کوئٹہ: بلوچستان میں ایک سال کے دوران 60 ہزار سے زائد آپریشنز کئے گئے۔ چیف سیکریٹری داخلہ

9

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے کہا ہے کہ دہشت گردی ملک کا ناسور ہے، اس کے خاتمے کے لیے فورسز کو مضبوط بنانے اور مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے فورسز کو درکار تمام وسائل فراہم کر رہی ہے۔

کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو، وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس عرصے میں دہشت گردی کے خلاف 18 نئے قوانین منظور کیے گئے، جبکہ 17 نئے محکمے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان اور کاؤنٹر ٹیررازم سمیت مختلف شعبوں میں بھی کام جاری ہے۔

حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں فیس لیس عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں، جبکہ سیف سٹی منصوبے، فرانزک ایجنسی، کوئٹہ سیکیورٹی بورڈ اور جدید کیمروں کی تنصیب سمیت مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں مختلف نوعیت کے 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جبکہ 11 لاکھ سے زائد مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔ شاہراہوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آئندہ تین سے چار ماہ میں کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہوں کو محفوظ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانا ضروری ہے اور صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔

ضیا لانگو نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات کیے جاتے تو وہاں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بلوچستان میں منظور کیے گئے قوانین کی کابینہ کے ساتھ صوبائی اسمبلی نے بھی منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کی۔

شاہد رند نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایمرجنسی کے تناظر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوششیں بھی ایک وجہ ہیں، جبکہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی جانب سے اس نوعیت کے مارچ کی بات نہیں کی گئی۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ بلوچستان نے مینا مجید کے بھائی کے اغوا کی خبروں کا بھی ذکر کیا۔