سلیمانی شہزادہ ہارون عرف مبارک (واھگ بُزدار)
تحریر: گُل شیر منیر
دی بلوچستان پوسٹ
سنگت کی شہادت نے میرے سینے میں سوزِ درد اور تپش کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ ان کی سیاسی و فکری تربیت اس قدر بالیدہ تھی کہ وہ سنگتی کے تقدس، اعتبار اور حقیقی حیثیت سے کماحقہ واقف تھے۔ وہ ایک عہد ساز سرمچار تھے، جنہوں نے کبھی نمائش پسند کرداروں کی طرح اپنے نام، ذات اور نمود و نمائش کو ترجیح نہ دی۔ ان کی مسلسل جدوجہد کا محور و مرکز ہمیشہ یہی رہا کہ تمام دوست باہم متحد ہو کر ہمارے قومی مقصد کو نئی توانائی اور جلا بخشیں۔
یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سنگت ماما ہارون عرف مبارک (قلمی نام: واھگ بُزدار) ایک درویش صفت اور عالی ظرف کردار کے مالک تھے۔ ماما نے محاذِ عمل میں سپر بستہ رہتے ہوئے تنظیمی فرائض کو اپنی عین ذمہ داری تسلیم کر لیا تھا، لیکن ان کی ہمہ وقت یہی تگ و دو رہتی تھی کہ ہمارے (سرکل) کا کوئی بھی شخص غیر فعال نہ رہے۔ اگر کوئی دوست ذرا بھی کاہلی کا شکار دکھائی دیتا، تو ماما فوراً اپنے دوستانہ و مستانہ مزاج کے ساتھ اسے قومی فرائض اور تنظیمی وابستگی کا احساس دلاتے اور بیدار کرتے۔ قومی فرض اور ذمہ داری سے اگرچہ تمام دوست آگاہ تھے، مگر اسے فرض جان بنانا کچھ دوستوں کے لیے آسان نہیں تھا، کیونکہ ہر شخص ماما کی طرح اپنی دھرتی کے دفاع میں ہمہ تن گوش اور مگن رہنے کے بجائے، اپنی خود غرضانہ ذاتی خواہشات کی تسکین کو ترجیح دینے میں مصروف تھا۔ یہ وہ وجودی کیفیت اور ایثار کا جذبہ ہے جس کے تحت انسان اپنا سب کچھ مادرِ وطن کے روشن مستقبل کے لیے قربان کرنے کی تمنا رکھتا ہے۔ وہ اس حقیقت سے کامل آگاہی رکھتے تھے کہ انقلابِ فردا کی سحر دیکھنے کے لیے شاید ہم کل موجود نہ ہوں گے، لیکن بلوچ کی قومی و تاریخی شناخت تا ابد قائم و دائم رہے گی۔
ماما جان کی شہادت نے ایک ایسی بے خوف، انقلابی اور شعوری کیفیت طاری کر دی ہے کہ کچھ دوست ایسی جذباتی حالت میں ہیں کہ ان سے جب بھی رابطہ ہوا، وہ وطن کی الفت کی فضاؤں میں یوں گم و مدہوش تھے کہ ماما جان بولان و سیوی کی آغوش میں دوبارہ جنم لے چکا ہے۔ اور ماما جان کے شکل میں ہزاروں سرمچار دوست اب بھی کوہِ سلیمان سے لے کر مکران کے سلسلوں تک اپنے سینے سے بارود باندھے، اپنے ہدف کی سمت چشمِ براہ اور نبرد آزما ہیں۔
ماما! اپنے اس ناچیز اور نادان دوست کی خطا معاف کر دیجیے کہ معلوم نہیں کیا خامہ فرسائی اور یاوہ گوئی کیے جا رہا ہے۔ کسی کی دلنشیں ہنسی کی آواز میرے کانوں میں ہر صبح گونجتی ہے اور مجھے یاد دلاتی ہے کہ ”کرتے رہو جو لاحاصل باتیں کرنی ہیں، اور لکھتے رہو جو خامہ فرسائی کرنی ہے“۔ اس کشمکش میں بے زبانوں کی طرح اپنی عادت سے مجبور ماما ہارون سے لے کر ہزاروں شہداء کی تصاویر کو پشیمانی سے دیکھتا رہتا ہوں، مگر سچ یہ ہے کہ اب ان کے اعلیٰ منصب و رتبہ کے لیے رقم کرنے کی سکت اور توانائی میرے قلم میں باقی نہیں رہی۔
یہ چند سطریں اور ناقص جملے آپ کے عظیم کردار کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ لفظ ”ماما“ کی وسعت ہی اپنی جگہ اتنی محیط ہے کہ اسے بیان کرنا ممکن نہیں، پھر اس کے بعد ”مبارک“ اور ”واھگ بُزدار“ کی صورت میں ان کی ذات کا ایک الگ بلند مقام اور عظیم مقصد تھا۔ ان کی داستانِ حیات کو کہاں سے شروع کروں اور کہاں پر تمام کروں؟ شاید کسی جید اور صاحبِ طرز لکھاری کے لیے بھی یہ کام اتنا آسان نہ ہوتا اگر وہ اس جدوجہد اور عظیم ذمہ داری کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر محسوس نہ کرتا۔
شہید ہارون عرف مبارک خود ایک بہترین قلم کار اور صاحبِ طرز مصنف تھے۔ وہ اس نفاست اور باریک بینی سے بخوبی واقف تھے کہ کسی عظیم ہستی کے کردار اور کارناموں کا احاطہ ایک یا دو تحریروں میں ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ میں کوئی صاحبِ طرز قلم کار نہیں ہوں کہ جو کبھی سخت اور کبھی نرم لہجے کی رعایت رکھتے ہوئے کسی کے مقام و مرتبے کی قدر شناسی کر سکوں یا ان کی طرح طویل و پر مغز پیراگراف قلمبند کر سکوں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































