بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کے مرکزی چیئرمین، جیئند بلوچ، کو ان کے گھر، ہدہ، سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جیئند بلوچ ایک طلبہ سیاسی تنظیم کے رہنما ہیں، جو جمہوری سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق، اس سے قبل بھی انہیں دو مرتبہ مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔
بی ایس او نے مطالبہ کیا ہے کہ جیئند بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
جیئند بلوچ کی اہلیہ کے مطابق، رات تقریباً 11 بجے سی ٹی ڈی کے اہلکار ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے اسلحے کے زور پر ہمیں ہراساں کیا، بچوں کے ساتھ مارپیٹ کی، اور میرے شوہر، جیئند بلوچ، کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے شوہر کے خلاف کوئی قانونی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ سرکاری تحویل میں ہیں تو ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ان کی خیریت اور مقام کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔



















































