پارٹی رہنماء کے اہلیہ، بیٹی و بھانجی کو سیکورٹی فورسز نے چیک پوسٹ سے جبری لاپتہ کیا۔ ساجد ترین ایڈوکیٹ

0

بی این پی رہنما کے اہلخانہ کی جبری گمشدگی کی مذمت، واقعے کو سیاسی کارکنوں کو دبانے کی پالیسی قرار دے دیا

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 30 جولائی کو لکھپاس میں ایف سی چیک پوسٹ سے پارٹی رہنما جمعہ خان کی اہلیہ، بیٹی اور بھانجی کو سادہ لباس اہلکاروں کی جانب سے گاڑی سے اتار کر لے جانا قابل مذمت ہے، ریاستی پالیسیوں نے بلوچستان کو اس نہج تک پہنچایا ہے اور جب تک قوموں کے قومی، جمہوری اور سیاسی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے ملک میں حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی رہنما اور جیل روڈ یونٹ کے سیکریٹری جمعہ خان کے اہلخانہ کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس معاملے کو سیاسی کارکنوں اور ان کے اہلخانہ کو دبانے کے تسلسل کا حصہ سمجھتی ہے۔

ساجد ترین کے مطابق 30 جولائی کو شام تقریباً تین بجے ایک نجی ویگن قلات سے کوئٹہ کی جانب آ رہی تھی، جسے لکھپاس کے مقام پر ایف سی چیک پوسٹ پر روکا گیا۔

ان کے مطابق چیک پوسٹ پر سادہ لباس میں موجود اہلکاروں نے گاڑی سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور جیل روڈ یونٹ کے سیکریٹری جمعہ خان کی اہلیہ بی بی رافیہ، ان کی بیٹی بی بی تانیہ اور ان کی بھانجی جویریہ، دختر خیراللہ کو گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بی بی تانیہ کوئٹہ میں بطور ٹیچر خدمات انجام دے رہی ہیں جبکہ جویریہ ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔

ساجد ترین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس واقعے کی نہ صرف شدید مذمت کرتی ہے بلکہ اسے پارٹی کی سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش بھی سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپنے قیام کے دن سے جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے، ان کے مطابق سردار عطااللہ خان مینگل، میر غوث بخش بزنجو سمیت پارٹی کے اکابرین نے سخت حالات اور مشکلات کے باوجود بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے جمہوری سیاست کو فروغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی بلوچستان نیشنل پارٹی اسی سیاسی تسلسل کو آگے بڑھا رہی ہے اور اس کی آواز صرف بلوچوں تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان میں آباد پشتون، ہزارہ، سینیٹرل اور دیگر اقوام کے حقوق کے لیے بھی ہے۔

ساجد ترین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی جمہوری جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے وسائل پر حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور اس معاملے پر اپنے عوام کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے جتنی بھی سختیاں اور مشکلات برداشت کی ہیں، اس کے باوجود پارٹی اپنی سیاسی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

بی این پی رہنما نے کہا کہ بلوچستان میں چادر اور چار دیواری کی پامالی کا معاملہ بہت آگے جا چکا ہے، گھروں میں داخل ہو کر خواتین، نوجوانوں اور بزرگوں کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس کے بعد اسے بھارت یا افغانستان کی سازش قرار دے کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سے 76 برسوں کے دوران بلوچستان کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہوا، وسائل کی جس طرح لوٹ مار کی گئی، اس کے خلاف جب بھی کسی جانب سے آواز اٹھائی گئی تو اسے غدار یا دشمن قرار دیا گیا۔

ساجد ترین نے کہا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے وقت بھی بلوچستان نیشنل پارٹی نے واضح کیا تھا کہ جب تک بلوچستان کے عوام کے حقیقی حقوق تسلیم نہیں کیے جاتے، حقیقی سیاسی قیادت کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا جاتا اور اس کا راستہ نہیں روکا جاتا، حالات بہتری کے بجائے مزید تباہی کی طرف جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، جہاں اہم شاہراہیں بند ہیں۔ ان کے مطابق ابتدا میں حکومت نے خود اعلان کیا کہ بعض شاہراہیں شام پانچ بجے سے صبح پانچ بجے تک بند رہیں گی، تاہم اب بعض راستے 24 گھنٹے کے لیے بند کیے جا رہے ہیں۔

ساجد ترین نے کہا کہ ریاست اور حکمرانوں کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اگر حکومت کے مطابق بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں یا تشدد میں بیرونی عناصر ملوث ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ ملک میں داخل کیسے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سرحدوں پر خاردار تاریں لگانے اور سرحدی نظام پر عوام کے اربوں، کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، افغانستان کے ساتھ سرحد بند کی گئی اور ایران کے ساتھ بھی سرحدی نگرانی سخت کی گئی، اس کے باوجود اگر بیرونی عناصر داخل ہو رہے ہیں تو حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا بنیادی موقف یہی رہا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام کو جس طریقے سے بلوچستان پر مسلط کیا گیا اور حقیقی سیاسی قیادت کو پیچھے دھکیلا گیا، اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔

ساجد ترین نے کہا کہ پارٹی نے اس وقت بھی خبردار کیا تھا کہ اسمبلیوں میں لوگوں کو لانے کے لیے عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کے نتائج تباہ کن ہوں گے، تاہم اس وقت ان کی بات نہیں سنی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ حکمران عوام کے تحفظ کے بجائے اپنی حفاظت کے لیے کروڑوں اور اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق آئی جی کے گھر کو قلعہ نما بنایا جا رہا ہے جبکہ وزیراعلیٰ، گورنر، دفاتر اور سیکریٹریٹ کے تحفظ کے لیے بھی بڑے انتظامات کیے جا رہے ہیں، لیکن عام عوام کے تحفظ کے حوالے سے کوئی مؤثر پالیسی نظر نہیں آتی۔

ساجد ترین نے کہا کہ حکمرانوں کے اندر سے بھی اب اس نظام کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو نظام کچھ عرصہ قبل ملک کی ضرورت اور بیرونی مداخلت روکنے کا واحد راستہ قرار دیا جا رہا تھا، آج اسی نظام کو ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو ماہ قبل اسی نظام کے حق میں بھرپور بیانیہ پیش کیا جا رہا تھا، جبکہ آج اس کی ناکامی کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔

ساجد ترین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا موقف ہے کہ 1940 کی قرارداد کے تناظر میں اس خطے میں آباد اقوام کے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی حقوق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی ہمیشہ وحدتِ پاکستان کے حوالے سے یہ موقف رکھتی آئی ہے کہ جب تک ملک میں موجود قوموں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے عوام کو عزت نہیں دی جائے گی، ملک مستحکم نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اکابرین اور سیاسی کارکنوں کے اس موقف کو تسلیم کرنے کے بجائے آج بھی نئی تشریحات اور نئے تجربات کیے جا رہے ہیں۔

ساجد ترین نے ملک میں مزید صوبوں کے قیام کے حوالے سے بدلتے حکومتی مؤقف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک وقت میں زیادہ صوبوں کو ملک کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا جاتا تھا، جبکہ آج یہی مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مزید صوبے ملک کو ترقی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ملک میں موجود قوموں کے قومی و جمہوری حقوق اور ان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، کوئی بھی تجربہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے جمعہ خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایک جمہوری کارکن کی حیثیت سے جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنے قومی و سیاسی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

ساجد ترین نے کہا کہ جمعہ خان کے خلاف کسی بھی قسم کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہو تو اسے سامنے لایا جائے، تاہم ان کے اہلخانہ کو اس طرح اٹھانا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ خان کی اہلیہ بی بی رافیہ کی صحت بھی خراب ہے اور وہ نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں۔ ایسے میں ان کی اہلیہ، بیٹی اور بھانجی کو اس طرح گاڑی سے اتار کر لے جانا سوال اٹھاتا ہے کہ اس اقدام سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اب سیاسی میدان میں پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام، نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو ایسے راستے پر جانے سے روکا جا سکے جو تباہی اور بربادی کی طرف جاتا ہے۔

ساجد ترین نے کہا کہ اس سے قبل بھی جو نوجوان موجودہ نظام اور سیاسی عمل سے مایوس ہو کر مسلح راستوں کی طرف گئے، اس کی ذمہ داری بھی ریاست اور بااختیار حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ایسے حالات پیدا کیے۔

انہوں نے 30 جولائی کے واقعے کا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی بی رافیہ جمعہ خان کی اہلیہ ہیں جبکہ بی بی ثانیہ ایک ٹیچر ہیں اور وہ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد واپس آ رہی تھیں۔

ساجد ترین نے انسانی حقوق کے کارکن ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر طویل عرصے سے آواز اٹھائی جا رہی ہے اور ان کے مطابق اس وقت بھی 100 سے زائد خواتین مختلف تھانوں اور حکومتی حراستی مقامات میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین، چار برسوں کے دوران متعدد خواتین کو طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا اور بعد میں رہا کیا گیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر ریاست اسی طرح لوگوں کی عزت، چادر اور چار دیواری کو پامال کرے گی تو نوجوانوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ اس کے خلاف ردعمل ظاہر نہیں کریں گے۔

ساجد ترین نے ایک بار پھر جمعہ خان کے اہلخانہ کو لکھپاس سے لے جائے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔