قلات: بلوچ لبریشن آرمی کے زیرحراست اے ایس ایف افسر کی لاش برآمد
بلوچستان کے ضلع قلات سے ایک ماہ قبل بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے حراست میں لیئے جانے والے ایئرپورٹس سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی...
پاکستانی حکام ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سول کارکنوں کی عمر قید کی...
آج 27 جون 2026 کو مغربی بلوچستان کے مذہبی رہنما مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کی تقریب کے دوران "بلوچ یکجہتی کمیٹی" کے رہنما...
خاران: ایک اور پل دھماکے سے تباہ، فوج کیساتھ جھڑپیں، ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ
خاران میں پاکستانی فوج اور مسلح افراد کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں، ایک اور پل دھماکے سے تباہ، ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ کی گئی۔
منگل کے روز مسلح افراد...
مستونگ: کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مسلح ناکہ بندی، سات بڑی گاڑیاں ضبط
مستونگ میں مرکزی شاہراہ کو مسلح افراد نے کنٹرول میں لیکر گھنٹوں تک ناکہ بندی کی اور سات بڑی گاڑیوں کو اپنی تحویل میں لیا۔
مستونگ کے علاقے شیخ واصل...
بی ایس او آزاد کے نومنتخب چیئرمین ابرم بلوچ کیساتھ خصوصی گفتگو
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، تاریخ، مقاصد، کونسل سیشن
نومنتخب چیئرمین ابرم بلوچ کیساتھ خصوصی گفتگو
بی ایس او کیا ہے؟
بلوچستان کی سیاست میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔...
بی وائی سی رہنماؤں کی سزا کے خلاف عوامی ردعمل، بلوچستان بھر میں مکمل...
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنماؤں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
زہری: پاکستانی فوج پر حملہ، مسلح جھڑپوں میں ہلاکتیں
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں پاکستانی فوج کو مسلح حملوں میں جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
زہری کے علاقے بلبل میں گذشتہ مسلح افراد نے...
تفتان میں پھنسے 4 سو بوزر گاڑیاں پاکستان فوج کی سیکورٹی میں نکالے جائیں...
بلوچستان میں پھنسے سینکڑوں ایل پی جی بوزر گاڑیوں کو نکالنے کا فیصلہ، فوج سیکورٹی فراہم کرے گی - حکام
بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں سینکڑوں ایل پی جی...
نوشکی: مرکزی شاہراہ پر گاڑیاں نذرآتش
نوشکی میں مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران دو گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔
نوشکی کے علاقے مل میں کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر ایک بوزر سمیت...
بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف فیصلہ منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے منافی ہے۔...
ایمنسٹی نے کہا ہے پاکستان میں انسداد دہشت گردی قوانین کا استعمال پُرامن اختلاف رائے کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
























































