چھبیس اگست کے موقع پر بلوچستان بھر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کردی گئی، کوئٹہ سمیت دیگر شہروان میں فورسز کی نفری میں اضافہ، متعدد راستے بند کردیئے گیے۔
کوئٹہ ریڈ زون جانے والے تمام راستوں کو بے نظیر فلائی اوور، چمن پھاٹک اور ملحقہ علاقوں میں ٹرک کھڑے کرکے بند کردیا گیا، جبکہ فورسز کی بھاری نفری بھی ریڈ زون کے اطراف تعینات کردی گئی ہے۔
بدھ کی شب مسلح افراد خاران شہر میں داخل ہوئے اور سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کو گرفتار کیا جبکہ چوکیوں اور سرویلنس ٹاور کو تباہ کرنے سمیت اہم شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
یاد رہے کہ دو سال قبل 25 اور 26 اگست کی درمیانی شب بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان بھر میں “آپریشن ہیروف اول” کے تحٹ سلسلہ وار حملوں کا آغاز کیا تھا، جس میں بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ، خصوصی دستوں ایس ٹی او ایس اور فتح اسکواڈ جیسے یونٹوں کے سینکڑوں جنگجوؤں نے حصہ لیا اور بیس گھنٹوں تک بلوچستان بھر میں حکومتی رٹ کو چیلنج کیے رکھا۔
جبکہ 26 اگست بلوچستان میں اہمیت کا حامل دن ہے۔ اسی روز بلوچستان میں جاری تحریک کے اہم شخصیت نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کیا گیا تھا۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک میں بتدریج شدت آتی رہی ہے۔



















































