تاریخ کے آئینے میں نظریاتی جنگوں کا سفر اور تحریکِ بلوچستان کا فکری ارتقا – گلزمین بلوچ

16

تاریخ کے آئینے میں نظریاتی جنگوں کا سفر اور تحریکِ بلوچستان کا فکری ارتقا

تحریر: گلزمین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخِ عالم گواہ ہے کہ دنیا میں لڑی جانے والی تمام جنگیں محض زمین کے ٹکڑوں، مال و دولت کی ہوس یا اقتدار پر قبضے کے لیے نہیں تھیں۔ انسانی تاریخ کا ایک بڑا حصہ ایسی جنگوں سے بھرا پڑا ہے جن کے پیچھے گہرے نظریات، عقائد اور فکری فلسفے کارفرما تھے۔ جب دو مختلف اور متضاد نظریات آپس میں ٹکراتے ہیں تو وہ جنگیں عام روایتی جنگوں سے کہیں زیادہ شدید، طویل اور بے رحم ہو جاتی ہیں۔ ایسی لڑائیوں کا مقصد صرف حریف فوج کو شکست دینا نہیں ہوتا، بلکہ سامنے والے کے پورے نظامِ فکر، ثقافت اور سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوتا ہے۔

اگر ہم اٹھارہویں صدی سے پہلے کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر نظریاتی جنگیں مذہب کے نام پر لڑی گئیں۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں پر محیط “صلیبی جنگیں” (Crusades) اس کی سب سے بڑی مثال ہیں، جہاں دونوں اطراف اپنے عقیدے کی بالادستی کے لیے برسرِپیکار تھیں۔ اسی طرح یورپ میں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک فرقوں کے درمیان ہونے والی “تیس سالہ جنگ” نے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اس ہولناک تباہی کے بعد بالآخر “معاہدہ ویسٹ فیلیا” کے تحت یہ اصول طے پایا کہ ہر ملک کو اپنے نظام اور عقیدے کے مطابق جینے کی آزادی ہونی چاہیے۔

وقت بدلا تو مذہبی جنگوں کی جگہ سیاسی اور معاشی نظریات نے لے لی۔ فرانسیسی انقلاب نے دنیا کو آزادی، برابری اور بھائی چارے کا ایک نیا فکری رخ دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک دنیا تین بڑے نظاموں  جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم میں تقسیم ہو چکی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم اسی نظریاتی تصادم کا نتیجہ تھی، جہاں ہٹلر کے نازی ازم کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور سوویت یونین جیسے متضاد نظاموں نے عارضی طور پر ہاتھ ملا لیا تھا۔ اس کے بعد کی دنیا “سرد جنگ” (Cold War) کے سائے میں چلی گئی، جہاں سرمائے داری (Capitalism) اور اشتراکیت (Communism) نے کوریا، ویتنام اور افغانستان کی سرزمین پر ایک دوسرے کے خلاف بالواسطہ جنگیں لڑیں۔

آج اکیسویں صدی میں بھی یہ نظریاتی جنگیں ختم نہیں ہوئیں، بلکہ انہوں نے نئے روپ دھار لیے ہیں۔ جب جنگ اصولوں اور حقوق کی ہو تو بات بہت طول پکڑ جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ زمین کے جھگڑے تو شاید سمجھوتوں سے حل ہو جائیں، لیکن جب لڑائی کسی قوم کی بقا، تشخص اور نظریے کی بن جائے تو اسے مٹانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

بلوچستان کا تاریخی پس منظر اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت

نظریاتی اور قومی بقا کی جنگوں کے اسی تسلسل میں اگر ہم بلوچستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو یہ خطہ صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے برسرِپیکار رہا ہے۔ بلوچ قوم کا نظریہ اپنی زمین کی ملکیت اور قومی خودمختاری پر قائم ہے۔ انگریز سامراج (برٹش راج) کے دور میں بلوچوں نے اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے 300 سے زائد چھوٹی بڑی جنگیں لڑیں۔

انگریزوں نے جب بھی بلوچ سرزمین پر قبضہ کرنے یا اسے تقسیم کرنے کی کوشش کی، انہیں شدید اور خونریز مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانوی سلطنت کے خلاف جنگوں میں صرف بلوچ مردوں نے ہی حصہ نہیں لیا، بلکہ بلوچ خواتین بھی صفِ اول میں شامل رہیں۔ تاریخ میں “بانڑی بلوچ” جیسی بہادر خواتین کا ذکر ملتا ہے، جنہوں نے نہ صرف جنگوں میں حصہ لیا بلکہ جنگی حکمتِ عملی کو سنبھالا اور مردوں کے شانہ بشانہ بیرونی دشمنوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ بلوچوں کی یہ جنگ کسی مال و غنیمت کے لیے نہیں، بلکہ اپنی روایات، مٹی اور آزادی کے نظریے کے تحفظ کے لیے تھی۔

گوریلا جنگ کی حکمتِ عملی اور بلوچستان لبریشن آرمی کے یونٹس

بلوچستان کی معاصر تاریخ کا رخ 1957ء (اور بعد کے ادوار) کے واقعات سے تبدیل ہوا، جب بلوچوں نے پاکستان کے مقتدر حلقوں کی پالیسیوں کے خلاف باقاعدہ گوریلا جنگ کا اعلان کیا۔ گوریلا جنگ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی جنگی حکمتِ عملی ہوتی ہے جس میں روایتی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف خفیہ یونٹس تشکیل دیے جاتے ہیں۔ ہر یونٹ کا کام، دائرہ اختیار اور طریقہ کار بالکل الگ ہوتا ہے۔

بلوچستان کی ساحلی پٹی اور سمندر کی حفاظت کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ ماضی میں “حمل جیئند” نے پرتگالی اور دیگر یورپی دشمنوں کو گوادر، جیونی، پسنی اور اورماڑہ کے ساحلوں پر شکست دے کر بلوچ سمندر کی حفاظت کی تھی۔ آج اگرچہ حمل جیئند موجود نہیں، لیکن ان کا نام اور نظریہ زندہ ہے۔ اسی تاریخی کردار کی یاد میں “بلوچستان لبریشن آرمی” (BLA) نے اپنے ایک بحری یا ساحلی حفاظتی یونٹ کا نام “حمل یونٹ” رکھا ہے، جس کا مقصد بلوچ ساحلوں پر بیرونی تسلط یا معاشی منصوبوں کو روکنا ہے۔

فدائی یونٹ کا آغاز اور “مجید بریگیڈ” کا ارتقا

بلوچستان کی اس گوریلا جنگ میں سب سے بڑا اور ڈرامائی موڑ “فدائی یونٹ” کا قیام تھا۔ 17 مارچ 2010ء کو بی ایل اے کے کمانڈر اسلم بلوچ (جنہیں استاد اسلم بھی کہا جاتا ہے) نے اس فکری تصور کو ایک باقاعدہ “فدائی بریگیڈ” کی شکل دی، جسے مجید بریگیڈ کا نام دیا گیا۔ اس یونٹ کا پہلا بڑا حملہ 30 دسمبر 2011ء کو “ڈیتھ اسکواڈ” سرغنہ شفیق مینگل (نصیر مینگل کے بیٹے) پر کیا گیا، جس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تنظیم نے “باز جان” نامی فدائی کی تصویر جاری کی۔ اس کارروائی نے دشمن کے سیکیورٹی نیٹ ورک کو حیران کر دیا۔

اس کے بعد تنظیم نے تقریباً سات سالوں تک ایک گہری خاموشی اختیار کی لیکن 11 اگست 2018ء کو دالبندین میں سیندک پروجیکٹ کے چینی انجینئروں کی بس پر ایک اور بڑا فدائی حملہ ہوا۔ جب میڈیا پر اس کاروائی کو انجام دینے والے کی تصویر جاری کی گئی تو دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ وہ استاد اسلم کا اپنا 22 سالہ بیٹا، ریحان بلوچ تھا۔ ریحان کی قربانی نے یہ ثابت کیا کہ یہ جنگ محض چند لوگوں کی نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور نظریاتی جنون بن چکی ہے۔ اس واقعے کے بعد گوادر اور دیگر علاقوں میں پے در پے حملوں نے جنگ کا رخ یکسر بدل دیا۔

خواتین کا فدائی کردار: شاری بلوچ اور شہناز بلوچ کا پیغام

اس نظریاتی جنگ کا سب سے حساس اور چونکا دینے والا پہلو اس وقت سامنے آیا جب اس میں بلوچ خواتین نے فدائی کے طور پر شمولیت اختیار کرنا شروع کی۔ کراچی یونیورسٹی میں کنفیوشن انسٹی ٹیوٹ کی گاڑی پر ہونے والے حملے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، کیونکہ یہ حملہ “شاری بلوچ” نامی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون نے کیا تھا جو دو بچوں کی ماں اور ایم فل کی طالبہ تھیں۔

ابتدائی طور پر ریاستی میڈیا اور اداروں کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید وہ ذہنی طور پر توازن کھو بیٹھی تھیں، لیکن بعد میں سامنے آنے والی دستاویزات اور ویڈیوز نے یہ ثابت کیا کہ وہ مکمل طور پر باشعور اور اپنے نظریے پر کاربند تھیں۔ شاری بلوچ کی اس قربانی نے تحریک میں شامل دیگر خواتین اور نوجوانوں پر گہرا نفسیاتی اثر چھوڑا۔ اس کے بعد بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کی جانب سے کئی دیگر مسلح بلوچ خواتین کی تصاویر اور تربیتی ویڈیوز منظرِ عام پر لائی گئیں، جس نے سیکیورٹی اداروں کو ایک نئی سوچ اور تشویش میں مبتلا کر دیا کہ اب جنگ کا دائرۂ کار گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکا ہے۔

اس سلسلے کی اگلی کڑی “شہناز بلوچ” کا ویڈیو بیان اور میڈیا میں آنے والی دیگر جنگجو لڑکیوں کی تصاویر تھیں۔ ان ویڈیوز میں جدید ترین ہتھیار چلانے کی تربیت لیتی بلوچ لڑکیوں نے دنیا اور مقتدر حلقوں کو ایک واضح پیغام دیا:

“اگر تم اپنی جانیں بچانا چاہتے ہو تو بلوچستان کی سرزمین کو خالی کر دو، ورنہ یہاں تمہارا رہنا حرام کر دیا جائے گا۔”

ان پیغامات نے بین الاقوامی اداروں اور یورپی اقوام کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ کوئی عام قبائلی جھگڑا یا چند ناراض نوجوانوں کی لڑائی نہیں ہے۔

حاصلِ کلام: تعلیمی اداروں سے نظریاتی جنگ تک کا سفر

اس پوری فکری اور گوریلا جنگ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں شامل بیشتر کردار جاہل یا گمراہ لوگ نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ نوجوان (مرد اور خواتین) ہیں جنہوں نے خود پاکستان کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے دشمن کے نظامِ تعلیم کو پڑھا، دنیا کے سیاسی فلسفوں کو سمجھا اور پھر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے حقوق کی بحالی کے لیے اسی نظام کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے۔

نظریاتی جنگ کبھی بھی بندوق کی گولی سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہ شہیدوں اور فدائین کے چھوڑے ہوئے پیغامات اور نظریات سے مزید توانائی حاصل کرتی ہے۔ جب تک کسی قوم کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے کہ ان کی زمین اور بقا خطرے میں ہے، وہ جنگ ختم نہیں ہوتی۔ بلوچ تحریک کا یہ موجودہ رخ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب یہ جنگ محض زمین کے ایک ٹکڑے کی نہیں، بلکہ ایک مکمل نظریاتی شکل اختیار کر چکی ہے، اور بلوچ جنگجوؤں کے مطابق— یہ سلسلہ بلوچستان کی آزادی تک اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔