13 مختلف حملوں میں قابض فوج و ڈیتھ اسکواڈ کے 43 اہلکار ہلاک – بلوچ لبریشن آرمی

163

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے رواں ہفتے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قابض پاکستانی فوج اور اس کی سرپرستی میں قائم ”ڈیتھ اسکواڈز” کو متعدد منظم و مہلک حملوں میں نشانہ بنا کر بھاری جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے 43 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ مرکزی شاہراہوں پر ‘معاشی ناکہ بندی’ کے تحت سرمچاروں کی مضبوط پوزیشن بدستور برقرار ہے۔ حملوں کے دوران پلوں اور دیگر عسکری و استحصالی تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا۔ مختلف محاذوں پر ہونے والی شدید جھڑپوں میں بی ایل اے کے 10 سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

ترجمان نے کہاکہ 7 ستمبر: بسیمہ میں سی پیک روٹ پر سرمچاروں نے 5 گھنٹوں تک مکمل ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔ اس دوران قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں دشمن کے 5 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ بی ایل اے کے 3 سرمچار سنگت عزیز احمد سمالانی عرف جہانزیب، سنگت عباداللہ زہری عرف ثاقب اور سنگت عدنان سمالانی عرف ساہ روت جامِ شہادت نوش کرگئے۔

انہوں نے کہاکہ 8 ستمبر: خاران کے علاقے نوروز قلات میں مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے کم از کم 4 اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء پنجگور کے علاقے پروم میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو رسد پہنچانے والی ایک گاڑی کو نذرِ آتش کردیا جبکہ دوسری گاڑی تحویل میں لے لی۔ مزید برآں پنجگور کے علاقے چیدگی میں ماشکیل کوْر کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج کے نصب کردہ جاسوسی کیمروں کو تباہ کردیا۔

جیئند بلوچ نے کہاکہ 9 ستمبر: پنجگور کے علاقے چیدگی میں تجارتی روٹ پر سرمچاروں نے 2 گھنٹوں سے زائد وقت تک ناکہ بندی کرکے سنیپ چیکنگ کا عمل جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ 10 ستمبر: کوئٹہ تا تفتان تجارتی روٹ پر چاغی کے علاقے چہتر میں سرمچاروں نے ناکہ بندی کرکے 2 تجارتی گاڑیاں تحویل میں لے لیں۔ چہتر ہی کے علاقے میں سرمچاروں نے ایک پل کو دھماکے سے تباہ کرنے کے بعد پیش قدمی کرنے والی قابض فوج کو حملے میں نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔ اسی روز تمپ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک جاسوس کواڈ کاپٹر کو فائرنگ کر کے مار گرایا۔

انہوں نے کہاکہ 11 ستمبر: سوراب کے علاقے گدر میں ‘ٹوبو’ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا۔ قابض فوج کی 2 گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں جن میں سے ایک مکمل ناکارہ ہو گئی اور 6 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ بزدل دشمن اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہوگیا۔ دریں اثناء رودینی کراس کے مقام پر قابض فوج کو اس وقت ایک اور حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی، اس حملے میں قابض فوج کے مزید 3 اہلکار ہلاک اور کم از کم 4 زخمی ہوگئے۔

ترجمان نے کہاکہ13 ستمبر: قلعہ عبداللہ کے علاقے سلطان شار میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ایک منظم اور مہلک حملے میں ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے کارندوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں قابض فوج کے زیرِ سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈ کے 25 کارندے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی حالت میں بھاگ نکلے۔ سرمچاروں نے ان کا اسلحہ اور ایک گاڑی تحویل میں لے لی۔ بعد ازاں قابض فوج، سی ٹی ڈی اور ڈیتھ اسکواڈ کی ایک بڑی نفری نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں نے ایک اور حملے میں نشانہ بنایا۔ تقریباً 4 گھنٹوں تک جاری رہنے والی ان شدید جھڑپوں میں قابض فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے، جبکہ بی ایل اے کے 5 جانباز سرمچار سنگت یاسر مینگل عرف شاہ یار، سنگت فاروق پرکانی عرف آصف، سنگت وقار احمد لہڑی عرف چاکر، سنگت عاصم اور سنگت مُلا چاکر مردانہ وار لڑتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

مزید کہاکہ قبل ازیں 19 اگست کو پنجگور کے علاقے پروم میں پھل آباد کے مقام پر قابض پاکستانی فوج اور بی ایل اے سرمچاروں کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں بی ایل اے کے 2 سرمچار سنگت ظاہر بلوچ عرف کے ڈی اور سنگت اللہ داد بلوچ عرف ساوڑ شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے ‘فتح اسکواڈ’ نے لسبیلہ میں ایک منظم ومہلک حملے کے دوران قابض فوج کے 9 اہلکاروں کو ہلاک اور 11 سے زائد کو زخمی کیا تھا، جبکہ جیونی میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران قابض پاکستانی فوج اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے 4 کارندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ مزید برآں ماشکیل میں لیتھیم نکالنے والے ایک استحصالی پروجیکٹ کی ڈرلنگ سائٹ کا کنٹرول حاصل کر کے مشینری کو تباہ کیا گیا تھا۔ ان تمام حملوں کا تفصیلی بیان پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے ان تمام 10 عظیم شہدا، سنگت عزیز احمد سمالانی، سنگت عباداللہ زہری، سنگت عدنان سمالانی، سنگت یاسر مینگل، سنگت فاروق پرکانی، سنگت وقار احمد لہڑی، سنگت عاصم، سنگت مُلا چاکر، سنگت ظاہر بلوچ اور سنگت اللہ داد بلوچ کے کردار اور ان کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ان سرفروشوں نے اپنی پاک مٹی کے دفاع، قومی بقا اور آزادی کی راہ میں اپنے گرم لہو کا نذرانہ دے کر قومی وفا کی تاریخ کو رقم کیا ہے۔

آخر میں کہاکہ بی ایل اے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہمارے شہدا کا بہنے والا ایک ایک قطرہ خون قومی جدوجہد کو مزید جلا بخشے گا اور ان کے مقاصد کی تکمیل تک عسکری معرکہ ہر محاذ پر جاری رہے گا۔ جب تک قابض پاکستانی فوج کا بلوچ سرزمین سے مکمل انخلا اور آزاد وخودمختار بلوچستان کا قیام ممکن نہیں ہوجاتا، ہم اپنے شہدا کے مشن کی پاسداری پوری قوت اور نظریاتی پختگی کے ساتھ کرتے رہیں گے۔