بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ، جی ٹی اے آئینی بلوچستان کے صوبائی مالیات سیکرٹری منظور راہی بلوچ سمیت درجنوں ملازمین کی گرفتاری، پرامن مظاہرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہاکہ اپنے بنیادی معاشی اور آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے ملازمین کو تشدد، گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش نہ صرف قابلِ افسوس ہے بلکہ یہ اس طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتی ہے جو مسائل کے حل کے بجائے جبر اور طاقت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران کے اس دور میں اپنے جائز مطالبات کے حق میں آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں۔ جب ایک حکومت اپنے ہی ملازمین کے مطالبات سننے کے بجائے ان پر لاٹھیاں برسائے، آنسو گیس کا استعمال کرے اور انہیں جیلوں میں ڈال دے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ عوامی آواز اور جمہوری احتجاج سے خوفزدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور جمہوری راستے مسلسل مسدود کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے پرامن احتجاج پر ریاستی کریک ڈاؤن نے ایک بار پھر حکومت کے فاشسٹ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جب مزدور، اساتذہ، ملازمین اور محنت کش طبقات اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلیں اور ان کا استقبال لاٹھیوں، شیلنگ اور گرفتاریوں سے کیا جائے تو یہ جمہوری طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ جبر اور آمریت کی واضح علامت ہے۔ ایک ایسی حکومت جو عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے عوام کی آواز دبانے کو ترجیح دے، درحقیقت اپنی سیاسی اور اخلاقی ناکامی کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے۔
مزید کہاکہ اسی طرح ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب گردی کے حملے کے خلاف انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کرنے والی ڈاکٹر برادری گزشتہ کئی روز سے سول ہسپتال کوئٹہ میں احتجاجی و یکجہتی کیمپ جاری رکھے ہوئے ہے۔ مگر افسوس کہ انصاف کی فراہمی کے بجائے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والی ڈاکٹر برادری کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے تحت 28 ڈاکٹروں، 168 پیرا میڈکس کو معطل جبکہ 5 پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کی ٹریننگ ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاستی اداروں کا یہ رویہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ یہاں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو انصاف دینے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک متاثرہ خاتون ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کو سزا دینا دراصل اس فاشسٹ طرزِ حکمرانی کا تسلسل ہے جو ہر منظم اور پرامن عوامی آواز کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب کرنا اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور جمہوری جدوجہد کے حق پر حملہ ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ کئی برسوں سے یہ رویہ مسلسل دہرایا جا رہا ہے کہ جو بھی ناانصافی، استحصال اور جبر کے خلاف آواز بلند کرے، اسے ریاستی طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام ملازمین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ساتھ ہی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے انصاف اور ڈاکٹر برادری کے جائز مطالبات کی بھی مکمل حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔
آخر میں کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں، معطل کیے گئے ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس اور اس کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کی ٹریننگ بحال کی جائے۔ جبر، تشدد، معطلیوں اور گرفتاریوں کے ذریعے نہ عوامی حقوق کی تحریکوں کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی انصاف، وقار اور بنیادی حقوق کے مطالبات کو خاموش کرایا جا سکتا ہے۔



















































