بی بی رافیعہ، تانیہ اور جوریہ سمیت تمام جبری لاپتہ خواتین کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ وی بی ایم پی

8

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6314ویں روز بھی جاری رہا۔

آج احتجاجی کیمپ میں جمعہ خان نیچاری نے شرکت کی اور اپنی اہلیہ بی بی رافیعہ، بیٹی تانیہ اور جوریہ کی مبینہ جبری گمشدگی سے متعلق مکمل کوائف وی بی ایم پی کے پاس جمع کرا دیے۔

واضح رہے کہ بی بی رافیعہ، تانیہ اور جوریہ کو رواں سال 30 جولائی کو لک پاس ایف سی چیک پوسٹ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جمعہ خان نیچاری کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم کی جانب سے بی بی رافیعہ، تانیہ اور جوریہ کے مقدمات پیر کے روز لاپتہ افراد سے متعلق قائم کمیشن، صوبائی حکومت اور لاپتہ افراد کمیشن بلوچستان چیپٹر کے ڈپٹی رجسٹرار کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کیے جائیں گے، جبکہ ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ بی بی رافیعہ، تانیہ اور جوریہ سمیت تمام جبری لاپتہ خواتین کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، بصورتِ دیگر وی بی ایم پی بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج مزید مؤثر انداز میں ریکارڈ کرائے گی۔