انڈونیشیا میں مسافر بردار سمندری جہاز کو حادثہ: 240 افراد سوار تھے، ریسکیو آپریشن جاری

1

انڈونیشیا کے جزائر جاوا اور بورنیو کے درمیان سفر کرنے والا ایک مسافر بردار بحری جہاز خراب موسم کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 100 سے زائد مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا ہے۔

مقامی سرچ اینڈ ریسکیو کے سربراہ آئی پوتو سودایانا کے مطابق ’ویرگو ٹرانسپورٹ 8‘ نامی اس بحری جہاز پر عملے اور مسافروں سمیت 243 افراد سوار تھے۔ جہاز مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے روانہ ہوا تھا، تاہم اتوار کی صبح اس کا شپنگ کمپنی سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

اے ایف پی کے مطابق بانجارماسن کی بندرگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سودایانا نے تصدیق کی کہ ’اب تک 103 مسافروں کو کامیابی سے نکال لیا گیا ہے جبکہ ایک مسافر کی ہلاکت ہوئی ہے۔‘

امدادی کارکنوں کو متاثرہ جہاز تک پہنچنے کے لیے ڈھائی میٹر (تقریباً 8 فٹ) اونچی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔

ریسکیو چیف کا کہنا تھا کہ ’یہ صورتحال بحری جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ حتیٰ کہ ہماری 40 میٹر لمبی کوسٹ گارڈ کشتی کے لیے بھی یہ آپریشن سخت رسکی تھا۔‘

رابطہ منقطع ہونے سے قبل جہاز کے کپتان نے اطلاع دی تھی کہ پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے جہاز ایک طرف جھک رہا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق جہاز کا محل وقوع بحرِ جاوا میں اپنی منزل سے تقریباً 150 کلومیٹر دور تھا۔

انڈونیشیا میں بحری حادثات کی بڑھتی شرح

انڈونیشیا 17 ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک ہے جہاں روزمرہ نقل و حمل اور سیاحت کا دارومدار زیادہ تر بحری سفر پر ہے۔ تاہم حفاظتی تدابیر کے ناقص انتظامات اور اچانک بدلتا موسم اکثر و بیشتر ایسے خوفناک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔

پیر کے روز آنک کراکاٹاؤ آتش فشاں کے قریب 8 افراد کو لے جانے والی تیز رفتار بوٹ لاپتہ ہو گئی تھی، جس میں مقامی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے 5 صحافی بھی شامل تھے۔ یہ ٹیم آتش فشاں کے دھماکے کی کوریج کے لیے جا رہی تھی۔

اگست کو بالی اور لومبوک کے درمیان سفر کرنے والے ایک مسافر جہاز میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور 5 لاپتہ ہو گئے تھے، جبکہ 211 افراد کو بچایا گیا تھا۔

سلایار جزیرے کے قریب 70 سے زائد مسافروں کو لے جانے والی ایک اور کشتی ڈوبنے کا شکار ہوئی تھی۔