لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتال کیمپ کو 4687 دن ہوگئے، آج احتجاجی کیمپ میں قلات سے سیاسی و سماجی کارکنانعبدالمجید بلوچ، محمد بلوچ اور دیگر لوگوں...

میرے دو بھائیوں کو فورسز نے حراست میں لینے بعد لاپتہ کیا۔ محمد عمر...

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے محمد عمر سرپرہ نے اپنے دو لاپتہ بھائیوں کے کوائف لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئےکام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مِسنگ کے پاس جمع کئے۔  محمد عمر سرپرہ نے الزام عائد کیا ہے میرے بھائی ذاکر احمد اور راشد احمد ولد محمد یوسف سرپراہ  کو پاکستانی فورسز نےحراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔  محمد عمر نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 30اگست 2021 کو میرے بھائی ذاکر کو ڈی سی آفس نوشکی سے فورسز نے حراستمیں لے کر لاپتہ کیا جبکہ راشد کو فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیا جس کے بعد دونوں کے حوالے سے کوئی خبر خیرموصول نہیں ہوئی ہے کہ کہاں اور کس حال میں ہے۔  انہوں نے کہا ہے کہ پورے اہل علاقہ کے سامنے میرے بھائیوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا جبکہ پولیس اور دیگر ذرائع سے انکے بازیابی اور تلاش کی کوشش کی ہے مگر جواب ایک ہی آیا ہے کہ میرے بھائی خفیہ ایجنسیوں کے تحویل میں ہے۔  خیال رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے فورسز پر لواحقین اور دیگر حلقے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں جہاںلوگوں کا کہنا ہے فورسز کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ وہ لوگوں کے جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں تاہم فورسز ان الزاماتکی تردید کرتا آرہا ہے۔

اینٹی نارکوٹیکس فورس کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی...

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ سرمچاروں نے گزشتہ رات ساڑھے آٹھ بجے ضلع پنجگور  کے مین بازار میں جاوید چوک کے قریب اینٹی نارکو ٹیکس فورس (اے این ایف) کے کیمپ پر دستی بموں سے حملہ کیا۔ دستی بم کیمپ کے اندر گرے جس سے فورسز کو جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض فورسز پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

بولان میں پاکستانی فورسز پر بم حملہ

بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کو ایک بم حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ حملہ آج صبح پیراسماعیل میں منصور ٹاپ کے علاقے میں پاکستانی فورسز...

ہنہ اوڑک میں عوامی اراضیات پر ایف سی کا قبضہ غیر قانونی ہیں –...

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے جنرل سیکرٹری مزمل شاہ نے اپنے بیان میں ضلع کوئٹہ کی پرفضا وادی ہنہ میں عوامی ملکیت کیاراضی، پانی اور عوام و شہریوں کی سیروتفریح...

کیچ: پاکستانی فورسز پر حملے، کیپٹن زخمی، دو اہلکار ہلاک

بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو مختلف حملوں میں پاکستانی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع  کے مطابق منگل کے روز عبدوئی اور زامران کے علاقوں میں پاکستانی فورسز پر دو الگ حملوں میں دو اہلکار ہلاک اور ایکزخمی ہوا ۔ تفصلات کے مطابق تحصیل تمپ کے علاقہ عبدوئی زامری میں نامعلوم مسلح افراد  کی فائرنگ سے پاکستانی فورس کا اہلکار سپاہیوحید گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے واقعہ میں تحصیل بلیدہ زامران کے علاقہ میں گولڈ سمڈ لائن پر باڑ لگانے والوں کےسیکورٹی پر مامور فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی محمد عثمان ولد لیاقت علی سکنہ نوشہروزفیروز سندھ ہلاکہوگیا جبکہ کیپٹن علی زین گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق زخمی اور لاشوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایف سی ہیڈکوارٹر تربت منتقل کردیا گیا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیراؤ میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹروںسے فضائی نگرانی بھی جاری ہے ۔ یاد رہے کہ مذکورہ علاقوں میں اس سے پہلے پاکستانی فورسز پر حملے ہوئے ہیں جنکی ذمہ داری بلوچستان میں سرگرم آزادی پسندتنظیمیں قبول کرتے آرہے ہیں،تاہم آج ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ابتک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

کوئٹہ: لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

وائس فار بلوچ مسنگ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4686 دن مکمل ہوگئے، آج سیاسی اور سماجی کارکنان داد محمد بلوچ ، اصغر بلوچ ، نور...

تربت: لاپتہ افراد کے لواحقین کا سی پیک روٹ پر دھرنا

تربت ڈی بلوچ کے مقام پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا جاری، مظاہرین نے سی پیک روڈ بلاک کرکے جبری گمشدگی کے شکار افرادکی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں- تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت کے مقام پر لاپتہ طلباء کے لواحقین کی جانب سے ڈی بلوچ پر دھرنا دیکرروڈ کو احتجاجاً مکمل بند کردیا گیا ہے۔ احتجاج میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ، سول سوسائٹی سیاسی سماجی تنظمیوں کے ارکانشریک ہوئے- تربت ڈی بلوچ روڈ پر دھرنے کے باعث دونوں طرف ٹریفک کی آمدو رفت معطل ہوگئی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئے ہیں- مظاہرین کے مطابق پاکستانی فورسز نے طالب علم نعیم ولد رحمت بلوچ اور شفیق ولد دلدار کو رواں سال 17 مارچ کو حراست بعدنامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جبکہ اس دوران  تربت سمیت گرد نواح سے درجنوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں جو منظرعام پر نہیں آسکے ہیں- مظاہرین کے مطابق علاقہ میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے قبل لاپتہ  نوجوانوں کی باحفاظت بازیابی کے لئے مقامیلوگوں نے دھرنا دیا تو انتظامیہ نے ملاقاتوں کے دوران کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی مگر مہلت گزرنے کے باوجود لاپتہ نوجوانوں کیبازیابی کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے خلاف آج پھر ہم احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں- لاپتہ افراد کے لواحقین شدید گرمی میں سڑک پر دھرنا دئے ہوئے ہیں احتجاج پر بیٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے لاپتہ  پیاروںکی زندگی کے بارے میں خدشات لاحق ہیں احتجاج کے علاوہ انکے پاس کوئی راستہ نہیں ہمارے  پیاروں کو بغیر کسی جرم کے بےگناہ اٹھا کر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے جب انصاف کے لئے انتظامیہ کے پاس گئے تو تسلی دی گئی کہ اپنا احتجاج منسوخ کریںتاہم طویل انتظار کے باجود ہمارے پیارے منظر عام پر نہیں آسکے جس کے باعث ہم پھر سے احتجاج پر مجبور ہیں- مظاہرین نے لاپتہ طلباء سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انتظامیہ کو خبردار کی ہے کہ وہ اس دفع بغیر کسیپیش رفت کے لواحقین کو دھوکا دیکر احتجاج ختم کرنے کی کوشش کرینگے تو شدید احتجاج کے صورت میں ردعمل سامنے آئے گا-

بولان: فورسز کے ہاتھوں ضعیف العمر شخص لاپتہ

پاکستانی فورسز نے ایک ضعیف العمر شخص کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت حمزہ ولد شکاری سکنہ لیس، بولان کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص کو گذشتہ روز مچھ ڈگاری کراس سے فورسز نے مسافر بردار گاڑی سے اس وقت اتار کر حراست میںلیا جب وہ کوئٹہ جارہا تھا۔ بلوچستان  میں جبری گمشدگیوں کے نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے وہیں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے احتجاج بھی جاری ہے۔ انہی جبری گمشدگیوں کے خلاف آج لاپتہ افراد کے لواحقین  تربت مرکزی شاہراہ ڈی بلوچ پہ دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ لواحقین کا کہناانکے پیاروں کی عدم بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ ڈی بلوچ شاہراہ تربت سمیت ضلع کیچ کو گوادر سمیت سندھ اور دیگر علاقوں سے ملانے والی شاہراہ ہے اس شاہراہکے بند ہونے سے ضلع کیچ کا کئی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوکر رہ جائے گا۔ دوسری جانب آج بی این ایم کے رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تیرہ سال مکمل ہونے پہ کراچی میں ایک سیمینارکا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔

ریاست ڈائن بن چکی ہے جو ہمارے بچوں کو نگل رہی ہے

ریاست شہریوں کے لئے  ماں کا درجہ رکھتی ہے لیکن بلوچستان کے نوجوان شہریوں کے لئے ریاست ڈائن بن چکی ہے جو ہر کسی کونگل رہی ہے ۔ ان...

تازہ ترین

ہر وقت تھکاوٹ کا باعث بننے والی وجوہات

اگر تو آپ کو روزمرہ کے کاموں کے لیے چائے یا کافی پر انحصار کرنا پڑتا ہے تو آپ تنہا نہیں۔ تھکاوٹ یا نڈھال ہونے...

میں نے کوئٹہ لٹریری فیسٹیول میں کیا دیکھا ۔ نازش بلوچ

میں نے کوئٹہ لٹریری فیسٹیول میں کیا دیکھا تحریر: نازش بلوچ دی بلوچستان پوسٹ گذشتہ دنوں کوئٹہ لٹریری فیسٹیول جانے کا اتفاق ہوا جہاں بلوچستان سمیت دیگر...

مستونگ: فورسز کا گھر پر چھاپہ، ایک شخص لاپتہ

مستونگ میں فورسز نے گھر پر چھاپے کے دؤران ایک شخص کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے-

زامران حملے میں کیپٹن سمیت چھ اہلکار ہلاک و زخمی کئے۔ بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے ضلع کیچ کے علاقے زامران، نہنگ تنک میں پاکستانی فوج کے چار فوجی اہلکاروں کے ہلاکت کی ذمہ...

بولان: پاکستان فوج پر بم حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ بی...

بلوچ لبریشن آرمی نے آج صبح بولان میں فورسز پر ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔