12 دنوں کی 34 کارروائیوں میں قابض فوج کے 23 اہلکار ہلاک، ایک اہلکار گرفتار – بلوچ لبریشن آرمی

72

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 9 اکتوبر سے 20 اکتوبر 2026ء کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 روز پر محیط شدید نوعیت کی 34 عسکری کارروائیاں سرانجام دیں۔ ان حملوں میں قابض فوج کے 14 اور ملٹری انٹیلی جنس و ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے 9 کارندے ہلاک ہوگئے، جبکہ ‘معاشی ناکہ بندی’ کی تنظیمی پالیسی کے تحت اہم شاہراہوں پر بلاشرکتِ غیرے کنٹرول اور اسنیپ چیکنگ کا عمل کامیابی سے جاری رہا۔ ان عملیات کے دوران سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک حاضر سروس اہلکار کو بھی حراست میں لے لیا۔ مختلف محاذوں پر قابض فورسز کے ساتھ روبرو جھڑپوں میں بی ایل اے کے چھ سرمچار بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوگئے۔

ترجمان کے مطابق 9 اکتوبر کو تربت کے علاقے ناصر آباد میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے ارکان کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کا ایک کارندہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ 13 اکتوبر کو ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں سجو کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا، جس سے دشمن کے تین اہلکار موقع پر ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے جبکہ عسکری گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اسی روز چاغی کے علاقے دالبندین میں کرودک کے مقام پر کوئٹہ تفتان تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے دو تجارتی گاڑیوں کو اپنی تحویل میں لے کر ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر کے ناکارہ بنا دیا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ 14 اکتوبر کو مستونگ میں دشت بابا کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی۔ اس ناگہانی حملے میں دشمن کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی دو گاڑیاں شدید متاثر ہوئیں۔ دریں اثناء خضدار میں سمبا پل کے قریب قابض پاکستانی فوج اور تجارتی گاڑیوں کے کانوائے پر سرمچاروں نے شدید مسلح حملہ کرکے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔

اسی روز خاران کے علاقے خوکاپ کے رہائشی اور قابض فوج کے دو اہم آلہ کاروں بہادر خان ولد پیر محمد مردان شہی اور صابر ولد نادر کی سزائے موت پر عمل درآمد کر کے انہیں ہلاک کردیا گیا۔ مذکورہ دونوں کارندوں نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ وہ ‘ڈیتھ اسکواڈ’ سے منسلک ہوکر قابض فوج کے لیئے بطور آلہ کار خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید اعتراف کیا کہ قابض فوج کی ایماء پر انہوں نے علاقے میں ٹریکنگ چپس پہنچائے، نیز علاقے میں جاری ملٹری آپریشنز اور فوجی جارحیت کے دوران وہ قابض فورسز کی براہِ راست سہولت کاری میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ 15 اکتوبر کو بلیدہ کے علاقے زومدان میں سرمچاروں نے قابض فوج کے ان پیدل اہلکاروں کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا جو فوجی قافلوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیئے پیش قدمی کررہے تھے۔ حملے میں قابض فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ اسی روز نوشکی بازار میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ایک اور اہم آلہ کار پنھل کو مسلح حملہ کرکے ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندہ دکاندار کے بھیس میں قابض فوج کے لیئے مخبری اور انٹیلی جنس سہولت کاری کر رہا تھا۔

دریں اثناء قلعہ عبداللہ میں پنکی چوکی کو سرمچاروں نے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ مزید برآں چاغی کے علاقے یک مچ میں تھانے کو سرمچاروں نے کنٹرول میں لینے کے بعد دھماکے سے اڑا دیا، جبکہ اسی دوران یک مچ بازار میں نصب کیے گئے تمام جاسوسی کیمروں کو فائرنگ کرکے ناکارہ بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ 16 اکتوبر کو کیچ کے علاقے دشت میں چیرکنچتی کے مقام پر سرمچاروں نے پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فوج کے اہلکاروں پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء قلات کے علاقے منگچر میں سورو کے مقام پر سرمچاروں نے اسنائپر حملے میں قابض فوج کے ایک اہلکار کو ہلاک کردیا، جبکہ مستونگ میں گرگینہ گریڈ اسٹیشن کے قریب بی ایل اے کے اسنائپر نے قابض فوج کے جمع شدہ اہلکاروں میں سے ایک اہلکار کو ٹھکانے لگا دیا۔

اسی روز خاران کے علاقے پتکن میں سرمچاروں نے قابض فوج کے ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اہلکار عتیق الرحمان سکنہ ملتان، پنجاب کے سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔ مذکورہ کارندے کو گزشتہ دنوں شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جس سے حساس برقی آلات ودیگر مواصلاتی سامان برآمد ہوا تھا۔ مزید برآں بارکھان سے حراست میں لیے گئے قابض فوج کے آلہ کار شیرباز ولد عبدالرحمان کھیتران کی سزائے موت پر بھی عمل درآمد کر دیا گیا۔ مذکورہ آلہ کار نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا تھا کہ وہ قابض فوج کے کرنل یونس سے براہِ راست رابطے میں تھا اور اسے علاقے میں مخبری کا ٹاسک ملا ہوا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ مقامی دکانداروں کے متعلق قابض فوج کو معلومات فراہم کرنے کے علاوہ علاقے کے چار افراد کو جبری طور پر لاپتہ کروانے میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔

بیان میں کہاکہ مزید برآں لسبیلہ کے علاقے ماہی پیر میں سرمچاروں نے ایک کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں کی گاڑی اور تمام اسلحہ ضبط کرلیا۔ تنظیمی پالیسی کے تحت پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کے بعد بحفاظت رہا کر دیا گیا، تاہم بعد ازاں جب قابض فورسز نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی تو سرمچاروں نے ان پر حملہ کر کے شدید نقصانات سے دوچار کیا۔

ترجمان نے کہاکہ اسی روز پنجگور کے علاقے کلگ میں سرمچاروں نے ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ احمد کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس اس کا ایک ساتھی موقع پر ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

بیان کے مطابق 17 اکتوبر کو چاغی کے علاقے دالبندین میں سرمچاروں نے کرودک کے مقام پر کوئٹہ تفتان تجارتی شاہراہ پر تین تجارتی گاڑیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اسی روز خضدار کے علاقے باغبانہ میں قابض فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی کمک سے بڑے پیمانے پر حملے کا آغاز کیا، جہاں سرمچاروں نے مختلف مقامات پر پیش قدمی کرنے والی فورسز پر جوابی حملے کرکے انہیں سنگین جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔

مزید کہاکہ 18 اکتوبر خاران کے علاقے دالی میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت مسلح حملے میں نشانہ بنایا جب وہ پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی۔ حملے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید ایک زخمی ہو گیا۔ دریں اثناء خضدار کے علاقے کرخ میں سرمچاروں نے سی پیک روٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال کر تین گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔ اس دوران قابض فوج کے لیئے لوجسٹک اور رسد پہنچانے والی ایک گاڑی کو سامان سمیت تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ قابض فوج کے ایک حاضر سروس اہلکار نادر علی ولد امداد حسین (سکنہ کرخ، گل بھٹ) کو گرفتار کرلیا گیا۔ مذکورہ اہلکار جنوری 2026ء میں قابض فوج میں شامل ہوا اور مارچ 2026ء میں اٹک، پنجاب سے عسکری تربیت حاصل کی۔ ابتدائی تفتیش میں نادر نے بتایا کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ پانچ ماہ تک میس میں ملازم رہا ہے۔ اہلکار سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کا حتمی فیصلہ بلوچ قومی عدالت کرے گی۔

ترجمان نے کہاکہ مزید برآں سرمچاروں نے قبل ازیں زرد کے علاقے سے حراست میں لیے گئے قابض فوج کے دو مخبروں فہیم ولد سلطان احمد اور مجید ولد محمد بخش (سکنہ خیرپور، سندھ) کو واشک کے علاقے ارماگئے میں سزائے موت دے دی۔ دورانِ تفتیش دونوں کارندوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ خاران اور اس سے متصل علاقوں میں بھیس بدل کر قابض فوج کے لیے بطور مخبر وسہولت کار فعال کردار ادا کر رہے تھے۔

انہوں نے کہاکہ سوموار کی شب سرمچاروں نے پنجگور کے علاقے تسپ میں اسٹار چوک کا مکمل کنٹرول حاصل کر کے چار گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔ اس دوران رسد لے جانے والی دو گاڑیوں کو ضبط کیا گیا جبکہ ایک مشکوک شخص کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں جب قابض پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی تو جدید ہتھیاروں سے لیس سرمچاروں نے ان پر شدید حملہ کر دیا، جس میں قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد اہلکار ہلاک وزخمی ہوگئے۔

ترجمان کے مطابق 20 اکتوبر کو سوراب کے علاقے ہاجیکہ میں قابض پاکستانی فوج کی بم ڈسپوزل ٹیم کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ دریں اثناء چاغی کے علاقے نوکچاہ میں قابض فوج کے قافلے کی ایک گاڑی کو سرمچاروں نے بم دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور کم از کم تین شدید زخمی ہوگئے۔ مزید برآں نوشکی میں تاڑیز کے مقام پر سرمچاروں نے دو گھنٹوں سے زائد وقت تک مکمل ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ جاری رکھی، اس دوران ایک مسافر کوچ سے قابض فوج کے لیئے لے جایا جانے والا راشن ضبط کیا گیا جبکہ کوچ ڈرائیور کو تنبیہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔

بیان کے مطابق قبل ازیں 18 ستمبر کو چاغی کے علاقے سیاہ چنگ میں قابض پاکستانی فوج اور بی ایل اے کے سرمچاروں کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں قابض فوج کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے، جبکہ ان جھڑپوں کے دوران بی ایل اے کا جانباز سرمچار اسحاق شوکت عرف میران بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگیا۔

19 ستمبر کو پنجگور، پروم میں قابض پاکستانی فوج اور سرمچاروں کے درمیان طویل اور خونی معرکہ آرائی ہوئی۔ ان جھڑپوں میں قابض فوج کے چار اہلکار ہلاک، متعدد زخمی اور ایک فوجی گاڑی تباہ ہوئی۔ اس معرکے میں بی ایل اے کے چار سرمچار علی عرف سلمان، اختیار عرف فرید، ثناء اللہ عرف شئے مرید اور سہیل عرف ابصار مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

جیئند بلوچ کے مطابق قبل ازیں، زیارت کراس کے مقام پر قابض فوج کے کواڈ کاپٹر حملے میں شدید زخمی ہونے والے سنگت امان اللہ مینگل عرف میرک زواخم کی تاب نہ لاتے ہوئے 8 اگست کو شہید ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی وطن کے دفاع کی راہ میں شہید ہونے والے جلی العزم سرمچاروں شہید اسحاق شوکت عرف میران، شہید علی عرف سلمان، شہید اختیار عرف فرید، شہید ثناء اللہ عرف شئے مرید، شہید سہیل عرف ابصار اور شہید امان اللہ مینگل عرف میرک کو ان کی بے مثال قربانیوں پر سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان تمام شہداء کا مقدس لہو بلوچ قومی بقا، غیرت اور حتمی آزادی کا لافانی ضامن ہے۔

آخر میں کہاکہ شہداء کی یہ عظیم قربانیاں اس فکری اور عسکری تسلسل کا ثبوت ہیں جو بلوچستان کے ہر مورچے کو توانائی بخش رہا ہے۔ بی ایل اے اپنے ان جانباز شہداء کے روشن افکار اور نقشِ قدم پر ثابت قدمی سے گامزن رہنے کا عہد کرتی ہے۔ قابض فورسز کا اپنی سرزمین سے مکمل خاتمہ اور آزاد وخودمختار بلوچستان کا قیام ہی ان تمام شہداء کے مشن کی حتمی تکمیل ہوگا، اور یہ مسلح جدوجہد منزل کے حصول تک اسی شدت اور قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔