ٹوٹا ہوا خواب: بیوس کی داستان – بشام بلوچ

25

ٹوٹا ہوا خواب: بیوس کی داستان

تحریر: بشام بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

رات کی تاریکی بلوچستان کے پہاڑوں پر پھیل چکی تھی۔ ٹھنڈی ہوا وادیوں سے گزرتی ہوئی خاموشی کو اور گہرا کر رہی تھی۔ بیوس ایک چٹان پر بیٹھا دور افق کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں برسوں کی یادیں، قربانیاں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا درد تھا۔

بیوس نے اپنی جوانی ایک ایسے راستے پر گزاری جس پر چلنے کا فیصلہ اس نے یقین اور وفاداری کے ساتھ کیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی محنت، قربانیاں اور ثابت قدمی ایک دن ضرور معنی رکھیں گی۔ اس نے سخت حالات دیکھے، اپنے ساتھیوں کو کھویا، اور کئی بار زندگی کی مشکل آزمائشوں کا سامنا کیا۔

بولان اور مچھ کے پہاڑ آج بھی اس کی یادوں میں زندہ تھے۔ وہ دن جب حالات نے اچانک رخ بدلا اور اس کے بعض ساتھی واپس نہ لوٹ سکے۔ بیوس تو زندہ بچ گیا، مگر اس کے دل کا ایک حصہ انہی پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے رہ گیا۔ اس کے بعد بھی اس کی زندگی مسلسل آزمائشوں، یادوں اور خاموش جدوجہد میں گزرتی رہی۔

وقت گزرتا گیا، مگر آہستہ آہستہ اس کے اندر ایک خاموش تبدیلی آنے لگی۔ مسلسل مشکلات، جدائیوں، ناکامیوں اور ذہنی دباؤ نے اس کی کیفیت کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ وہ پہلے کی طرح ہر بات برداشت نہیں کر پاتا تھا۔ کبھی گفتگو میں تلخی آ جاتی، کبھی جذبات میں آ کر ایسے الفاظ کہہ دیتا جن پر بعد میں خود ہی پچھتاتا۔ بعض اوقات وہ اپنے ساتھیوں سے فاصلے اختیار کر لیتا اور معمولی اختلاف بھی اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑ جاتا۔

جب ذمہ داران نے اس کی بدلتی ہوئی کیفیت کو محسوس کیا تو انہوں نے اسے علاج اور مشاورت کا موقع دیا۔ بیوس نے اپنی حالت کو قبول کیا اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ کئی ماہ تک اس نے سنجیدگی سے علاج جاری رکھا، مگر اس کے باوجود بعض رویوں اور اختلافات میں وہ بہتری نہ آ سکی جس کی سب کو امید تھی۔

اس کے کچھ فیصلے بھی درست ثابت نہ ہوئے۔ وہ ہر بات اپنے دل میں رکھتا، کھل کر مشورہ نہیں کرتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ شاید کوئی اس کے اندر کے درد کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہی خاموشی آہستہ آہستہ غلط فہمیوں میں بدل گئی۔ جن لوگوں کے لیے اس نے اپنی جوانی اور زندگی کے قیمتی سال قربان کیے تھے، انہی کے ساتھ اس کا فاصلہ بڑھنے لگا۔

آخرکار تنظیم کے ذمہ داران نے اس کے رویوں، مسلسل اختلافات اور حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسے تنظیم سے خارج کر دیا۔ یہ خبر اس کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی۔ اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ اس نے خود کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی، مگر پھر بھی اپنی جگہ برقرار نہ رکھ سکا۔

اس نے نہ شور مچایا، نہ کسی پر الزام لگایا۔ وہ جان چکا تھا کہ ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف حالات نہیں ہوتے۔ انسان کو اپنی غلطیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ وقت پر اپنے جذبات پر قابو پا لیتا، اپنے ساتھیوں سے کھل کر بات کرتا اور اپنی خاموشی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیتا تو شاید حالات مختلف ہوتے۔

تنظیم سے علیحدگی کے بعد اس نے خود کو تنہا محسوس کیا۔ راتوں کی نیند اس سے روٹھ گئی۔ وہ دیر تک جاگتا رہتا، کبھی پہاڑوں کی طرف دیکھتا، کبھی اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کو یاد کرتا۔ ہر یاد اس کے دل پر ایک نیا اثر چھوڑ جاتی۔

دو ماہ گزر گئے، مگر اس کا ضمیر اسے مسلسل سوچنے پر مجبور کرتا رہا۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتا کہ کیا وہ صرف حالات کا شکار بنا یا اس کی اپنی غلطیوں نے بھی اس سفر کو مشکل بنایا؟ اب وہ اپنی کمزوریوں سے بھاگنے کے بجائے ان کا سامنا کرنا سیکھ چکا تھا۔

آخرکار اس نے اپنی انا کو ایک طرف رکھا اور اپنے پرانے ساتھیوں سے دوبارہ رابطہ کیا۔ طویل گفتگو، وضاحتوں اور اعتماد کی بحالی کے بعد اسے دوبارہ تنظیم میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی۔ اس بار وہ ایک عام ساتھی کی حیثیت سے خاموشی کے ساتھ واپس آیا اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

بیوس کے دل میں اپنے ساتھیوں کی ہمیشہ ایک خاص جگہ رہی۔ اس کے لیے یہ صرف ساتھیوں کا نام نہیں تھا، بلکہ خلوص، وفاداری اور قربانی کا ایک رشتہ تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور سمجھتا تھا کہ ان کی صحبت اس کی زندگی کا ایک قیمتی حصہ ہے۔

لیکن اب وہ یہ حقیقت بھی سمجھ چکا تھا کہ غلطی انسان سے ہوتی ہے، کیونکہ انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔ اسے سب سے زیادہ افسوس اس بات کا تھا کہ اس کی غلطیاں ایسی نہیں ہونی چاہیے تھیں جو اس کے کردار کو نقصان پہنچائیں۔ وہ ایک کردار بنانے آیا تھا، ایک پہچان قائم کرنے آیا تھا، مگر اپنی کمزوریوں اور جذباتی فیصلوں کی وجہ سے کبھی کبھی اپنے ہی کردار کو نقصان پہنچا بیٹھا۔

اب وہ اپنی غلطیوں کو چھپانے کے بجائے انہیں قبول کرنا سیکھ چکا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ اپنی کمزوری کو تسلیم کرنا شکست نہیں بلکہ خود کو بہتر بنانے کا پہلا قدم ہے۔ اس کے دل میں اپنی سنگت کے لیے احترام بھی تھا اور اپنے ماضی سے سبق حاصل کرنے کا عزم بھی۔

ایک رات وہ پھر انہی پہاڑوں کی ایک چٹان پر بیٹھا دور افق کو دیکھ رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی، مگر اس کے دل میں یادوں کا طوفان ابھی باقی تھا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور اپنے آپ سے صرف ایک سوال کیا:

“کیا میری وفاداری، میری قربانیاں، میری غلطیوں سے سیکھا ہوا سبق اور میری واپسی اس بار کسی بہتر انجام تک پہنچے گی؟”

اس سوال کا جواب شاید صرف خاموش پہاڑوں کے پاس تھا، جو اس کی زندگی کے ہر راز، ہر قربانی اور ہر آنسو کے خاموش گواہ بنے ہوئے تھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔