ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنانا پاکستان کی بلوچ قوم کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔ بی وائی سی

0

بی وائی سی قیادت کے خلاف آنے والے اس فیصلے سے مزاحمت اور جدوجہد کے ایک تاریخی مرحلے کا آغاز ہوگا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پارٹی قیادت کے خلاف جاری کردہ حکم نامے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح ریاستِ پاکستان نے پینتالیس سال قبل حمید بلوچ کو بغیر ٹھوس ثبوت اور شواہد کے پھانسی پر چڑھایا، اور وہ فیصلہ آج تک ریاستِ پاکستان کے ماتھے پر ایک سیاہ داغ کے طور پر موجود ہے، اسی طرح یہ مقدمہ بھی جج مبین، ان کے حواریوں، ان کے سرپرستوں، پیپلز پارٹی کی ڈیتھ اسکواڈ حکومت، محکمہ داخلہ اور اس پورے عدالتی بندوبست سمیت پوری ریاست کے ماتھے پر ایک ایسا داغ بن کر رہے گا جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔

بی وائی سی نے عدالتی فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ اگر ایک بھی قابلِ قبول ثبوت موجود ہوتا تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس ایک کیس پر دو الگ الگ ایف آئی آرز موجود ہیں، مگر جہاں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جہاں شواہد مشکوک ہیں، اور جہاں ایف آئی آرز خود ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہاں عمر قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ جبر ہے، اور یہ جبر بھی معمولی نہیں بلکہ کھلا ریاستی اور عدالتی جبر ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ایف سی اہلکار ایک ایف آئی آر کے مطابق 27 جولائی کو مر جائے اور دوسری ایف آئی آر کے مطابق 29 جولائی کو بھی مرے؟ ایک انسان دو بار کیسے مر سکتا ہے؟ جب مقدمے کی بنیاد ہی اس قدر متضاد، مشکوک اور غیر معتبر ہو تو اس بنیاد پر عوامی رہنماؤں کو عمر قید دینا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کا جنازہ ہے۔

تنظیم کے مطابق اس جھوٹے فیصلے کو عوامی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ آج طاقت کے بل بوتے پر قانون کو توڑا مروڑا جا رہا ہے، آج طاقت کے بل بوتے پر عوامی رہنماؤں کو سزا دی جا رہی ہے، آج طاقت کے بل بوتے پر بلوچ نسل کشی کی جا رہی ہے اور عوام کو خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر تاریخ خاموش نہیں ہوگی۔ یہ سب تاریخ میں لکھا جائے گا، کیونکہ تاریخ طاقتور نہیں لکھتے، تاریخ عوام لکھتے ہیں۔

تنظیم نے سوال اٹھایا کہ راجی مُچی کے دوران چار بلوچ شہید کیے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے، جبکہ ایک شخص کے سر میں گولی ماری گئی اور وہ آج تک معذوری اور اذیت کی زندگی گزار رہا ہے۔ ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں نہیں تھیں، بلکہ بندوقیں ایف سی کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں تھیں۔

مگر ان شہیدوں، زخمیوں اور معذوروں کے لیے کسی کو سزا نہیں ملی، جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، اور جنہوں نے عوامی اجتماع کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی۔ ان میں سے کسی کو سزا نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ایف سی اہلکار کے قتل کے نام پر، جس کے بارے میں ایف آئی آرز خود متضاد ہیں اور جس کے حوالے سے شواہد مشکوک ہیں، پُرامن عوامی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے، یہی وہ انصاف ہے جو بلوچستان کو دیا جاتا ہے۔ قاتل آزاد ہیں، مظلوم قید ہیں، بندوق والے محفوظ ہیں، جبکہ خالی ہاتھ عوام کو مجرم بنا دیا گیا ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ بلوچ کا مقدمہ نہیں، بلکہ بلوچستان کی عوامی سیاست، عوامی مزاحمت، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی فریاد اور بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا مقدمہ ہے۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پُرامن رہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، سوال پوچھنا بھی جرم ہے، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا بھی جرم ہے اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا بھی جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جدوجہد جمہوری، سیاسی، تاریخی اور حق پر مبنی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی، اپنی عزت، اپنی زمین، اپنے لاپتہ افراد، اپنے شہیدوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری نسل کشی کرے، نہ یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہمارے پُرامن اجتماعات کا جواب گولیوں سے دے، اور نہ ہی یہ حق ہے کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہماری قیادت کو قید کرے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ جیلیں اس تحریک کو نہیں روک سکتیں، سزائیں اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں، اور جھوٹے مقدمات عوامی حقیقت کو دفن نہیں کر سکتے۔ آج وہ طاقت کے نشے میں فیصلے لکھ رہے ہیں، مگر کل تاریخ ان فیصلوں کا حساب لکھے گی۔

ہم حق پر کھڑے ہیں، وہ ظلم پر کھڑے ہیں۔ ہم سچ کے ساتھ ہیں، جبکہ وہ جھوٹ، بندوق اور جبر کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں، اپنے شہیدوں کے ذمہ داروں اور اس جابرانہ نظام کے چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

آج کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ آخری فیصلہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوگا، بلکہ آخری فیصلہ عوام کی تاریخ کرے گی۔