بلوچستان کے مختلف علاقوں پنجگور، جھل مگسی، سوراب، قلات اور خضدار میں فائرنگ، اغوا کے بعد قتل اور لاشیں ملنے کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
پنجگور ٹیچنگ ہسپتال کے اندر گائنی وارڈ کے سامنے مسلح گاڑی سوار افراد کی فائرنگ سے گرمکان کے رہائشی موسیٰ ولد محمد ہلاک ہوگئے۔
تحصیل گنداواہ کے علاقے کھاری میں مسلح افراد نے ہائی اسکول کے چپراسی عبدالرشید دیناری کو گزشتہ روز اسکول سے اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول کی لاش گھاترہ کے قریب کوٹڑہ کے علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
سوراب کے علاقے گدر کے مقام جیوہ سے ایک نامعلوم شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش ملنے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب قلات کے علاقے سنگداس کے قریب سے بھی فائرنگ سے قتل کیے گئے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق لاش کو شناخت کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال قلات منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ مقتول کی شناخت اور قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔
خضدار کے تحصیل وڈھ کے علاقے وہیر سے تعلق رکھنے والے تاجر محمد فیاض نامعلوم افراد کی فائرنگ ہلاک ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق انہیں چیک پوسٹ کے قریب شاہراہ پر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صبح گھر سے وڈھ بازار میں واقع اپنی دکان کی جانب جارہے تھے۔ مقامی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔


















































