زاہدان: انسان دنیا و آخرت میں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور دیکھے گا – حضرت مولانا عبدالحمید

13

مغربی بلوچستان کے مرکزی شہر زاہدان کے مسجد مکی کے سربراہ شیخ الاسلام حضرت مولانا عبدالحمید نے کہا کہ انسان اپنے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دنیا اور آخرت دونوں میں ضرور دیکھے گا، اس لیے ہر شخص کو نیکی اختیار کرنے، برائی سے بچنے، توبہ و استغفار کرنے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور دعا کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

اہلِ سنت زاہدان کے امامِ جمعہ کے دفتر کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی آیت “جو شخص نیک عمل کرے گا، اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا، اور جو برائی کرے گا، اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا، اور آپ کا رب بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے” (سورۂ فصلت: 46) کی تلاوت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایک ایسا قانون بیان فرمایا ہے جو دیگر الٰہی قوانین کی طرح عدل و انصاف پر مبنی ہے اور پوری انسانیت کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص نیکی یا بدی کرتا ہے، اس کا نفع یا نقصان اسی کی ذات کو پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی یا بدی اختیار کرنے، ظالموں کا راستہ اپنانے یا صالح اور عادل لوگوں کا راستہ اختیار کرنے کی آزادی دی ہے، تاہم یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہر عمل کا فائدہ یا نقصان خود انسان ہی کو پہنچتا ہے۔

مولانا عبدالحمید نے کہا کہ والدین، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک، بیماروں کی عیادت، جنازوں میں شرکت اور غم زدہ لوگوں سے تعزیت جیسے تمام نیک اعمال کا اجر دنیا اور آخرت میں انسان کو خود ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسی کھیتی ہے جسے انسان خود بوتا ہے اور اس کا پھل بھی خود حاصل کرتا ہے، جبکہ ہر گناہ اور نافرمانی کا نقصان بھی انسان کو خود ہی اٹھانا پڑتا ہے اور اس کے نتائج دنیا اور آخرت دونوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں پائی جانے والی اکثر پریشانیاں، بیماریاں، بدامنی اور مشکلات انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں، البتہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کے درجات بلند کرنے کے لیے انہیں آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے۔

خطیبِ جمعہ زاہدان نے ظلم سے اجتناب کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی پر ظلم نہ کیا جائے اور کسی کا حق ضائع نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یتیموں، عورتوں یا مردوں کے حقوق پامال کیے جائیں تو انسان اسی دنیا میں مشکلات سے دوچار ہوتا ہے، جبکہ موت کی سختیوں، قبر اور آخرت میں بھی بڑے امتحانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مظلوم کا حق ظالم سے لے گا، یہاں تک کہ اگر کسی جانور پر بھی ظلم کیا گیا ہو تو اس کا بھی حساب ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی شخص، خواہ وہ حکمران ہو، عالم ہو، درویش ہو یا کوئی معزز بزرگ، اس بات میں آزاد نہیں کہ جو چاہے کرتا پھرے۔

دارالعلوم زاہدان کے مدیر نے کہا کہ عقل مند انسان جب کسی پریشانی یا مشکل میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توبہ اور استغفار تمام پریشانیوں اور مشکلات کا علاج ہیں۔ قحط سالی، شدید گرمی یا سردی، کاروباری مندی، جنگوں اور بدامنی کا حقیقی علاج بھی استغفار ہے۔ اگر کسی کی اولاد نہ ہو، کاروبار میں برکت نہ ہو یا انسان یہ محسوس کرے کہ اس کی قسمت بند ہو گئی ہے تو اس کا علاج بھی استغفار ہے۔

مولانا عبدالحمید نے کہا کہ بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا شریعت کا حکم ہے، تاہم یہ یقین رکھنا چاہیے کہ شفا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ شفا نہ دے، دوا اور علاج بھی مؤثر نہیں ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ استغفار کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے۔ جب بندے کا دل اللہ کے خوف سے کانپنے لگے، جسم پر لرزہ طاری ہو اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے قبولیت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اللہ ہی دنیا کا مالک اور روزِ جزا کا مالک ہے۔ جس طرح چھوٹے بچے خوف کے وقت اپنے والدین اور گھر کی طرف دوڑتے ہیں، اسی طرح انسان کو بھی ہر مشکل اور مصیبت میں اللہ تعالیٰ کی پناہ اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ وہی تمام بند راستے کھولنے والا ہے۔ تمام خیر، شر اور تقدیری فیصلے اسی کے اختیار میں ہیں، لہٰذا ہر انسان کو اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا عبدالحمید نے دعا کی پابندی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا “مایوس نہ ہوں۔ صدقہ دیں اور دعا کریں، ذکر کریں اور دعا کریں، نماز پڑھیں اور دعا کریں، نیک اعمال کریں اور دعا کریں، توبہ و استغفار کریں اور دعا کریں۔ جب دعا کے ساتھ نیک اعمال بھی شامل ہوں تو اللہ تعالیٰ ضرور دعا قبول فرماتا ہے۔”