لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمان اور سابق شیڈو چانسلر جان میک ڈونل نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے معاملے پر زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی اپنی نوآبادیاتی تاریخ کے باعث اس پر ایک ’’ خصوصی ذمہ داری ‘‘ عائد ہوتی ہے۔
جمعرات کے روز جنیوا پریس کلب میں بی این ایم کی طرف سے منعقدہ بارہویں بلوچستان بین الاقوامی کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے میک ڈونل نے کہا کہ برطانوی وزرا کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے میں مدد کرنی چاہیے اور بلوچ عوام کے ’’ امن، انصاف اور حقِ خود ارادیت ‘‘ کے مطالبات کو تسلیم کرنا چاہیے۔
جان میک ڈونل نے شرکاء کو بتایا کہ وہ پاکستانی جبر کے متاثرہ بلوچوں کو برطانیہ میں سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتے رہے ہیں اور وہ اپنا یہ موقف برقرار رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کو پناہ کے معاملے میں اپنی ذمہ داری کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ نئی پابندیوں نے پناہ کے متلاشی افراد کو درپیش مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ وہ یہ مؤقف برقرار رکھے گا کہ بعض افراد اس لیے پناہ اور تحفظ چاہتے ہیں کہ ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں تاہم انھوں نے اپنی کوششوں کی حدود کا بھی اعتراف کیا۔ ان کے مطابق پالیسی پر اثرانداز ہونا چیلنجنگ ہے کیونکہ برطانوی حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خطے میں برطانیہ کی ماضی کی حکمرانی نے موجودہ دور میں اس پر کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔اس خطے میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کی تاریخ کے باعث برطانیہ کو اپنے کردار کو تسلیم کرنا چاہیے، اور اسی وجہ سے اس کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ بلوچوں کو وہی بنیادی حقوق حاصل ہوں جو برطانیہ میں موجود ہیں: حقِ خود ارادیت، انسانی حقوق، اور اپنی سرزمین میں امن و انصاف کے بنیادی تحفظ کا حق۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی سیاسی قیادت میں تبدیلی آئی ہے اسی تناظر میں کارکن وزرا سے ملاقاتیں کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک ایسی حکمتِ عملی پر بات کی جا سکے جس میں فوری نوعیت کے معاملات کے ساتھ ساتھ شہری آزادیوں اور حقِ خود ارادیت کے بارے میں طویل مدتی مؤقف بھی شامل ہو۔



















































