بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا صرف ایک سزا نہیں بلکہ بلوچستان میں انصاف کے ساتھ ہونے والے مسلسل مذاق اور پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے جاری عمل کی ایک اور مثال ہے۔
ہدہ جیل کوئٹہ سے جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ جس مقدمے میں دفاع کے وکیل کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی جائے، جہاں دفاع کو اپنا مؤقف مؤثر طور پر پیش کرنے کا مکمل موقع نہ دیا جائے اور جہاں جج ملزم اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں طے شدہ احکامات کی تکمیل کرے، وہاں عدالت کے طرزِ عمل، دباؤ اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالتوں کا یہ طرزِ عمل انصاف کے زمرے میں آتا ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ گلزادی بلوچ کوئی نامعلوم چہرہ نہیں بلکہ ہماری ساتھی اور ہماری جدوجہد کا حصہ ہیں۔ انہیں خاموش کرنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، لیکن ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گلزادی بلوچ کی سزا اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان میں پُرامن سیاسی جدوجہد کو کس قدر دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھیوں پر جبر صرف قید اور مقدمات تک محدود نہیں، بلکہ تنظیم کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ کو بھی گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کرکے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ مذاکرات کا درس دینے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ جب ایک طرف ہمارے ساتھی جیلوں میں قید ہوں، دوسری طرف ان کے دفاع اور قانونی حقوق محدود کیے جائیں اور سیاسی جدوجہد سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر ہوں گے؟ گلے پر چھری رکھ کر مذاکرات نہیں ہوتے، یہ صرف جبری خاموشی مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ مجرمانہ طرزِ عمل بلوچستان میں پُرامن جدوجہد پر ریاستی اداروں کے جاری جبر کی ایک سفاک مثال ہے۔ نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران بلوچستان میں جاری خونریزی اور مسلسل جبر کے باوجود معاملہ فہمی، سنجیدگی اور نیک نیتی کے بجائے دباؤ، ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
ان کے مطابق مذاکرات کے نام پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہو جائے۔ انہیں کہا گیا کہ تمام ججز ان کے ہاتھ میں ہیں اور ان کی جانب سے دی جانے والی کوئی بھی درخواست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود انہوں نے دلیل اور سیاسی جرات کا راستہ اختیار کیا، جو ان کی بنیادی سیاسی تربیت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے انہوں نے کبھی بھی مکالمے اور مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ جبر کے اس دورانیے میں بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی نے لاپتہ افراد کی سالانہ رپورٹ محکمہ داخلہ بلوچستان میں جمع کرائی، جو ان کے بقول تنظیم کے ذمہ دار ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مذاکرات کے نام پر کسی بھی سیاسی انجینئرنگ کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کرے گی۔ بی وائی سی بلوچ عوام کی نمائندہ جماعت اور ان کی امانت ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کی جدوجہد کسی فرد یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ انکار کے بعد چار رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم نے انہیں کہا کہ فیصلہ یہ ہے کہ جب تک وہ ان کی باتیں نہیں مانیں گے، وہ جیل میں رہیں گے۔ انہیں یہ بھی کہا گیا کہ جج کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق انہیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر وہ ان کی بات مان لیتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا جائے گا، جو باہر جا کر ان کی باتوں پر عمل کرے گا، جس کے بعد باقی افراد کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق انہیں دو، تین سال کے لیے یورپ میں آباد ہو جانے کی پیشکش بھی کی گئی، تاہم انہوں نے ان سمیت تمام ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا کیونکہ ان کی جدوجہد کسی وقتی رعایت، مراعات یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ کسی ایسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے جو عوام کے بجائے عسکری قوتوں کی ترجمانی کرے، اور نہ کبھی بلوچستان کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیں گے۔ ان کے بقول ان کا انتخاب بلوچستان کے عوام ہیں اور ان کا راستہ اپنے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ اگر اس جدوجہد کی قیمت قید ہے تو وہ یہ قیمت ادا کریں گے اور جیل سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام اداروں کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کے بل پر بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم نہیں ہوا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ان کے بقول ’’کینگرو عدالتوں‘‘ سے ملنے والی سزاؤں کو وہ اپنے اور اپنی تنظیم کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، کیونکہ تمام تر وسائل، مقدمات، قید اور پروپیگنڈے کے باوجود ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کے حوصلے کو نہیں توڑا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی قوم کے اعتماد کا سودا نہیں کریں گے اور ان کے لیے قومی نظریہ، سیاسی اصول اور اپنے عوام کے ساتھ وفاداری کسی بھی ذاتی فائدے سے زیادہ اہم ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ سزائیں اور قید بلوچ قوم کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن بھی انہیں قید سے رہائی ملی، اس دن وہ لاپتہ افراد کے لواحقین، اپنے قومی شہداء کے خاندانوں اور بلوچستان کے ان تمام مظلوم عوام کے ساتھ انصاف کی جدوجہد میں کھڑے ہوں گے جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں۔



















































