بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہاکہ کونسل یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سوشل ورک کے پانچویں سمسٹر کے طالب علم عمار بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ 3 ستمبر کو رات تقریباً 11:20 بجے عمار بلوچ کو مون مارکیٹ، اقبال ٹاؤن لاہور سے فورسز کی جانب سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات ان کے اہلِ خانہ یا ساتھی طلبہ کو فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کے خاندان اور یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ عمار بلوچ اپنے آبائی علاقے سے دور لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ایک طالب علم ہے۔ ایک نوجوان کا اس طرح اچانک اپنے خاندان، دوستوں اور تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہو جانا نہ صرف اس کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرتا ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ عمار بلوچ کا معاملہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ سے متعلق اجتماعی جبری گمشدگیوں کے وسیع تر مسئلے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلوچستان میں طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنان، نوجوانوں اور عام شہریوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات نے بلوچ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور اضطراب کو جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی انسانی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماں کی امید، بہن بھائیوں کی بے چینی اور ایک گھر کی پوری زندگی وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بھی شہری کو قانونی کارروائی اور عدالتی نگرانی کے بغیر نامعلوم مقام پر منتقل کرنا قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہو۔
مزید کہاکہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ کو خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کے بجائے ایک محفوظ، پُرامن اور آزاد تعلیمی ماحول ملنا چاہیے۔ کسی بھی بلوچ طالب علم کے خلاف اگر کوئی قانونی الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ معاملہ شفاف قانونی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھ سکے۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عمار بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ مزید برآں، ملک بھر میں جاری جبری گمشدگیوں کے واقعات کا خاتمہ کیا جائے اور تمام لاپتہ بلوچوں کو بحفاظت ان کے خاندانوں تک پہنچایا جائے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام طلبہ تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ عمار بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔

















































