بلوچستان کے علاقے قلات میں پاکستان فوج کی جانب سے دو مقامات پر جیٹ طیاروں اور ایک مقام پر ڈرون طیارے سے بمباری کی گئی ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں سے مسلسل شیلنگ سمیت کواڈ کاپٹر سے بمباری کی اطلاعات ہیں۔
آج صبح قلات کے علاقے چپر میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق علاقے میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی تاہم نقصانات کے حوالے سے تفصیلات آنا باقی ہے۔
مزید برآں توک و دشت گوران سے متصل علاقوں میں ایک اور دھماکے کی آواز سنی گئی ہے تاہم مقام کا تعین تاحال نہیں ہوسکا ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق علاقے میں دھماکے کیساتھ جیٹ طیاروں کی پروازیں دیکھنے میں آئی ہے۔
ٹی بی پی کو ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ روز قلات کے علاقے منگچر میں ڈرون طیارے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم نقصانات کے حوالے سے تفصیلات موصول نہیں ہوسکی ہے۔
دریں اثناء گذشتہ روز رودینجو و گردنواح کے علاقوں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں سے کئی گھنٹوں تک شیلنگ کی گئی جبکہ کواڈ کاپٹر سے بمباری کی گئی۔
مذکورہ علاقوں میں مواصلاتی نظام کی بندش اور آمد و رفت محدود ہونے کے باعث مکمل تفصیلات تک رسائی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں پاکستانی فوج کی جانب سے بمباری سمیت دیگر واقعات میں عام آبادیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ تین روز قبل خضدار کے علاقے وڈھ میں بھی ایک شادی کی تقریب پر پاکستانی فورسز کے براہِ راست فائرنگ سے چار شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
گیارہ اگست کی شب پاکستانی فوجی جیٹ طیاروں نے گدر گُوندان میں بمباری کرتے ہوئے متعدد گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد شہری زخمی و جانبحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں کی بھی واضح تعداد شامل تھی۔ متعدد زخمی افراد تاحال زیرِ علاج ہیں، جبکہ ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر اور حکومتی ارکان نے سوراب میں فوجی طیاروں کی بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا نشانہ بلوچ مسلح تنظیموں کے ٹھکانے تھے۔



















































