زندگی کی حقیقت – ملک عیسیٰ خان رند

1

زندگی کی حقیقت

تحریر: ملک عیسیٰ خان رند

دی بلوچستان پوسٹ

انسان کی زندگی بظاہر چند دنوں، چند خوابوں، چند خواہشات اور چند رشتوں کا نام ہے، مگر حقیقت میں یہ خوشیوں سے زیادہ آزمائشوں، اپنائیت سے زیادہ تنہائیوں اور امیدوں سے زیادہ محرومیوں کا سفر ہے۔ انسان جب دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر آنکھوں میں خواب، دل میں امیدیں اور لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔ پھر وقت آہستہ آہستہ اسے زندگی کے وہ سبق سکھاتا ہے جنہیں پڑھنے کے لیے کسی کتاب کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ سبق آنسوؤں، ناکامیوں، جدائیوں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے لکھے جاتے ہیں۔

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتا۔ ہر شخص ایک دن چلا جاتا ہے، مگر اس کے جانے سے پہلے بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، رشتوں کے معنی بدل جاتے ہیں، محبتوں کی شدت کم ہو جاتی ہے اور وہ لوگ بھی اجنبی بن جاتے ہیں جن کے بغیر کبھی زندگی کا تصور ممکن نہیں لگتا تھا۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ جن ہاتھوں کو تھام کر اس نے عمر بھر چلنے کے خواب دیکھے تھے، ایک دن وہی ہاتھ اسے تنہا چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔

زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ انسان مر جاتا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ زندہ رہتے ہوئے بھی کئی بار اندر سے مر جاتا ہے۔

کبھی کسی اپنے کی بے رخی اسے توڑ دیتی ہے، کبھی معاشرے کی بے حسی اس کے وجود کو زخمی کر دیتی ہے، کبھی غربت اس کے خوابوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور کبھی بیماری اسے اپنے ہی جسم میں قید کر دیتی ہے۔ کبھی وہ دوسروں کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کرتا رہتا ہے، مگر جب خود اس کے چہرے پر اداسی اترتی ہے تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ سب کے دکھ سنتا ہے، سب کے آنسو پونچھتا ہے، سب کے لیے دعائیں کرتا ہے، مگر جب اس کی اپنی آنکھیں نم ہوتی ہیں تو اسے اپنے آنسو چھپانے کے لیے بھی کوئی کندھا میسر نہیں آتا۔

یہ دنیا بھی عجیب ہے؛ یہاں انسان کی قدر اکثر اس کی شخصیت سے نہیں، اس کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ جب تک اس کے پاس دولت، طاقت، عہدہ اور وسائل ہوں، لوگ اس کے گرد جمع رہتے ہیں۔ اس کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے، اس کی خاموشی کو بھی معنی پہنائے جاتے ہیں اور اس کی معمولی سی توجہ کو بھی محبت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب حالات اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، جب جیب خالی اور قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں، تو اکثر وہی لوگ نظریں پھیر لیتے ہیں جو کبھی اس کے بغیر ایک لمحہ گزارنے کو تیار نہ تھے۔

تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسکراہٹ محبت نہیں ہوتی، ہر تعلق مخلص نہیں ہوتا اور ہر قریب دکھائی دینے والا شخص اپنا نہیں ہوتا۔

زندگی میں سب سے زیادہ درد اس وقت ہوتا ہے جب انسان کسی سے کچھ مانگنا بھی نہیں چاہتا، صرف تھوڑی سی توجہ، دو ہمدردانہ الفاظ اور چند لمحوں کی اپنائیت چاہتا ہے، مگر اسے یہ معمولی سی چیز بھی نصیب نہیں ہوتی۔ وہ اپنے دل کی بات زبان پر لانے سے ڈرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس کے دکھ کو سمجھنے کے بجائے اس کا مذاق اڑا سکتے ہیں، اس کی کمزوری کو اس کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں یا چند رسمی جملے کہہ کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ سکتے ہیں۔

ایسے میں پھر وہ خاموش رہنا سیکھ لیتا ہے۔

یہ خاموشی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کے پیچھے ایک ایسا طوفان چھپا ہوتا ہے جس کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ کچھ لوگ ہنستے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔ وہ محفلوں میں بیٹھ کر دوسروں کو ہنساتے ہیں، مگر تنہائی میں اپنی ہی زندگی کے سوالوں سے لڑتے رہتے ہیں۔ وہ سب کو حوصلہ دیتے ہیں، مگر اپنے لیے حوصلے کے دو لفظ تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔

انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ بہت کچھ حاصل کرنے کے باوجود خود کو خالی محسوس کرتا ہے۔ اسے سمجھ آتی ہے کہ سکون صرف دولت میں نہیں، محبت صرف خوب صورت الفاظ میں نہیں اور کامیابی صرف بڑے عہدوں یا بلند عمارتوں میں نہیں ہوتی۔ اصل سکون اس دل میں ہوتا ہے جسے کسی کے سامنے اپنی بے بسی چھپانی نہ پڑے۔ اصل دولت وہ رشتے ہیں جن میں انسان کی قدر اس کے حالات کے مطابق کم یا زیادہ نہ ہو۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی تمام محرومیوں کے باوجود اپنا ضمیر، اپنی انسانیت اور اپنے اندر کی روشنی کو محفوظ رکھ سکے۔

مگر افسوس کہ ہم نے زندگی کو ایک ایسی دوڑ بنا دیا ہے جس میں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنا چاہتا ہے۔ کوئی دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی شہرت کے پیچھے اور کوئی دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ اس بھاگ دوڑ میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شخص کو ہم شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں، ممکن ہے وہ اندر سے کسی ایسی جنگ میں مصروف ہو جس کا ہمیں اندازہ بھی نہ ہو۔

ہم کسی کے کپڑے دیکھتے ہیں، اس کے دل کے زخم نہیں۔ اس کی مسکراہٹ دیکھتے ہیں، اس کی راتوں کی بے خوابی نہیں۔ اس کی کامیابی دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے چھپی قربانیاں نہیں۔ ہم کسی کو چند لمحوں میں پرکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہر انسان اپنے سینے میں ایک پوری داستان لیے پھرتا ہے؛ ایسی داستان جس کے کچھ صفحات خوشیوں سے بھرے ہوتے ہیں اور کچھ پر آنسوؤں کے دھبے ہوتے ہیں۔

زندگی کی ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ بچپن کب جوانی میں بدل جاتا ہے، جوانی کب بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ جاتی ہے اور اپنے کب یادوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، انسان کو معلوم ہی نہیں ہوتا۔ کل جن گلیوں میں دوستوں کے ساتھ قہقہے گونجتے تھے، آج وہاں خاموشی بسی ہوتی ہے۔ کل جن گھروں میں بزرگوں کی آوازیں زندگی کا احساس دلاتی تھیں، آج وہاں ان کی تصویریں دیواروں پر خاموشی سے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ کل جن ہاتھوں نے ہمیں چلنا سکھایا تھا، ایک دن وہی ہاتھ مٹی کے نیچے سو جاتے ہیں۔

تب احساس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی کے کتنے قیمتی لمحے معمولی باتوں پر ناراضی میں ضائع کر دیے۔ کتنی بار کسی اپنے کی بات سننے کے بجائے اسے خاموش کر دیا۔ کتنی بار محبت کا اظہار یہ سوچ کر مؤخر کر دیا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔ کتنی بار کسی کی تکلیف کو یہ کہہ کر نظرانداز کیا کہ سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن وقت گزرنے کے بعد کچھ دروازے دوبارہ نہیں کھلتے، کچھ آوازیں دوبارہ سنائی نہیں دیتیں اور کچھ معافیتیں صرف دل میں رہ جاتی ہیں۔

اس لیے زندگی کو صرف کل کے انتظار میں مت گزارو۔ اپنے پیاروں کو وقت دو، کسی اداس چہرے سے اس کی خیریت پوچھو، کسی مجبور کی مدد کرو، کسی تنہا انسان کے پاس بیٹھو اور کسی ایسے شخص کی بات سنو جسے دنیا نے سننا چھوڑ دیا ہو۔ ممکن ہے تمہارے چند الفاظ کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیں۔ ممکن ہے تمہاری معمولی سی مہربانی کسی کے لیے امید کا آخری چراغ بن جائے۔

اور اگر کبھی زندگی تمہیں ایسے موڑ پر لے آئے جہاں ہر طرف اندھیرا دکھائی دے، جہاں محنت کے باوجود راستے بند محسوس ہوں اور جہاں اپنے بھی اجنبی بن جائیں، تو یاد رکھنا کہ تمہاری موجودہ تکلیف تمہاری پوری زندگی کی حقیقت نہیں ہے۔ حالات بدل سکتے ہیں، راستے نکل سکتے ہیں اور وہ صبح بھی آ سکتی ہے جس کا انتظار کرتے کرتے تم تھک چکے ہو۔ ضرورت پڑنے پر کسی قابلِ اعتماد شخص سے اپنے دل کی بات کہنا کمزوری نہیں، بلکہ اپنے آپ کو سنبھالنے کی ایک بہادرانہ کوشش ہے۔

تمہاری قدر صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ تم کتنا کماتے ہو، کتنے کامیاب ہو یا کتنے لوگ تمہیں چاہتے ہیں۔ تمہاری اپنی ایک حیثیت ہے، تمہارے وجود کی اپنی اہمیت ہے۔ دنیا اگر تمہیں نظرانداز کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم بے وقعت ہو۔ بعض اوقات لوگوں کی بے حسی ان کی اپنی محرومی ہوتی ہے، تمہاری نہیں۔

زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ اپنے وجود کو کسی اچھے مقصد سے جوڑنا بھی ہے۔ کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا، اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا، اپنی غلطیوں سے سیکھنا، اپنے دکھ کو دوسروں کے لیے ہمدردی میں بدلنا اور مشکل حالات میں بھی انسانیت کا دامن نہ چھوڑنا ہی زندگی کو معنی عطا کرتا ہے۔

آخرکار ایک دن ہم سب نے اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے۔ نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ عہدے، نہ شہرت اور نہ وہ چیزیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے ہم نے اپنی نیندیں، صحت اور سکون قربان کیے۔ ہمارے بعد اگر کچھ باقی رہے گا تو وہ ہمارے کردار کی خوشبو، ہماری محبت کی یاد، ہماری نیکیوں کے اثرات اور ان دلوں کی دعائیں ہوں گی جنہیں ہم نے کبھی ٹوٹنے سے بچایا تھا۔

اس لیے زندگی کو نفرتوں، انتقام، حسد اور بے مقصد مقابلوں میں ضائع نہ کرو۔ کسی کے لیے کانٹا بننے کے بجائے پھول بنو۔ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کا سہارا بنو۔ کسی کے آنسوؤں کا سبب بننے کے بجائے اس کی مسکراہٹ کی وجہ بنو۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ تم نے کتنے لوگوں کو اپنے سامنے جھکایا، بلکہ یہ ہے کہ تمہاری وجہ سے کتنے لوگوں نے دوبارہ سر اٹھا کر جینا سیکھا۔

زندگی بہت مختصر ہے، مگر اسے خوب صورت بنانے کے مواقع بے شمار ہیں۔

اس کی حقیقت شاید یہی ہے کہ ہم یہاں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ کچھ وقت کے لیے آئے ہیں اور اس سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ کے مسافر بنے ہیں۔ کوئی ہمیں محبت کا سبق سکھانے آتا ہے، کوئی صبر کا، کوئی وفا کا اور کوئی جدائی کا۔

ہر شخص کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے، اور ہر تجربہ ہمیں پہلے سے مختلف بنا دیتا ہے۔

بس کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جب ہماری زندگی کا سفر ختم ہو تو ہم اپنے پیچھے صرف یادیں ہی نہیں، بلکہ ایسی محبت، ایسی نیکی اور ایسی انسانیت بھی چھوڑ جائیں جو ہمارے بعد بھی کسی کے دل میں زندہ رہے۔

کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت نہیں، بلکہ وہ وقت ہے جو موت سے پہلے ہمارے پاس موجود ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے سال زندگی گزاری، بلکہ یہ ہے کہ ان برسوں میں ہم نے کتنے دلوں کو سکون دیا، کتنے آنسو پونچھے، کتنے رشتے نبھائے اور کتنی بار اپنے مفاد سے بلند ہو کر کسی دوسرے انسان کے درد کو اپنا درد سمجھا۔

زندگی ایک دن ختم ہو جائے گی، مگر محبت سے کیا گیا کوئی عمل شاید کسی کی پوری زندگی میں روشنی بن کر باقی رہے اور شاید یہی زندگی کی سب سے خوب صورت، سب سے دردناک اور سچی حقیقت ہے۔

ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہماری آواز خاموش ہو جائے گی، ہمارے قدم رک جائیں گے، ہماری خواہشیں ادھوری رہ جائیں گی۔

یاد رکھو! زندگی چند سانسوں کی امانت، چند رشتوں کی رفاقت، چند خوابوں کی مسافت اور چند یادوں کی وراثت ہے۔ ہم خالی ہاتھ آتے ہیں، خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں؛ درمیان کا تمام سفر صرف اس لیے ہے کہ ہم طے کریں کہ اپنے حصے کے وقت میں نفرتیں بانٹنی ہیں یا محبت، دل توڑنے ہیں یا دل جوڑنے ہیں، اندھیرے بڑھانے ہیں یا چراغ جلانے ہیں۔

ایک دن ہم سب مٹی کا حصہ بن جائیں گے، ہمارے نام وقت کی گرد میں دھندلا جائیں گے اور ہماری آوازیں خاموشی میں کھو جائیں گی۔ اس دن ہماری کامیابی کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوگا کہ ہم نے دنیا سے کتنا حاصل کیا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ ہمارے ہونے سے دنیا میں کتنا خلوص، کتنی آسانی اور کتنی انسانیت باقی رہی۔ اسی لیے زندگی کو صرف گزارو مت، بلکہ اسے کسی کے لیے خوب صورت بھی بناؤ؛ کیونکہ عمر ختم ہو جاتی ہے، سانسیں تھم جاتی ہیں، دنیا بھول جاتی ہے، مگر سچی محبت سے کیا گیا کوئی عمل کسی کے دل میں مدتوں زندہ رہتا ہے۔ شاید یہی زندگی کی آخری حقیقت، انسان ہونے کا اصل مقصد اور اس مختصر سفر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔