زمیندار ایکشن کمیٹی نے کہا ہے امن و امان کی ناکامی کا ملبہ زمینداروں پر نہ ڈالا جائے، زرعی بحران کے حل کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
زمیندار ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے مستونگ میں باغات اور فصلات کی کٹائی سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کا قیام ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس معاملے کو بنیاد بنا کر زمینداروں کو مزید مشکلات سے دوچار کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے زمیندار پہلے ہی شدید زرعی بحران کا سامنا کررہے ہیں، صوبے میں قدرتی آفات، خشک سالی، بارشوں کے غیر معمولی نظام، زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی اور طویل عرصے سے جاری پانی کے بحران نے زراعت اور باغبانی کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے ایسے حالات میں زمیندار اپنی فصلوں اور باغات کو بچانے کے لیے پہلے ہی بھاری مالی مشکلات برداشت کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے زرعی شعبے کو ایک اور بڑا چیلنج ہمسایہ ممالک سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد ہے سستی درآمدی زرعی اجناس کی بھرمار سے مقامی پیداوار کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں اور بلوچستان کے زمینداروں کو اپنی فصلیں پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے حکومت کو چاہیے کہ مقامی زمینداروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے درآمدی پالیسی پر نظرثانی کرے۔
زمیندار ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں بجلی، ڈیزل، زرعی ادویات، کھاد، بیج اور دیگر زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی زمینداروں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے دوسری جانب مارکیٹ میں زرعی اجناس کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث زمیندار قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت زراعت کے فروغ اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری طرف نام نہاد زرعی ٹیکس کے نفاذ سمیت ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو پہلے سے بحران کا شکار زمینداروں پر مزید معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں حکومت کو نئے ٹیکسز عائد کرنے کے بجائے زرعی شعبے کو ریلیف، سستی بجلی، پانی کی فراہمی، جدید آبپاشی نظام اور زرعی اجناس کی منافع بخش قیمتوں کی ضمانت دینی چاہیے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ باغات اور فصلات بلوچستان کی معیشت، روزگار اور دیہی آبادی کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں اگر زرعی شعبہ مزید کمزور ہوا تو اس کے اثرات صرف زمینداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ لاکھوں مزدور، ہاری، ٹرانسپورٹرز، آڑھتی اور دیگر متعلقہ شعبے بھی متاثر ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مستونگ سمیت بلوچستان بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، زمینداروں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور باغات و فصلات کے حوالے سے کسی بھی پالیسی یا فیصلے سے قبل زمیندار تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے۔
ترجمان نے آخر میں کہا ہے کہ بلوچستان کے زمیندار امن کے خواہاں ہیں اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہیں درپیش مسائل کا حل انتظامی دباؤ، مزید ٹیکسز یا یکطرفہ فیصلوں میں نہیں بلکہ جامع زرعی پالیسی، پانی کے مؤثر انتظام، مارکیٹ کے تحفظ اور ریاستی سطح پر کسان دوست اقدامات میں ہے۔


















































