یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی، حوثی میزائل حملوں میں ریاض اور عدن ہدف

69

یمن میں جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ انصار اللہ (حوثی) گروپ نے سعودی عرب اور جنوبی یمن میں متعدد میزائل حملے کیے ہیں، جبکہ مختلف محاذوں پر زمینی جھڑپیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ سعودی زیرقیادت اتحاد کے مطابق ریاض کے شمال میں حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔

دوسری جانب عدن سکیورٹی اتھارٹی کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے داغے گئے دو میزائل عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیے گئے۔ حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن کے مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں، خصوصاً مغربی ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے اطراف، پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یمنی سرحد کے قریب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔

اگرچہ سعودی حکام نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق اس دوران ایئرپورٹ کی فضائی حدود میں بار بار عارضی بندش دیکھی گئی۔

جنگی جرائم کے الزامات

دریں اثنا، باب المندب کے قریب لڑائی کی ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویڈیو کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ویڈیو میں بکتر بند گاڑیوں کو ایسے افراد کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن میں بعض مسلح اور بعض بظاہر غیر مسلح نظر آتے ہیں۔ کچھ افراد ہاتھ بلند کیے، بیٹھے یا زمین پر لیٹے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

حوثیوں نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے حکومتی فورسز پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ان کے مخالفین کی ’’حقیقی نوعیت‘‘ کو بے نقاب کرتی ہے۔

تاہم باب المندب کے محاذ پر سرگرم جائنٹس بریگیڈز کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ حوثی جنگجو ہتھیار ڈال رہے ہیں، لیکن بعد میں بعض افراد نے حکومتی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔

سعودی زیرقیادت اتحاد نے ویڈیو یا لگائے گئے الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ ہوم لینڈ شیلڈ فورسز نے اپنے اہلکاروں کو قیدیوں کے ساتھ انسانی، اخلاقی اور قانونی اصولوں کے مطابق سلوک کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

باب المندب کے گرد شدید جھڑپیں

دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے باب المندب کے اطراف لڑائی بدستور جاری ہے۔

حکومتی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ حوثیوں کے زیر قبضہ متعدد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ پیر کی شب فورسز نے کئی محاذوں پر کامیابیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ تعز کے مختلف علاقوں سے حوثیوں کو پسپا کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبہ مارب کے جنوبی حصوں میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔