جنگ بہادری کا مظاہرہ نہیں، حکمتِ عملی اور فکر کا امتحان ہے – مرتضیٰ بلوچ

1

جنگ بہادری کا مظاہرہ نہیں، حکمتِ عملی اور فکر کا امتحان ہے.

تحریر : مرتضیٰ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

(بلوچ مسلح مزاحمت کی موجودہ حکمتِ عملی، جنگ کی بڑھتی ہوئی شدت اور قومی مقصد کے تناظر میں ایک تنقیدی جائزہ)

بلوچ قومی مزاحمت کے موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں سب سے زیادہ تشویش کسی فرد، کسی ساتھی یا کسی تنظیم کی نیت کے بارے میں نہیں بلکہ اس سوال کے بارے میں پیدا ہوتی ہے کہ ہماری جنگی حکمتِ عملی ہمیں آخر کس سمت لے جا رہی ہے۔ کسی بھی قومی جدوجہد میں صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ مزاحمت جاری ہے یا دشمن کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں؛ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ جدوجہد کا ہر مرحلہ اپنے بنیادی سیاسی مقصد کو کس قدر مضبوط کر رہا ہے۔ اگر جنگ کی شدت بڑھ رہی ہو، نوجوان بڑی تعداد میں اس عمل کا حصہ بن رہے ہوں، انسانی نقصان بڑھ رہا ہو اور معاشرے پر اس کے اثرات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہوں تو محض یہ کہنا کافی نہیں کہ جنگ پہلے سے زیادہ شدید ہو گئی ہے۔ اس شدت کا سیاسی حاصل کیا ہے، اس سے قومی مقصد کتنا آگے بڑھا ہے، اور اگر منزل ابھی دور ہے تو کیا ہمارے پاس اتنا انسانی، سیاسی اور فکری سرمایہ باقی بھی رہے گا کہ اس منزل تک پہنچنے والی جدوجہد کو جاری رکھا جا سکے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس سے فرار اختیار کرنے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

خصوصاً بلوچ تحریک سے وابستہ تمام مسلح تنظیموں، دھڑوں اور گروہوں کے موجودہ طریقہ کار کے بارے میں یہ بحث ضروری ہے کہ جسے بعض حلقوں میں ’’ماڈرن وارفیئر‘‘ یا جنگ کا نیا انداز کہا جا رہا ہے، کیا وہ واقعی بلوچستان کے تاریخی، سیاسی، جغرافیائی اور سماجی حالات سے ہم آہنگ ہے یا صرف اس لیے جدید سمجھا جا رہا ہے کہ اس میں ماضی کے مقابلے میں نئے ذرائع، نئی ٹیکنالوجی اور زیادہ نمایاں انداز اختیار کیے جا رہے ہیں۔ کسی طریقے کا نیا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ مؤثر بھی ہے۔ جنگ میں اصل پیمانہ اس کی ظاہری شدت یا منظرنامے کی ڈرامائیت نہیں بلکہ اس کا سیاسی نتیجہ، تنظیمی پائیداری، انسانی قیمت اور قومی مقصد کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے۔

گوریلا جنگ کو بھی صرف ہتھیار، پہاڑ یا اچانک تصادم کے محدود تصور میں دیکھنا درست نہیں۔ اس کے پیچھے ایک وسیع تر فلسفہ موجود ہوتا ہے جس میں محدود وسائل رکھنے والی قوت اپنے انسانی اور تنظیمی سرمائے کو غیر ضروری طور پر ضائع کرنے کے بجائے طویل المدت بقا، سیاسی مقصد اور عوامی جڑوں کو اپنی طاقت بناتی ہے۔ اس تناظر میں ایک مزاحمتی کارکن کا زندہ رہنا معمولی بات نہیں۔ اس کے ساتھ اس کا تجربہ، شعور، سیاسی وابستگی، تنظیمی صلاحیت اور آنے والی نسلوں کو کچھ منتقل کرنے کی قابلیت بھی زندہ رہتی ہے۔ اسی لیے کسی جدوجہد کی کامیابی کو صرف اس تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا کہ کتنے حملے ہوئے یا کتنے لوگ اپنی جان سے گئے۔ اگر انسانی نقصان بڑھتا جائے لیکن سیاسی مقصد اسی فاصلے پر کھڑا رہے تو صرف نقصان کی شدت کو کامیابی کا پیمانہ بنانا ایک خطرناک فکری غلطی ہے۔

یہاں بہادری کے موجودہ تصور پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں کبھی کبھی ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جو نوجوان زیادہ خطرہ مول لے، کھلے طور پر سامنے آئے یا اپنی جان قربان کرنے کے لیے زیادہ آمادہ ہو، وہی زیادہ بہادر ہے۔ لیکن قومی جدوجہد میں بہادری کا مطلب صرف موت سے بے خوف ہونا نہیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی بہادری اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا، فوری ردعمل سے گریز کرنا، اپنے مقصد کو سمجھنا، اپنے وجود کو محفوظ رکھنا اور ایک طویل جدوجہد کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوتی ہے۔ جنگ میں مر جانا ہمیشہ کامیابی نہیں اور زندہ رہنا ہمیشہ پسپائی نہیں۔ ایک زندہ، باشعور اور تجربہ کار کارکن برسوں تک اپنی قوم، اپنی فکر اور اپنی سیاسی جدوجہد کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف قربانی کے لیے تیار کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں شعور، سیاسی بصیرت اور ذمہ داری کے لیے تیار کرنا بھی ضروری ہے۔

اسی مقام پر نوجوانوں کے بارے میں ہماری سوچ بنیادی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ بلوچ نوجوان کسی تنظیم کا محض قابلِ استعمال افرادی سرمایہ نہیں کہ ضرورت کے مطابق انہیں میدان میں بھیجا جائے اور نقصان کو صرف قربانی کا نام دے کر بحث ختم کر دی جائے۔ وہ قوم کا شعوری اور انسانی سرمایہ ہیں۔ ان میں سے ہر نوجوان کے ساتھ ایک خاندان، ایک معاشرہ، ایک مستقبل اور ایک ممکنہ سیاسی کردار وابستہ ہے۔ اگر کسی نوجوان کو صرف ہتھیار سمجھا جائے تو اس کی شخصیت، شعور اور مستقبل کو ایک وسیلے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جبکہ ایک قومی تحریک کو انسان کو وسیلہ نہیں بلکہ مقصد کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

نواب صاحب سے منسوب یہ بات اسی لیے اہم معلوم ہوتی ہے کہ بلوچ کا ایک کارندہ دشمن کے کئی کارندوں سے زیادہ ہوشیار، زیادہ سمجھدار اور شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ ہونا چاہیے۔ اس بات کی اصل طاقت تعداد میں نہیں بلکہ معیار میں ہے۔ ایک باشعور کارکن صرف حکم بجا لانے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے مقصد کی روح کو سمجھتا ہے، حالات کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو جذبات کے بجائے شعور اور ذمہ داری سے دیکھتا ہے۔ اگر ایک قومی تحریک اپنے نوجوانوں میں یہ معیار پیدا نہیں کرتی اور صرف ان کے جوش کو اپنی طاقت سمجھتی ہے تو وہ اپنے سب سے قیمتی انسانی سرمائے کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے بجائے ضائع کرنے کا خطرہ مول لیتی ہے۔

دشمن کے بارے میں بھی یہی حقیقت پسندی ضروری ہے۔ کسی بھی ریاستی قوت کی ایک قدم پسپائی کو فوراً بوکھلاہٹ، خوف یا شکست سمجھ لینا خطرناک خود اعتمادی پیدا کر سکتا ہے۔ دشمن کبھی خاموشی اختیار کرتا ہے، کبھی اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتا ہے اور کبھی حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے لیے وقت کا انتظار کرتا ہے۔ اس لیے دشمن کو اپنی خواہش کے مطابق دیکھنے کے بجائے اس کی حقیقی صلاحیتوں اور ممکنہ ردعمل کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دشمن کو طاقتور سمجھنا خوف نہیں بلکہ حقیقت پسندی ہے، جبکہ اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھنا بہادری نہیں بلکہ خود فریبی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک سنجیدہ مزاحمت جذباتی کامیابی اور حقیقی سیاسی کامیابی کے درمیان فرق کرنا جانتی ہے۔

اسی تناظر میں سڑکوں، شہروں اور کھلے مقامات پر مزاحمت کی نمایاں موجودگی کو بھی محض دلیری کی علامت سمجھنے کے بجائے اس کے وسیع تر اثرات پر غور کرنا چاہیے۔ اگر کوئی طریقۂ کار نوجوانوں کو زیادہ نمایاں ضرور بناتا ہے مگر ان کے لیے خطرات بھی بڑھاتا ہے، اگر وہ وقتی طور پر جوش پیدا کرتا ہے لیکن تنظیمی بقا کو نقصان پہنچاتا ہے، یا اگر اس کا انسانی نقصان اس کے سیاسی فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے تو پھر اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ مزاحمت کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ کون سب سے زیادہ خطرہ مول لے سکتا ہے؛ اصل مقصد یہ ہے کہ قومی فکر، سیاسی مقصد اور اجتماعی شعور کو کس طرح زیادہ دیر تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

افغانستان کی مثال بھی اسی احتیاط کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بعض حلقے طالبان کی طویل مزاحمت اور بالآخر غیر ملکی افواج کے انخلا کو بلوچ جدوجہد کے لیے مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن تاریخ کو صرف اس کے آخری نتیجے سے سمجھنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ افغانستان کی جنگ کا جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر مختلف تھا۔ وہاں ایک اہم فریق بیرونی طاقتیں تھیں جن کی موجودگی بالآخر ختم ہو سکتی تھی۔ بلوچستان کی صورتِ حال میں تنازع ایک ایسی ریاست کے ساتھ ہے جو جغرافیائی طور پر ہمسایہ ہے اور جس کے ساتھ آبادی، سیاست، معیشت، سرحد، ریاستی ادارے اور معاشرتی ڈھانچے ایک پیچیدہ تعلق میں موجود ہیں۔ اس لیے کسی دوسری تحریک کی کامیابی کو دیکھ کر اس کے طریقۂ کار کو اسی شکل میں یہاں منتقل کرنا فکری طور پر درست نہیں۔ تاریخ سے اصول حاصل کیے جا سکتے ہیں، مگر حالات کی نقل نہیں کی جا سکتی۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلوچ قومی جدوجہد کو صرف جنگ کے میدان میں تلاش کرنا بھی ایک محدود تصور ہے۔ بلوچ مسئلہ تاریخی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور قومی شناخت کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر مسلح جدوجہد اپنے سیاسی مقصد سے کٹ جائے تو اس کے اندر یہ خطرہ پیدا ہو سکتا ہے کہ جنگ خود مقصد بن جائے اور وہ سیاسی منزل جس کے لیے جنگ شروع ہوئی تھی، پس منظر میں چلی جائے۔ اس کے برعکس جب مزاحمت سیاسی شعور، عوامی حمایت، ثقافتی شناخت، فکری تربیت اور واضح قومی مقصد کے ساتھ جڑی رہتی ہے تو جنگ محض تصادم نہیں رہتی بلکہ ایک وسیع تر سیاسی جدوجہد کا حصہ بن جاتی ہے۔

اسی لیے ’’ماڈرن وارفیئر‘‘ کے نام پر ہر نئی چیز قبول کر لینا بھی دانش مندی نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، نئے ذرائع اور بدلتے ہوئے مواصلاتی طریقے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ٹیکنالوجی حکمتِ عملی کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی ذریعہ اسی وقت معنی رکھتا ہے جب وہ بنیادی مقصد کو مضبوط کرے۔ اگر کوئی نیا طریقہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ مزاحمت پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں انسانی نقصان بڑھ رہا ہے، تنظیمی بقا کمزور ہو رہی ہے اور سیاسی منزل قریب نہیں آ رہی تو صرف اسے ’’جدید‘‘ کہنا اس کی افادیت ثابت نہیں کرتا۔

یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: اگر جنگ کی شدت مسلسل بڑھتی جائے اور اس کے نتیجے میں نوجوانوں اور معاشرے کو زیادہ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے تو کیا مستقبل میں آزادی کا حصول اس تمام نقصان کی تلافی کر سکے گا؟ شاید اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں، لیکن اسی لیے یہ سوال ضروری ہے۔ اگر منزل چند ماہ یا چند سال میں نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی جدوجہد کے بعد حاصل ہونی ہے تو انسانی سرمایہ اور بھی زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ جتنی دور منزل ہو، اتنا ہی زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ سفر کرنے والے انسانوں کو محفوظ، باشعور اور سیاسی طور پر مضبوط رکھا جائے۔ اگر ایک قوم اپنی آنے والی نسلوں کی فکری اور انسانی قوت مسلسل کھوتی رہے تو اسے صرف یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ ایک دن منزل حاصل ہو گی اور ماضی کے تمام نقصانات خود بخود معنی اختیار کر لیں گے۔ منزل کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن منزل تک پہنچنے والے معاشرے کی حالت بھی اتنی ہی اہم ہے۔

اسی لیے قربانی کے تصور کو بھی صرف جذباتی سطح پر نہیں بلکہ سیاسی اور فکری سطح پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قربانی کسی مقصد کے لیے ہوتی ہے، اور اگر مقصد آزادی ہے تو ہر قربانی کے بعد یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس نے آزادی کی جدوجہد کو کس قدر مضبوط کیا۔ شہادت کا احترام اپنی جگہ ہے، مگر کسی تحریک کو صرف شہادتوں کی تعداد سے کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔ ایک زندہ کارکن، ایک باشعور استاد، ایک سیاسی مفکر، ایک منظم منتظم اور ایک ایسا نوجوان جو آنے والی نسل کو شعور منتقل کر سکے، سب قومی جدوجہد کے مختلف مگر یکساں اہم اثاثے ہیں۔

اسی لیے بلوچ مزاحمت کو شاید آج جنگ کی شدت سے زیادہ جنگ کی سمت پر بحث کی ضرورت ہے۔ شدت بڑھانا نسبتاً آسان تصور ہے، لیکن اس شدت کو ایک واضح سیاسی مقصد، طویل المدت حکمتِ عملی اور انسانی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ہر نئی حکمتِ عملی کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا ہوگا کہ وہ قومی مقصد کو کتنا مضبوط کرتی ہے، اس کی انسانی قیمت کیا ہے، عوامی اور سیاسی سطح پر اس کے اثرات کیا ہیں اور کیا وہ واقعی مستقبل کی جدوجہد کے لیے زیادہ طاقت پیدا کرتی ہے یا صرف موجودہ لمحے کو زیادہ پرجوش بناتی ہے۔

آخرکار بلوچ قومی مزاحمت کا اصل امتحان شاید یہ نہیں کہ وہ کتنی شدت سے لڑ سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی سمجھ داری سے اپنی منزل کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ ایک ایسی جدوجہد جو اپنے نوجوانوں کو صرف مرنے کا حوصلہ دیتی ہے، شاید بہت سے بہادر افراد پیدا کر لے، لیکن ایک ایسی جدوجہد جو نوجوانوں کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، اپنے مقصد کو جاننے اور اپنی قوم کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھانے کا شعور دیتی ہے، وہ ایک زیادہ پائیدار سیاسی قوت پیدا کر سکتی ہے۔

ہمیں ایسی مزاحمت کی ضرورت ہے جو بہادری کو بے احتیاطی سے الگ کرے، قربانی کو بے مقصد نقصان سے الگ کرے، جدیدیت کو محض نئی تکنیک سے الگ کرے اور جنگ کو اس کے سیاسی مقصد سے کبھی جدا نہ ہونے دے۔ کیونکہ اگر آزادی ہماری منزل ہے تو ہماری کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہم نے کتنی لڑائیاں لڑیں یا کتنی قربانیاں دیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اپنی فکر، اپنی شناخت، اپنے سیاسی مقصد، اپنے اجتماعی شعور اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس منزل تک پہنچنے کے قابل کس حد تک محفوظ رکھا اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ بہادری کا مظاہرہ نہیں رہتی بلکہ واقعی حکمتِ عملی اور فکر کا امتحان بن جاتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔