غلام حیدر کرد کے اہلخانہ نے پیر کے روز کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاجی کیمپ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق غلام حیدر کرد ولد جمعہ خان کو 12 مارچ 2026 کو کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس، گلی نمبر 19، نزد کلی پرکانی سے سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے اہلکار حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر گئے۔
پریس کانفرنس میں اہلخانہ نے کہا کہ غلام حیدر کی بازیابی اور ان کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے متعلقہ تھانے اور اعلیٰ حکام سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم تاحال نہ ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی گئی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اہلخانہ کا کہنا تھا کہ غلام حیدر کی والدہ، بہن، بھائی اور دیگر اہلخانہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور انہیں ہر لمحہ غلام حیدر کی سلامتی کے حوالے سے تشویش رہتی ہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ غلام حیدر کرد کو فوری طور پر بحفاظت بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام عائد ہے تو انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں قانونی دفاع کا حق دیا جائے۔
اہلخانہ نے صحافی برادری سے اپیل کی کہ وہ غلام حیدر کرد کی مبینہ جبری گمشدگی کی آواز حکام تک پہنچانے اور ان کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں



















































