کوئٹہ: جبری لاپتہ دو کم عمر لڑکیوں کو وزیر داخلہ نے فرضی ناموں سے میڈیا کے سامنے پیش کردیا

79

کوئٹہ ضلع کیچ کے سنگ آباد کرکی سے تعلق رکھنے والی دو کم عمر کزن طالبات، جنہیں اہلخانہ کے مطابق 28 جولائی کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا، کو بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے 29 اگست کو پریس کانفرنس میں مبینہ خودکش حملوں کے لیے تیار کی جانے والی لڑکیوں کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔

وزیر داخلہ نے لڑکیوں کے نام زینب اور فاطمہ اور عمریں بالترتیب 16 اور 12 سال بتائیں، تاہم خاندان کے مطابق دونوں کی اصل شناخت 17 سالہ شاہ ناز دختر عارف عیسیٰ اور 14 سالہ شاراناز دختر اعجاز ہے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق دونوں طالبات اس سے قبل بھی 18 جون 2026 کو مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد ایک ماہ سے زائد عرصے تک لاپتہ رہیں اور 25 جولائی کو رہا ہوئی تھیں۔

خاندان کے مطابق رہائی کے صرف تین روز بعد، 28 جولائی 2026 کو رات تقریباً 3 بجے ایف سی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے سنگ آباد کرکی میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور شاہ ناز، شاراناز سمیت ان کے والد عارف عیسیٰ، والدہ، بھائی محیم، دو بہنوں اور ایک آنٹی کو حراست میں لے لیا۔

بعد ازاں والدہ، دونوں بہنوں، آنٹی اور بھائی محیم کو رہا کردیا گیا، تاہم شاہ ناز، شاراناز اور عارف عیسیٰ کے بارے میں اہلخانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق شاہ ناز کے 18 سالہ شوہر آصف بلوچ کو 8 مارچ 2026 کو مقامی ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 10 مارچ کو آصف بلوچ کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں قتل قرار دیا تھا۔

اہلخانہ نے وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس میں لڑکیوں کے نام اور عمریں تبدیل کرکے پیش کیے جانے کو غلط بیانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ ناز اور شاراناز 28 جولائی سے پاکستانی فورسز کی تحویل میں لاپتہ تھیں اور انہیں ان کی اصل شناخت کے بجائے فرضی ناموں اور مختلف عمروں کے ساتھ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

خاندان کے مطابق 29 اگست کو دونوں لڑکیوں کی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس میں موجودگی سے واضح ہوا کہ وہ اس عرصے کے دوران ریاستی اداروں کی تحویل میں تھیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک ماہ سے زائد جبری گمشدگی کے بعد شراناز اور شہناز بلوچ کو حکومت بلوچستان کے اہلکاروں کے ساتھ فرضی ناموں سے جبری پریس کانفرنس کروا کر ریاستی بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔

کمیٹی کے مطابق بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد جبری پریس کانفرنس کروانا ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ریاستی بیانیے کو برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیے جانے والے جابرانہ طریقوں کو ظاہر کرتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم سے اپنے جبری لاپتہ افراد کے کیسز رجسٹر کروانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ خاموش رہے تو ریاست جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو پریس کانفرنسوں میں پیش کرکے بلوچستان میں جاری جبر کو اپنے ریاستی بیانیے کے طور پر پیش کرتی رہے گی۔

کمیٹی نے پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام سے بھی اپیل کی کہ بلوچستان سے متعلق مین اسٹریم میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر یقین کرنے سے قبل حقائق کی جانچ کریں، کیونکہ اس کے بقول جبری پریس کانفرنسوں کے ذریعے بلوچستان میں ہونے والے مظالم کو جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹا بیانیہ عوام تک پہنچایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی پاکستانی فورسز اور سی ٹی ڈی کی جانب سے بلوچ خواتین کو گھروں، تعلیمی اداروں یا دیگر مقامات سے حراست میں لینے کے بعد بعد ازاں حکومتی یا فورسز حکام کی جانب سے انہیں مسلح تنظیموں سے وابستہ یا خودکش حملہ آوروں کے طور پر میڈیا کے سامنے پیش کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔