سیکیورٹی خدشات: قلات محصور، نوشکی میں سخت پابندیاں برقرار

1

سیکیورٹی خدشات اور مسلح حملوں کے پیشِ نظر بلوچستان بھر میں سیکیورٹی نفری کے ساتھ ساتھ چیکنگ اور سختیاں بڑھا دی گئی ہیں۔

قلات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اگست کے آغاز ہوتے ہی انتظامیہ نے خندقیں کھود کر قلات شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ عوام گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔

عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ ریاستی خوف اور دباؤ کے باعث قلات شہر کو خندقوں کے ذریعے محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق قلات شہر کے چاروں طرف واقع “سٹی انٹرینسز” پر خندقیں کھود کر شہر میں ٹریفک کی روانی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے ریاستی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو عوام دشمنی قرار دیا ہے۔

ادھر نوشکی میں بھی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور شہر کے اندر مختلف سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

پاکستانی فورسز کی جانب سے موجودہ حالات اور سیکیورٹی کے باعث سخت حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ قاضی آباد کی مختلف سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، جبکہ نادرا دفتر کے سامنے سڑک کو آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اب جناح روڈ سے میر گل خان نصیر ہسپتال جانے والے افراد خزانہ آفس کے راستے کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کریں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

موجودہ حالات کے پیشِ نظر نوشکی بازار میں دوپہر کے بعد لوگوں کی آمدورفت محدود ہو چکی ہے۔ عصر کے فوراً بعد اکثر دکاندار دکانیں بند کرکے گھروں کا رخ کرتے ہیں۔

سیکیورٹی کے پیشِ نظر 5 اگست سے 30 اگست تک نوشکی کے تمام بینک بند رکھنے کے اعلان سے عوام اور سرکاری ملازمین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔