان کے اندر دشمن کے خلاف شدید غصہ پیدا کیا۔
ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں میں نے سنگت سے پوچھا کہ تنظیم میں آنے کے بعد اب آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے، سابقہ زندگی کے مقابلے میں؟
سنگت کا جواب تھا:
’’اس دور کو بیان کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔ لیکن ان شہیدوں کے ساتھ رہ کر بہت سیکھا، جو آج ہمارے درمیان موجود نہیں، اور بہت سے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ زندگی گزارنا اور ان کی کمان میں لڑنا میرے لیے دنیا بھر سے بڑھ کر تھا۔‘‘
میں نے فدائی جذبے کی عملی شکل شہید ناصر کی زندگی میں دیکھی۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ کچھ زخمی ساتھیوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے کچھ ساتھیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس واقعے نے مجھ پر جو اثر ڈالا، اسے کسی زبان کے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کر سکتے۔
شہید ناصر نے کہا کہ میں صرف اپنی عملی زندگی کے ذریعے ان ساتھیوں کے سامنے اپنی وفاداری ثابت کر سکتا ہوں۔ اسی لیے میں نے اپنی کارروائی کو ان ساتھیوں کا بدلہ لینے سے بھی جوڑا۔
پہاڑوں میں آنے کے بعد سے میری کوشش رہی کہ استاد اسلم کی فکر کے اندر رہتے ہوئے اپنی شخصیت کو سمجھوں، خود کو تربیت دوں اور شہید ساتھیوں کے مقاصد کو اپناتے ہوئے موجودہ حالات کا جواب دوں۔ اسی مقصد کے تحت میں نے خود کو پیش کیا۔
جب میری درخواست قبول کر لی گئی۔ تنظیم میں آنے کے بعد میں نے نظریاتی اور عملی طور پر خود کو گوریلا کارروائی کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی۔ موجودہ حالات، دشمن کی کارروائیاں اور جاری انقلاب میرے ضمیر کو جگانے میں مدد دیتے رہے۔
میں بی ایل اے کا ایک دیانت دار جنگجو اور مضبوط عملی کارکن بننے کے عزم پر قائم ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تنظیم کا ایک باسک بننے کے لیے محنت، صبر اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حقیقی معنوں میں فیصلہ کرنا اور اسلمی تربیت سے گزرنا ضروری ہے۔ اسی شعور کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کروں گا۔
شہید ناصر جتک کے الفاظ جو آج تک میرے ذہن میں ہیں
وہ ایک شخصیت سے بہت متاثر تھا، وہ تھا استاد اسلم۔ استاد کے بارے میں شہید ناصر کہتے تھے کہ استاد آپ نے جو قربانیاں ہمارے لیے دیں، ان کی گواہی تاریخ اور عمل خود دیتے ہیں۔ آپ نے خود کو اور اپنے لختِ جگر کو ہمارے لیے قربان کیا۔ یہ قربانیاں ہمیں گہرے دکھ میں مبتلا کرتی ہیں۔ ہم آپ کی بے پایاں محنت اور کوششوں کے مقابلے میں اپنی جان بھی دے دیں تو شاید کافی نہ ہو۔
آپ نے اپنی زندگی کے ذریعے ایک قوم کو دوبارہ تشکیل دیا۔ ہم آپ کی تخلیق ہیں۔ اس عظیم قربانی کے مقابلے میں ہم کچھ بھی کر کے اپنا قرض ادا نہیں کر سکتے۔
ہم آپ کے ساتھ وجود رکھتے ہیں اور آپ کی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور آزادی کا سفر جاری رکھیں گے۔
آپ کی محنت کا معمولی سا حق ادا کرنے کے لیے میں نے یہ سفر اور یہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس طرح سورج طلوع ہوئے بغیر دنیا روشن نہیں ہوتی، اسی طرح آزادی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ میں اکثر تصور کرتا تھا کہ میں اپنی زندگی کے سورج، اپنے رہنما سے کب ملوں گا۔ اگرچہ مجھے آپ کو جسمانی طور پر دیکھنے کا موقع نہیں ملا، لیکن مجھے یقین ہے کہ امر ہونے کے بعد آپ تک پہنچ سکوں گا۔
شہید ناصر اکثر اپنے خاندان والوں کو یاد کر کے کہتا تھا کہ جو ابھی تک میرے ذہن میں ہے، وہ کہتے تھے کہ میری ابتدائی تربیت آپ لوگوں کے ساتھ ہوئی۔ ماں، مجھے معاف کرنا، وطن کا کچھ قرض ہے، وہ ادا کرنا ہے۔ آپ ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ وطن بھی تو ماں ہے۔
میری جدوجہد کی زندگی میں ایک بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ میں آپ کو وقت نہ دے سکا۔ لیکن ایسا نہیں کہ میں نے آپ کو یاد نہیں کیا؛ میں ہر روز آپ کو یاد کرتا ہوں۔ یہ دیکھ رہا ہوں کہ ماں واقعی زندگی ہے۔ مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ میں جیسے ماں کا بیٹا اور اس جیسے محبِ وطن خاندان میں پیدا ہوا۔ آپ نے اپنی لوریوں سے مجھے جو محبِ وطنی کا شعور دیا، وہ میری زندگی کا فلسفہ بن گیا۔ آپ کے قابل بیٹا بننے کے لیے میں آزادی کی تحریک میں شامل ہوا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے اس فیصلے کو سمجھیں اور اسے مضبوطی سے قبول کریں۔ دشمن کی پالیسیوں کے سامنے سر نہ جھکائیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ جذباتی ہو کر صرف سوگ نہیں منائیں گے بلکہ اپنے مضبوط ارادے کو برقرار رکھیں گے۔ میری آپ سے صرف ایک درخواست ہے کہ میری بہنوں کا خیال رکھیں۔
شہید ناصر کو اکثر ساتھیوں کی فکر رہتی تھی، وہ اکثر ساتھیوں کو یہی کہتا تھا کہ ہم ایک ایسی جدوجہد کے ساتھی ہیں جو مقدس ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مشکل بھی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخی ذمہ داری کو قبول کرنی ہوگی۔ شعور اور نظم و ضبط کے ساتھ زندگی گزارنی اور جدوجہد کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قیادت پر جاری تنہائی اور پابندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ابھی تک جدوجہد کے پرچم کو فتح کی بلندی تک نہیں پہنچا سکے۔ ہمیں اپنے وجود کی بنیاد بننے والی اس حقیقت کے سامنے اپنا قرض ادا کرنے کے لیے عملی زندگی اختیار کرنی چاہیے۔ ہمیں جدوجہد کے ہر شعبے میں اپنے کام کو انقلاب کی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہیے۔
ساتھیو! یقین کریں کہ آپ کے ساتھ زندگی گزارنا اور آپ کے ساتھ رہ کر دشمن کے ساتھ لڑنا دنیا کے خوبصورت ترین احساسات میں سے ایک ہے۔
شہید کے وہ انمول باتیں جو وہ کہتے تھے کہ اگر مجھے دنیا میں دوبارہ ہزار مرتبہ بھی آنا پڑے تو میں پھر آپ کا ساتھی اور بی ایل اے کا جنگجو بننا چاہوں گا۔
لیکن یہ نہ بھولیں کہ آپ صرف ایک دشمن کے خلاف نہیں بلکہ ایک پورے عالمی نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آپ لوگ کتنی مضبوط ارادے کے مالک ہیں۔ لیکن اپنی حفاظت کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔
ایک دفعہ ایک بیٹھک میں شہید نے وہاں بیٹھے کچھ بلوچ پیر اور کماشوں سے مخاطب ہو کر کہا جب میں اس قوم کی مزاحمتی روح سے متعارف ہوا تو میں اس وقت تحریک میں شامل ہوا تھا۔ ایک مرتبہ زہری میں ہم دشمن کے ساتھ دو بدو لڑائی میں مصروف تھے تو قوم نے جوش میں آ کر ہمیں کمک دینے کے لیے اپنی بندوقوں کے ساتھ ہماری صفوں میں شمولیت اختیار کی اور زخمی دوستوں کو محفوظ جگہ منتقل کیا۔ جب میں نے ان ماؤں کو دیکھا جو نعروں کے ساتھ ہمیں گلے لگا رہی تھیں اور خود کو ہمارے لیے ڈھال بنا رہی تھیں تو میں نے کہا:
’’یہی وہ عوام ہیں جنہیں استاد نے تشکیل دیا ہے۔‘‘
وہ کہتے تھے کہ وہ لمحہ میری دوبارہ پیدائش تھی۔
اس دن سے میں آپ کا بیٹا بن کر ایسی قوم کے قابل ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ چاہے میں کچھ بھی کر لوں، اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا۔
ایسی قوم کے سامنے کون سا دشمن ٹھہر سکتا ہے؟ کون اس قوم کو انکار اور تباہی کی پالیسی کے ذریعے دبا سکتا ہے؟ کون سی طاقت اسے اپنے رہنما سے جدا کر سکتی ہے؟
اب خاموشی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمیں دوبارہ مزاحمت کی روح کو اپنانا چاہیے۔
’’ایک پل آزاد زندگی گزارنا، ایک ہزار سال غلامی میں زندگی گزارنے سے زیادہ قیمتی ہے۔‘‘
ان کی وطن سے محبت نے ان کی زندگی کو معنی دیا۔ شہید ناصر نے ہربوئی، زہری، شور پارود اور بولان کے پہاڑوں میں اپنی محنت اور دیانت دار شرکت کے ذریعے کامیابیاں حاصل کیں۔ تاہم، انہوں نے کبھی خود کو کافی نہیں سمجھا اور محسوس کیا کہ انہیں مزید بڑی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہئیں۔
یہ قیادت کے ذریعے ممکن تھا، اس لیے انہوں نے ایک رہنما کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ انہوں نے زہری اور قلات کے محاذ پر اپنے ساتھیوں کی قیادت کی۔
آزاد وطن کے خواب کے ساتھ اٹھایا گیا ہر قدم ان کے دل میں طوفان برپا کرتا تھا۔ اپنے وطن سے ان کی محبت نے ان کی زندگی کو معنی بخشا۔ انہوں نے آزاد ملک اور آزاد معاشرے کے لیے عہد کیا اور اسی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔
شہید ناصر کے دل میں جلنے والی آزادی کی آگ نے ان کے مخالفین میں خوف پیدا کیا، لیکن وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہے اور انہوں نے اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا۔
شہید ناصر جتک عرف صدام 5 فروری 2026ء کو نوشکی میں ہیروف دوئم کے واپسی کے سفر کے دوران شہید ہوئے۔
وہ اکثر اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے: “دشمن میں اتنی غیرت نہیں کہ وہ مجھے مار سکے۔” یہ الفاظ محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ان کے عزم، حوصلے اور اپنے یقین پر غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی تھی۔ وقت نے بھی ان کے اس یقین کو ایک منفرد انداز میں سچ ثابت کیا۔ یوں ان کے اپنے الفاظ بھی اپنی جگہ زندہ رہے اور ان کی شہادت بھی ایک ایسی داستان بن گئی جس میں حوصلہ، یقین اور استقامت کی جھلک ہمیشہ باقی رہے گی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































