ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کے مقدمے میں سرکاری دفاعی وکیل کے طور پر پیش ہونے والے سید اقبال شاہ ایڈووکیٹ کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خضدار تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ تعیناتی حکومتِ بلوچستان نے صوبائی لاء آفیسرز آرڈیننس 2001 کے سیکشن 3 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر 4-13/2026-Admn/Law/5337-47 کے تحت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی منظوری سے یہ تقرری فوری طور پر ایک سال کی مدت کے لیے کی گئی ہے۔
اس عہدے پر انہیں ماہانہ ریٹینرشپ تحت اسی ہزار، نان پریکٹسنگ الاؤنس دو لاکھ، رہائشی و سفری سہولیات بیس ہزار، سرکاری گاڑی اور اس کے ساتھ ماہانہ دس ہزار، ٹیلیفون، طبی سہولیات اور دیگر مراعات بلوچستان حکومت کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کا مؤقف ہے کہ اس کی قیادت نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ اور وکیل مقرر نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود سید اقبال شاہ ایڈووکیٹ سرکاری دفاعی وکیل کی حیثیت سے انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ میں پیش ہوئے اور مقدمے کی کارروائی میں ملزمان کی نمائندگی کی۔
یاد رہے کہ مقدمے کی مختصر عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو راجی مچی گوادر کے دوران مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے ایف سی اہلکار شبیر احمد کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی۔
بی وائی سی اس کے حامیوں اور وکلا و سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ سید اقبال شاہ کی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خضدار کے عہدے پر تعیناتی ان کی مذکورہ مقدمے میں پیشی کا صلہ ہے۔


















































