کوئٹہ: لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4686 دن مکمل ہوگئے، آج سیاسی اور سماجی کارکنان داد محمد بلوچ ، اصغر بلوچ ، نور...

تربت: لاپتہ افراد کے لواحقین کا سی پیک روٹ پر دھرنا

تربت ڈی بلوچ کے مقام پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا جاری، مظاہرین نے سی پیک روڈ بلاک کرکے جبری گمشدگی کے شکار افرادکی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں- تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت کے مقام پر لاپتہ طلباء کے لواحقین کی جانب سے ڈی بلوچ پر دھرنا دیکرروڈ کو احتجاجاً مکمل بند کردیا گیا ہے۔ احتجاج میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ، سول سوسائٹی سیاسی سماجی تنظمیوں کے ارکانشریک ہوئے- تربت ڈی بلوچ روڈ پر دھرنے کے باعث دونوں طرف ٹریفک کی آمدو رفت معطل ہوگئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئے ہیں- مظاہرین کے مطابق پاکستانی فورسز نے طالب علم نعیم ولد رحمت بلوچ اور شفیق ولد دلدار کو رواں سال 17 مارچ کو حراست بعدنامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جبکہ اس دوران  تربت سمیت گرد نواح سے درجنوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں جو منظرعام پر نہیں آسکے ہیں- مظاہرین کے مطابق علاقہ میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے قبل لاپتہ  نوجوانوں کی باحفاظت بازیابی کے لئے مقامیلوگوں نے دھرنا دیا تو انتظامیہ نے ملاقاتوں کے دوران کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی مگر مہلت گزرنے کے باوجود لاپتہ نوجوانوں کیبازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے خلاف آج پھر ہم احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں- لاپتہ افراد کے لواحقین شدید گرمی میں سڑک پر دھرنا دئے ہوئے ہیں احتجاج پر بیٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے لاپتہ  پیاروںکی زندگی کے بارے میں خدشات لاحق ہیں احتجاج کے علاوہ انکے پاس کوئی راستہ نہیں ہمارے  پیاروں کو بغیر کسی جرم کے بےگناہ اٹھا کر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے جب انصاف کے لئے انتظامیہ کے پاس گئے تو تسلی دی گئی کہ اپنا احتجاج منسوخ کریںتاہم طویل انتظار کے باجود ہمارے پیارے منظر عام پر نہیں آسکے جس کے باعث ہم پھر سے احتجاج پر مجبور ہیں- مظاہرین نے لاپتہ طلباء سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو خبردار کی ہے کہ وہ اس دفع بغیر کسیپیش رفت کے لواحقین کو دھوکا دیکر احتجاج ختم کرنے کی کوشش کرینگے تو شدید احتجاج کے صورت میں ردعمل سامنے آئے گا-

بولان: فورسز کے ہاتھوں ضعیف العمر شخص لاپتہ

پاکستانی فورسز نے ایک ضعیف العمر شخص کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت حمزہ ولد شکاری سکنہ لیس، بولان کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص کو گذشتہ روز مچھ ڈگاری کراس سے فورسز نے مسافر بردار گاڑی سے اس وقت اتار کر حراست میںلیا جب وہ کوئٹہ جارہا تھا۔ بلوچستان  میں جبری گمشدگیوں کے نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے وہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے احتجاج بھی جاری ہے۔ انہی جبری گمشدگیوں کے خلاف آج لاپتہ افراد کے لواحقین  تربت مرکزی شاہراہ ڈی بلوچ پہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ لواحقین کا کہناانکے پیاروں کی عدم بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ ڈی بلوچ شاہراہ تربت سمیت ضلع کیچ کو گوادر سمیت سندھ اور دیگر علاقوں سے ملانے والی شاہراہ ہے اس شاہراہکے بند ہونے سے ضلع کیچ کا کئی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوکر رہ جائے گا۔ دوسری جانب آج بی این ایم کے رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تیرہ سال مکمل ہونے پہ کراچی میں ایک سیمینارکا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔

ریاست ڈائن بن چکی ہے جو ہمارے بچوں کو نگل رہی ہے

ریاست شہریوں کے لئے  ماں کا درجہ رکھتی ہے لیکن بلوچستان کے نوجوان شہریوں کے لئے ریاست ڈائن بن چکی ہے جو ہر کسی کونگل رہی ہے ۔ ان...

ایس ایس ایف کا خضدار میں “تاریخ اور سیاست” کتاب پہ اسٹڈی سرکل

سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کی جانب سے خضدار میں ڈاکٹر مبارک علی کی "تاریخ اور سیاست" نامی کتاب پہ جائزاتی و تبصراتیاسٹڈی سرکل منعقد کیا گیا۔اسٹڈی سرکل تنظیم کے ایجوکیشنل...

بلوچستان فزیوتھراپیسٹ کا اسمبلی کے سامنے دھرنا

بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ پچھلے 16 دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری ہے بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن مطالبات کے حق...

کیچ: ایک شخص نے خودکشی کرلی

بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک شخص نے نامعلوم وجوہات کے بنا پر گلے میں پھندا ڈال کر اپنے ہاتھوں سے اپنے زندگی کا خاتمہ کردیا۔

نیشنلزم کی جدوجہد ہی بقاء اور نجات دہندہ ہے۔ این ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی شال زون کا آرگنائزنگ باڈی اجلاس زیر صدارت مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی ممبر آغا نعمت شاہ منعقد ہوا، اجلاس کے مہمان مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے...

ریاست لاپتہ افراد کے قتل کا اعتراف کرچکی ہے – سورٹھ لوہار

سندھ سے جبری گمشدگی کے خلاف جاری تحریک کی رہنمائی کرنے والی وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے چیئر پرسن سورٹھ لوہار نے کہا ہے کہ...

مکران یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تعیناتی پر طلباء کا احتجاج

متنازع وائس چانسلر کی تعیناتی کیخلاف یونیورسٹی آف مکران پنجگور کیمپس کے طلبہ سراپا احتجاج، طلباء نے کلاسز کا بائیکاٹکرتے ہوئے مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا- مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت مکران یونیورسٹی میں متنازع وائس چانسلر کی تعیناتی کا فیصلہ واپس لے عبدالمالک ترین کیبحیثیت وی سی تعیناتی ہرگز قبول نہیں-پنجگور یونیورسٹی آف مکران کے طلبہ نے وی سی کی تعیناتی کیخلاف کلاسوں کا بائیکاٹکرکے مین روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج ریکارڈ کی- احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدالت وی سی کے اسٹے آرڈر پر نظرثانی کرے عبدالمالک ترین کی بطور وی سی تعیناتی کسی بھیصورت قابل قبول نہیں ہے ہم اپنے ادارے کو ایک ایسے شخص کے حوالے نہیں کرسکتے جس کی ساکھ اور شہرت متنازعہ ہو۔ طلباءنے کہا کہ یونیورسٹی آف مکران ہمارے خوابوں کی تعبیر اور والدین کی امید ہے، مختصر وقت میں یونیورسٹی آف مکران نے جوکامیابی کا سفر طے کیا اس کو رائیگاں جانے نہیں دیا جائے گا معزز عدالت عبدالمالک ترین کے اسٹے آرڈر پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے ہماری تعلیم اہم ہے مگر ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ روڈوں پر آکر احتجاج کریں۔

تازہ ترین

مستونگ میں مسلح جھڑپیں، ڈھاڈر میں بجلی ٹاور دھماکوں میں تباہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور جھڑپوں کی اطلاعات بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اطلاعات کے...

کوئٹہ: جبری طور پر لاپتہ دو بلوچ طالبات منظرعام پر لائی گئیں

پاکستانی فورسز و سی ٹی ڈی نے دونوں خواتین کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

واشک اور مشکے میں جبری لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد

بلوچستان کے علاقے واشک اور مشکے سمیت دیگر علاقوں میں پاکستانی فورسز کی زیرِ حراست لاپتہ افراد کے قتل اور لاشیں پھینکے...

کوئٹہ: غلام حیدر کرد کی جبری گمشدگی، لواحقین کی وی بی ایم پی احتجاجی...

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے...

بلوچستان: دو افراد کے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگی پر بلوچ یکجہتی کمیٹی...

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچستان میں دو الگ واقعات میں ایک شخص کے ہدف بنا کر قتل اور ایک جبری لاپتہ شخص...