کیچ گوکدان کے تین بہادر بھائی — قربانی، عزم اور قومی وفا کی لازوال داستان – سنگت سمیر بلوچ

9

کیچ گوکدان کے تین بہادر بھائی — قربانی، عزم اور قومی وفا کی لازوال داستان

تحریر: سنگت سمیر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ گواہ رہنا! گوکدان کی سرزمین نے ایسے تین بھائیوں کو جنم دیا جن کی زندگیوں کی داستان قربانی، جدوجہد، استقامت اور وطن سے وابستگی کے جذبے سے عبارت ہے۔ نواز عرف استاد گاجیان، نبیل عرف علی جان اور مبشر عرف شاہ دوست کے نام محض تین افراد کے نام نہیں، بلکہ ایک ایسے خاندان کی قربانیوں کی علامت ہیں جس نے اپنے حصے کے دکھ، جدائیاں اور آزمائشیں برداشت کیں۔ یہ وہ داستان ہے جسے قوم کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔

کیچ کے علاقے گوکدان کی مٹی اپنے دامن میں ایک ایسے خاندان کی یادیں سمیٹے ہوئے ہے جس کی زندگی تین بھائیوں کی جدوجہد اور قربانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان بھائیوں کی داستان بیان کرتے ہوئے دل غم سے بھر جاتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس خاندان کے عزم، ثابت قدمی اور وطن سے وابستگی کا احساس سر بھی فخر سے بلند کرتا ہے۔ ایک خاندان کے لیے اس سے بڑھ کر کون سی آزمائش ہوگی کہ اس کے تین بیٹے زندگی کے مختلف مراحل میں ایسی جدائیوں اور حالات سے گزرے جنہوں نے پورے خاندان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

یہ صرف تین بھائیوں کی داستان نہیں، بلکہ ایک ماں کی ممتا، ایک خاندان کے صبر، اپنوں سے بچھڑنے کے درد اور ان قربانیوں کی کہانی ہے جنہیں وقت گزرنے کے باوجود فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔

مبشر عرف شاہ دوست: کلبر کے محاذ پر قربانی

سنہ 2020 میں کلبر کے محاذ پر مبشر عرف شاہ دوست کی شہادت اس خاندان کی تاریخ کا ایک دردناک باب بن گئی۔ لیکن مبشر کی قربانی نے ثابت کیا کہ جہاں وطن کی حفاظت کی بات ہے تو جان دے کر اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض بن جاتا ہے۔

مبشر کی داستان اس خاندان کی قربانیوں کا وہ باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے آنکھیں نم اور دل غمگین ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی اور شہادت کا ذکر آنے والی نسلوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ لوگ جان سکیں کہ تاریخ کے ہر واقعے کے پیچھے ایسے خاندان بھی ہوتے ہیں جو اپنے پیاروں کی جدائی کا ناقابلِ بیان درد برداشت کرتے ہیں۔

مبشر کی یاد اس خاندان کے لیے ہمیشہ زندہ رہے گی، اور اس کی قربانی کی داستان گوکدان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ رہنی چاہیے۔

نبیل عرف علی جان: آزمائشوں سے گزرتا ہوا سفر

نبیل عرف علی جان کی زندگی بھی مشکلات، گرفتاری اور مسلسل آزمائشوں سے عبارت رہی۔ سنہ 2010 میں قابض فوج کی جانب سے ان کے گھر پر حملہ ہوا تو نبیل نے مزاحمت کی، تو نبیل اپنی بہن سمیت زخمی ہوا اور پولیس نے اسے اپنے تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد اسے چار سال تک قید میں رہنا پڑا۔

قید و بند کا زمانہ کسی بھی انسان اور اس کے خاندان کے لیے ایک طویل اور کٹھن آزمائش ہوتا ہے۔ آزادی سے محرومی، گھر والوں سے دوری اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت انسان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ نبیل کی زندگی کا یہ دور بھی اس خاندان کی ان تکالیف کا حصہ ہے جنہیں فراموش کرنا آسان نہیں۔

رہائی کے بعد نبیل نے اپنے گھر میں سکونت اختیار کرنے کے بجائے سفر کو جاری رکھا اور پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا۔ قومی فوج بی ایل اے کے فلیٹ فارم سے کیچ کے مختلف محاذوں پر دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔ پھر 28 اپریل 2025 کو تربت کے علاقے ڈنک میں ایک جھڑپ کے دوران نبیل عرف علی جان، زکا اور ساربان کے ہمراہ قابض دشمن کے ساتھ دو بدو لڑائی میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔

نبیل کی زندگی کے یہ واقعات اس خاندان کی داستان میں ایک اور دردناک باب کا اضافہ کرتے ہیں۔ ایک بھائی کی جدائی کے بعد دوسرے بھائی کی شہادت۔ لیکن اس وقت بھی استاد گاجیان کی شکل میں وطن زادے اپنے بھائیوں کے سنگر کو سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کی یادوں کو محفوظ رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ آنے والی نسلیں ان وطن زادوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کریں۔

نواز عرف استاد گاجیان: کی داستان

نواز عرف استاد گاجیان، مبشر اور نبیل کے بڑے بھائی تھے۔ ان کی زندگی اور قربانی کا ذکر اس خاندان کی داستان کو ایک اور پہلو عطا کرتا ہے۔

11 اکتوبر 2026 کو استاد گاجیان کی شہادت کو سمندر اور ساحل کے دفاع سے وابستہ ہے۔ ان کی داستان کو بلوچ تاریخ کے معروف کردار حمل جیئند اور مکران کے ساحلی علاقوں میں مزاحمت کی تاریخی روایت کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔

مکران کے ساحل بلوچ تاریخ، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ سمندر سے وابستہ تاریخی روایات ہمیں اپنے ماضی، اپنے لوگوں اور اپنی سرزمین کے ساتھ تعلق کی یاد دلاتی ہیں۔ استاد گاجیان کی داستان بھی اس خاندان کی یادوں میں ایک ایسے باب کی حیثیت رکھتی ہے جو قربانی اور نظریے سے وابستگی کے احساسات کو سمیٹے ہوئے ہے۔

شہید نواز عرف استاد گاجیان کو یہ عزاز حاصل ہے کہ وہ بی ایل اے کے سمندری یونٹ حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس کا پہلا شہید ہے۔ اس سے پہلے ساحل کے دفاع کے لیے بی ایل اے کے آپریشن زرپھاز کے تحت کئی فدائین نے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن سمندر کے اندر دشمن پر قہر بن کر اس کے غرور کو خاک میں ملانا اور سمندری یونٹ کا پہلا شہید ہونے کا عزاز نواز عرف استاد گاجیان کو حاصل ہوا۔

ایک طرف مبشر کی کلبر میں شہادت، دوسری طرف نبیل کی گرفتاری، قید اور پھر ڈنک میں شہادت، اور تیسری طرف بڑے بھائی نواز عرف استاد گاجیان کی داستان؛ یہ سب واقعات اس خاندان کی قربانی اور ہمارے لیے قرض ہیں کہ اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں اور شہداء کی قربانیوں کا قرض چکائیں۔

تین بھائی، ایک خاندان اور قربانیوں کی لازوال داستان

جب ہم نواز عرف استاد گاجیان، نبیل عرف علی جان اور مبشر عرف شاہ دوست کے نام ایک ساتھ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے صرف تین افراد کی داستان نہیں آتی، بلکہ ایک پورے خاندان کی قربانیوں، جدائیوں اور استقامت کی تصویر ابھرتی ہے۔

ایک بھائی کی جدائی کا غم ابھی دلوں میں موجود تھا کہ دوسرے بھائی کی زندگی بھی آزمائشوں کی نذر ہو گئی، شہادت تک، لیکن کبھی اپنے نظریے سے انحراف نہیں کیا۔ پھر بڑے بھائی کی داستان نے اس خاندان کی قربانیوں میں مزید اضافہ کیا۔ ایسے حالات میں خاندان کا صبر، اس کی ثابت قدمی اور اپنے پیاروں کی یادوں کو سینے سے لگائے رکھنا خود ایک بڑی انسانی آزمائش ہے۔

یہ وہ خاندان ہے جس کی داستان کو قوم کے حافظے میں زندہ رہنا چاہیے۔ قومیں صرف اپنے تاریخی واقعات سے نہیں، بلکہ ان انسانوں اور خاندانوں کی یادوں سے بھی پہچانی جاتی ہیں جنہوں نے اپنے دور کے حالات میں بھاری قیمتیں ادا کیں۔ اگر ہم ایسے خاندانوں کی داستانوں کو محفوظ نہیں کریں گے تو آنے والی نسلیں اپنے ماضی کے کئی اہم انسانی پہلوؤں سے ناواقف رہ جائیں گی۔

اس خاندان پر فخر کا مطلب صرف اس کے دکھوں کا ذکر کرنا نہیں، بلکہ اس کے صبر، اس کی ثابت قدمی اور ان قربانیوں کو تسلیم کرنا بھی ہے جنہوں نے اس کے وجود پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ خاندان کے لیے اپنے بیٹوں کی یاد باعثِ فخر بھی ہو سکتی ہے اور عمر بھر کا دکھ بھی؛ یہ دونوں احساسات ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی محبت کے دو رخ ہیں۔

قوم کا فرض ہے کہ اس خاندان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کرنا

گوکدان کے اس خاندان کی داستان کو اپنے حافظے میں محفوظ رکھنا۔ ان تین بھائیوں کے ناموں کو محض چند سطروں تک محدود نہ کرنا، بلکہ ان کی زندگیوں، ان کے خاندان کی آزمائشوں اور ان کے پیچھے رہ جانے والے دکھوں کو بھی یاد رکھنا۔

قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ایسے خاندانوں کی قربانیوں اور تکالیف کو عزت کے ساتھ یاد کرے، ان کی داستانوں کو محفوظ کرے اور نئی نسلوں تک پہنچائے۔ یاد رکھنا کہ تاریخ صرف بڑے واقعات اور مشہور ناموں سے نہیں بنتی؛ تاریخ ان ماؤں کے آنسوؤں، ان بہن بھائیوں کی جدائی، ان خاندانوں کے صبر اور ان یادوں سے بھی بنتی ہے جو وقت گزرنے کے باوجود دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔

گوکدان کے اس خاندان کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی خاندان کے دکھ کو بھلا دینا اس کی تاریخ کے ایک اہم باب کو بھلا دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کے نام احترام سے لیں، ان کے اہلِ خانہ کے دکھ کو سمجھیں اور ان کی داستان کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں۔

اے تاریخ! گواہ رہنا کہ کیچ کے گوکدان میں تین بھائیوں کی ایک ایسی داستان رقم ہوئی جسے فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ نواز عرف استاد گاجیان، نبیل عرف علی جان اور مبشر عرف شاہ دوست کے نام ان کے خاندان کی یادوں اور اس داستان سے وابستہ رہیں گے۔ ان کی زندگیوں کے واقعات، ان کے خاندان کی آزمائشیں اور ان کی جدائیوں کا درد اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہر قربانی کے پیچھے ایک انسانی زندگی اور ایک خاندان کی پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔

ہمیں اس خاندان کے صبر اور استقامت پر فخر ہے۔ ہمیں اس کے دکھوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ اس کی داستان کو خاموشی کے اندھیروں میں گم نہیں ہونے دیں گے۔

گوکدان کے تین بھائیوں کی داستان محض ماضی کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ یاد رکھنے کی ایک ذمہ داری ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔