ڈاکٹر لال خان سے دُرک تک: ایک زندگی، جو اپنی زمین کے نام لکھ دی گئی – سنگین دُرا

1

ڈاکٹر لال خان سے دُرک تک: ایک زندگی، جو اپنی زمین کے نام لکھ دی گئی

تحریر: سنگین دُرا

دی بلوچستان پوسٹ

کبھی کبھی خواب آنکھوں پر نہیں اترتے، دل پر اترتے ہیں؛ وہ ہمیں چند لمحوں کے لیے اُس زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں جس کی تمنا ہم برسوں سے اپنے اندر لیے پھرتے ہیں۔ مگر ہر خواب تعبیر کا وعدہ نہیں ہوتا، کچھ خواب صرف اس لیے آتے ہیں کہ انسان کو امید کی سب سے خوبصورت چوٹی تک لے جائیں، وہاں چند لمحے ٹھہرائیں، اور پھر اُسی امید کے ملبے میں تنہا چھوڑ جائیں۔ شاید میرا وہ خواب بھی ایسا ہی تھا؛ ایک مختصر سی دنیا، جس میں تم تھے، میں تھی، ہمارا ساتھ تھا، اور زندگی کے وہ تمام رنگ تھے جنہیں حقیقت نے ہم سے ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔
‎
میں بہت کم خواب دیکھتی ہوں۔ لیکن اُس رات، جب تم سفر سے واپس آئے تھے اور رات گئے تک ہم دونوں باتوں میں مصروف رہے، میں نے نہایت اشتیاق سے کہا، “یار دُری، کل میں نے ایک بہت ہی پیارا خواب دیکھا ہے۔” تم سفر میں تھے، اس لیے پہلے بتا نہیں سکی۔ مجھے لگا شاید سفر کی تھکن کے باعث تم اسے بے معنی سمجھ کر ٹال دو گے، مگر تم فوراً کھِل اٹھے اور اپنے مخصوص محبوب انداز میں کہنے لگے، “دیر کس بات کی؟ جلدی بتاؤ، کیا دیکھا تم نے؟” وہ شاید میری زندگی کا دوسرا، یا تیسرا خواب تھا جسے میں نے اتنی شدت سے محسوس کیا تھا۔ میں اکثر لوگوں سے شکوہ کرتی تھی کہ مجھے خوبصورت خواب کیوں نہیں آتے؛ مجھے بھی تو کسی پریوں کی کہانی جیسی زندگی دیکھنی تھی، ایسی زندگی جس میں خوشی محض ایک خیال نہ ہو بلکہ ایک حقیقت ہو۔ مگر اُس رات پہلی بار مجھے لگا کہ شاید زندگی واقعی خوبصورت ہو سکتی ہے۔ میرے آنگن میں خوشیاں تھیں، رنگ تھے، خوشبو تھی، اور سب سے بڑھ کر تمہاری محبت کی وہ مہک تھی جو پورے خواب کو ایک زندہ حقیقت میں بدل رہی تھی۔ میں دیر تک اسی خواب کے سحر میں رہی۔ مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؛ ہم ملیں گے، ایک ہو جائیں گے، ایک ساتھ جدوجہد کریں گے، جنگ کے دوران ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے، زندگی کے ہر امتحان کا سامنا ساتھ کریں گے، اور ہمارے پاس زندگی کے سارے رنگ ہوں گے۔ مگر آج جب اُس خواب کو حقیقت کے آئینے میں دیکھتی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس حقیقت کے عین برعکس تھا جس میں میں آج سانس لے رہی ہوں۔ خوابوں کو حقیقت بننے میں کبھی قوت درکار ہوتی ہے، کبھی وقت، اور کبھی پوری زندگی؛ مگر میرا وہ خواب شاید حقیقت بننے نہیں، مجھے اجاڑنے آیا تھا۔ اسی لیے اُس خواب کے تیسرے ہی دن، وہ پوری طرح حقیقت بن گیا مگر اُس طرح نہیں جس طرح میں نے چاہا تھا۔

کچھ انسان شاید اپنے اندر کسی ایسے خواب کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جسے وقت اور حالات آہستہ آہستہ تراشتے رہتے ہیں۔ دُرک جان بھی شاید انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔ اُس کی شخصیت میں محبت، خلوص، احساس اور سچائی پہلے ہی سے موجود تھے، مگر وقت نے اِن خصوصیات کو ایک ایسی سمت دے دی جہاں اُس کی اپنی ذات، اُس کی خواہشات اور اُس کا مستقبل بھی اُس کے لیے اُس وسیع تر خواب کے سامنے ثانوی ہوتے گئے جسے وہ اپنی زمین سے وابستہ سمجھتا تھا۔
‎
دُرک کے لیے بلوچستان محض ایک جغرافیہ نہیں تھا۔ پروم کی وادیوں سے شال تک کا سفر، شال کی علمی فضا میں گزارے ہوئے دن، کتابوں سے اس کی وابستگی، اور پھر اپنی زمین کے دکھ سے پیدا ہونے والی بے چینی، یہ سب اُس کی شخصیت کے مختلف مرحلے تھے۔ شاید اسی سفر میں لال خان آہستہ آہستہ دُرک بنتا گیا۔ نام بدلنا صرف ایک ظاہری تبدیلی نہیں تھی؛ اس کے ساتھ اُس کی ترجیحات، اُس کے سوالات اور اپنے وجود کو دیکھنے کا انداز بھی بدل رہا تھا۔
‎
وہ ایک محفوظ اور باوقار مستقبل کا انتخاب کر سکتا تھا۔ میڈیکل کی تعلیم اُس کے سامنے تھی، سفید کوٹ اُس کے خواب کا حصہ تھا، اور ایک نسبتاً پُرسکون زندگی اُس کے لیے ممکن تھی۔ مگر اُس کے اندر اپنی زمین کے لیے پیدا ہونے والی بے چینی نے اسے مسلسل یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انسان صرف اپنی ذات کے لیے کس حد تک جیتا ہے۔ اُس کے لیے زندگی شاید محض اپنی خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں رہی تھی؛ وہ اسے ایک ذمہ داری اور امانت کی طرح دیکھنے لگا تھا۔
‎
اسی لیے اُس کے جانے کے بعد مجھے بار بار محسوس ہوا کہ دُرک نے صرف راستہ نہیں بدلا تھا، اُس نے اپنے وجود کا مفہوم بدل دیا تھا۔ وہی شخص جو کبھی کتابیں اٹھائے لائبریری جاتا تھا، اب اپنی زمین کے سوالات کو اپنے ساتھ لیے پھرتا تھا۔ وہی نوجوان جس کے سامنے ڈاکٹر بننے کا خواب تھا، اب اپنے لوگوں کے دکھ کو سمجھنے میں اپنی زندگی کا ایک نیا مقصد تلاش کر رہا تھا۔
‎
شاید اسی تبدیلی نے اُسے دوسروں سے منفرد بنایا۔ وہ باتوں کو صرف باتوں کی حد تک رکھنے پر مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ اس کے لیے کسی خیال کی اصل اہمیت اس وقت پیدا ہوتی تھی جب انسان اپنے عمل، اپنے فیصلوں اور اپنی زندگی سے اُس خیال کی ذمہ داری قبول کرے۔ اسی لیے اس کے اندر ایک مستقل بے چینی رہتی تھی کہ محض خوبصورت الفاظ کافی نہیں، محض وعدے کافی نہیں، محض خواب دیکھنا کافی نہیں؛ انسان کو اپنے یقین کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں وفادار بھی رہنا پڑتا ہے۔اور زمین کے معاملے میں اُس کی وفاداری شاید سب سے گہری تھی۔
‎
میں نے لوگوں کو اپنی زمین سے محبت کرتے دیکھا ہے، مگر دُرک کی محبت میں ایک عجیب سی شدت تھی۔ بلوچستان کی وادی، پہاڑ، شال کی سردی، چلتن کی بہار، بولان کی خاموش وسعتیں، یہ سب اُس کے لیے محض قدرتی مناظر نہیں تھے۔ وہ اِن میں اپنے وطن کی یاد، اپنے لوگوں کی زندگی اور ایک بہتر مستقبل کا امکان تلاش کرتا تھا۔ اسی لیے جب وہ اپنی زمین کے دکھ کی بات کرتا تو اُس کے الفاظ میں محض سیاسی غصہ نہیں ہوتا تھا؛ اُس میں ایک ایسے انسان کی بے قراری ہوتی تھی جو اپنے محبوب کو تکلیف میں دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اُس کے لیے ذاتی خواہش اور اجتماعی خواب کے درمیان فاصلہ کم ہوتا گیا۔ اُس کی اپنی زندگی، اُس کی تعلیم، اُس کے خواب، اُس کے رشتے، سب کچھ اُس بڑے سوال کے سامنے آ کھڑا ہوا جس نے اُس کے اندر مستقل ہلچل پیدا کر رکھی تھی: انسان اپنے وقت کے دکھ سے کس حد تک لاتعلق رہ سکتا ہے؟

آج جب میں اُس کے سفر کو پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے صرف ایک میڈیکل طالبِ علم کی کہانی نظر نہیں آتی۔ مجھے ایک ایسے نوجوان کی تدریجی تبدیلی دکھائی دیتی ہے جو کتابوں سے نکل کر اپنی زمین کے سوالات تک پہنچا؛ جس نے پہلے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچا، پھر اپنے لوگوں کے مستقبل کے بارے میں۔ شاید اسی سفر میں لال خان سے دُرک بننے کا اصل مفہوم پوشیدہ تھا۔
‎
اور شاید دُرک کی سب سے بڑی پہچان بھی یہی تھی کہ وہ اپنی زمین سے محبت کو محض ایک دعویٰ نہیں سمجھتا تھا۔ اُس کے لیے یہ محبت ایک ذمہ داری تھی، ایک ایسا عہد جس نے اُس کی ذات کے دائرے کو وسیع کر دیا تھا۔ اُس کے بعد میرے لیے بھی زمین صرف زمین نہیں رہی۔ اب اس کے ہر پہاڑ، ہر وادی اور مٹی کے ہر ذرے میں مجھے ایک ایسے نوجوان کا خواب دکھائی دیتا ہے جس نے اپنی زندگی کو صرف اپنی ملکیت سمجھنے کے بجائے اپنے وطن اور اپنے لوگوں سے جوڑ کر دیکھا تھا۔
‎
لال خان سے دُرک تک کا یہ سفر، میرے لیے، ایک نام کی تبدیلی سے کہیں زیادہ ہے؛ یہ ایک انسان کے اندر پیدا ہونے والی اُس فکری تبدیلی کی داستان ہے جس میں ذاتی مستقبل کا خواب آہستہ آہستہ ایک اجتماعی خواب میں تحلیل ہو جاتا ہے۔دُرک جان، دسمبر 2024 کی وہ سرد شامیں آج بھی مجھے یاد ہیں، جب آپ کی میڈیکل کی تعلیم کا پہلا سال جاری تھا۔ کلاس لینا، پھر گھنٹوں لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنا، ٹیسٹوں کی تیاری کرنا، وائیوا کے سوالات رٹنا، اس سال آپ کی زندگی کی روٹین یہی تھی۔ ایک عام طالبِ علم کی طرح آپ بھی اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے میں مصروف تھے؛ کتابوں، لیکچرز، امتحانات اور اُس سفید کوٹ کے خواب کے درمیان، جسے آپ نے اپنی محنت اور جدوجہد سے حاصل کیا تھا۔ آپ کے سامنے ایک محفوظ مستقبل کا راستہ موجود تھا؛ ایک ایسا راستہ جس پر چل کر آپ ایک ڈاکٹر بن سکتے تھے، اپنا کلینک بنا سکتے تھے اور ایک نسبتاً پُرسکون زندگی گزار سکتے تھے۔

مگر اسی معمول کی ہلچل کے درمیان بی ایم سی کے بند ہونے کا وہ واقعہ پیش آیا، جس نے آپ کے پہلے ہی سال کو ایک ایسے تجربے میں بدل دیا جسے شاید کوئی طالبِ علم اپنی درسگاہ سے وابستہ نہیں کرنا چاہتا۔ پہلی ہی سال میں ریاست نے طلبہ کو اپنا وہ چہرہ دکھایا جو ایک تعلیمی ادارے کی چار دیواری کے اندر موجود نوجوان ذہنوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔ کلاس روم اور لائبریری سے نکل کر دربدر ہونا، آنسو گیس سہنا، ماریں کھانا، دھکے اور تذلیل برداشت کرنا، یہ سب آپ کی طالب علمی کے پہلے ہی سال کا حصہ بن گیا۔ پہلا سال، پہلا صدمہ، اور وہ بھی ایک ایسی درسگاہ میں جہاں انسان اپنے مستقبل کے خواب تعمیر کرنے جاتا ہے۔ آخر ایک طالبِ علم کے ذہن پر ایسے واقعات کس قدر گہرا اثر چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا وہ دوبارہ اسی سادگی سے کتاب کھول سکتا ہے جس سادگی سے اس نے کبھی اپنے مستقبل کے صفحات کھولے تھے؟

اسی ویرانی کے دنوں میں ایک روز اچانک دُرک جان نے مجھے سفید کوٹ پہنے اپنی ایک تصویر بھیجی، جو آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔ جب بھی وہ تصویر دیکھتی ہوں، سینے میں ایک عجیب سا درد اٹھتا ہے۔ تصویر میں ایک عام سا میڈیکل طالبِ علم کھڑا ہے، وہی طالبِ علم جس نے محنت، لگن اور بے پناہ مگن سے ڈاکٹری کی نشست حاصل کی تھی، جس کے سامنے ایک محفوظ مستقبل موجود تھا، مگر حالات نے اس مستقبل کی سمت ہی بدل دی۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک انسان اپنے خواب کو کہاں تک بچا سکتا ہے، جب اس کے گرد کی دنیا اسے مسلسل اپنے خواب اور اپنی زمین کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور کرے؟

میں نے جب وہ تصویر دیکھی تو اسی وقت دُرک کو مذاق میں کہا تھا: “یار لالی، تم پر تو یہ کوٹ بہت جچتا ہے، تم نے اسے خاص بنا دیا ہے۔ بس ایک ڈیل ہے؛ اگر آپ ڈاکٹر بن گئے تو اپنا یہ سفید کوٹ مجھے گفٹ کر دینا۔” اُس وقت یہ صرف ایک مذاق تھا۔ مجھے کہاں معلوم تھا کہ ایک دن یہی سفید کوٹ میرے لیے تمہارے ایک ادھورے خواب کی سب سے گہری علامت بن جائے گا۔

یہ بالکل درست ہے کہ آج تم ایک پاکستانی ڈاکٹر نہیں بن سکے۔ نہ تمہارا کوئی نجی کلینک بنا، نہ تم کسی ہسپتال میں سفید کوٹ پہن کر ہمارے سامنے آئے، اور نہ ہی وہ دن آیا جب تم واقعی اپنی ڈاکٹری کی وردی میں ہمیں مل سکے۔ تمہاری کتابیں ادھوری رہ گئیں، امتحانات ادھورے رہ گئے، وائیوا کی تیاری ادھوری رہ گئی اور وہ سفید کوٹ بھی ایک ادھورے خواب کی طرح تمہاری زندگی کے کسی موڑ پر پیچھے رہ گیا۔مگر دُرک، تم نے شاید اُس وقت ایک مشکل راستہ چنا جب تمہارے سامنے ایک محفوظ مستقبل کا انتخاب موجود تھا۔ تم نے اپنی زندگی کو صرف اپنی ذات کی ملکیت نہیں سمجھا؛ اسے ایک امانت سمجھا اور اس امانت کو اپنے وطن کے نام کر دیا۔ تمہاری کہانی میں یہی وہ مقام ہے جہاں ایک میڈیکل طالبِ علم کی شناخت محض ایک پیشے سے آگے بڑھ کر ایک بڑے سوال میں تبدیل ہو جاتی ہے: ڈاکٹر کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے؟ مریض کے جسم پر مرہم رکھنے کے بعد، یا اُس معاشرے کے زخم کو محسوس کرنے پر جہاں وہ مریض پیدا ہوا؟

تم بلوچستان کے ڈاکٹر ضرور بن گئے۔کیونکہ تم نے صرف ایک فرد کی بیماری نہیں دیکھی، تم نے اپنی قوم کے درد کو پڑھنے کی کوشش کی۔ تم نے اُس بیماری کو پہچانا جس کا علاج کسی کتاب، نسخے یا ہسپتال میں ممکن نہیں تھا۔ تم نے اپنے لوگوں کے زخموں، محرومیوں اور بے بسی کے درمیان اُس بیماری کا نام پہچانا “غلامی”۔شاید اسی لیے تم ڈاکٹر نہ بن سکے، مگر اپنی قوم کی نبض ضرور پہچان گئے۔ تمہارے ہاتھ میں اسٹیتھوسکوپ نہ آیا، مگر تم نے اپنے لوگوں کے دکھ کو سننے کی کوشش کی۔ سفید کوٹ تمہارے جسم کا لباس نہ بن سکا، مگر وطن کا درد تمہاری زندگی کی شناخت بن گیا۔

اور شاید تمہاری زندگی کا المیہ بھی یہی ہے کہ جس سفید کوٹ کو کبھی میں نے تم سے مذاق میں مانگا تھا، وہ آج میرے لیے صرف ایک لباس نہیں رہا۔ وہ ایک ایسے خواب کی علامت ہے جو ادھورا رہ گیا، مگر اُس خواب کے پیچھے موجود محبت ختم نہیں ہوئی۔ تم ڈاکٹر نہ بن سکے، مگر تمہاری زندگی نے ایک اور سوال ضرور چھوڑ دیا: “انسان اپنی زندگی صرف اپنے لیے جیتا ہے، یا کبھی کسی ایسے خواب کے لیے بھی جس کی تکمیل شاید اُس کی اپنی زندگی کے بعد ہو؟ شاید تمہاری کتابیں مکمل نہ ہوئیں، سفید کوٹ کا خواب مکمل نہ ہوا، مگر تمہاری زندگی نے ایک اور کتاب ضرور لکھ دی ایسی کتاب جس کے صفحات پر کسی پیشے کی کامیابی نہیں، بلکہ ایک نوجوان کی اپنے وطن سے بے پناہ محبت درج ہے۔ اور اس کتاب کا سب سے بھاری باب شاید وہی ہے جس میں ایک میڈیکل طالبِ علم، ڈاکٹر بننے کے خواب سے آگے بڑھ کر اپنی قوم کے درد کا طالب بن گیا۔

بی ایم سی کی وہ ہلچل دُرک جان کے راستے کو اس طرح بدل گئی، جس کا میرے وہم و گمان میں بھی کبھی تصور نہیں تھا۔ جب پہلی دفعہ اس نے مجھے بتایا کہ اسے سفر پر جانا ہے تو میں زیادہ حیران نہیں ہوئی۔ میں نے بے فکری سے پوچھا، “کہاں؟ لاہور یا اسلام آباد؟ بس سے یا ٹرین لے کر؟” وہ خاموشی سے بولا، “کچھ سنگتوں سے ملنے جانا ہے، پہاڑوں میں۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “یہ کون سے دوست ہیں تمہارے جو پہاڑوں میں رہتے ہیں؟” جواب آیا، “ہم سب کے دوست ہیں، صرف میرے نہیں۔”اُس ایک جملے نے میرے بہت سے سوالوں کے جواب دے دیے۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ سفر محض کسی دوست سے ملنے کا سفر نہیں تھا؛ دُرک کے اندر کچھ بدل چکا تھا، اور وہ تبدیلی اب اس کی زندگی کے راستے کا تعین کرنے والی تھی۔
‎
اس دن کے بعد جب بھی مجھے دُرک جان کی صورت میں وہی شخص ملتا، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میرے سامنے کوئی اور انسان کھڑا ہے۔ اس کی طبیعت، اندازِ گفتگو، سوچنے کا طریقہ، حتیٰ کہ خاموش رہنے کا انداز بھی بدل گیا تھا۔ اگر “مختلف” کہنا کم ہو تو یوں کہوں گی کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ حسین شخصیت بن گیا تھا ایک ایسی شخصیت جس کے اندر اب محض اپنے مستقبل کی فکر نہیں تھی، بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا، اپنے لوگوں اور اپنی زمین کا ایک گہرا احساس جاگ چکا تھا۔ میں اسے سمجھاتی، “سب ٹھیک ہو جائے گا، مایوس نہ ہو۔ ایسا تو نہیں کہ بی ایم سی کی یہ تشویشناک صورتِ حال تمہیں اس راستے پر چلنے کے لیے مجبور کر رہی ہے؟ تحمل رکھو، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔” مجھے یقین تھا کہ کچھ وقت گزرے گا، حالات بدلیں گے اور وہ دوبارہ اپنی پڑھائی کی طرف لوٹ آئے گا۔ کبھی کبھی میں اسے جھنجھوڑ کر کہتی، “پاگل تو نہیں ہو؟ اپنا سیٹ کون چھوڑتا ہے؟”
‎
مگر اس کا جواب اتنا گہرا تھا کہ آج تک میرے ذہن سے محو نہیں ہوا۔ اس نے کہا تھا، “سیٹ ملتے رہیں گے۔ لوگ آتے جاتے رہیں گے۔ میں نہیں میرا جیسا ہی سہی لیکن اگر اس بربریت اور ظلم کے خلاف کوئی کھڑا نہیں ہوا تو سب کچھ بکھر جائے گا۔ ہر دفعہ اپنے بارے میں نہیں سوچتے۔ اگر ہم ہمیشہ یہی کرتے آئے تو آخر میں کچھ بھی نہیں بچے گا۔”
‎
آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو کبھی کبھی سوچتی ہوں، وہ واقعی پاگل تھا؟ جنونی تھا؟ شاید تھا مگر اپنی زمین کے لیے۔ اپنے بلوچوں کے لیے۔ اپنے لوگوں کا درد وہ جس شدت سے محسوس کرتا تھا، کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ اس کی شدت کے سامنے میرے اپنے حواس ٹھہر نہیں پاتے۔ اس کے لیے بلوچستان محض نقشے پر پھیلا ہوا ایک خطہ نہیں تھا؛ وہ اس کی یاد، اس کی شناخت، اس کی محبت اور اس کی ذمہ داری سب کچھ بن چکا تھا۔
‎
جب کبھی وہ پکنک کے لیے نکلتا تو بلوچستان کی وادیوں میں یوں گھل مل جاتا جیسے وہ جگہیں اسے اپنے کسی پرانے بچھڑے ہوئے انسان کی طرح پہچانتی ہوں۔ بولان کے پہاڑوں میں آج بھی شاید اس کے قدموں کے نشان باقی ہوں، جہاں وہ اپنی زمین کی محبت میں اپنے بدن کو ہوا کے ساتھ جھومنے دیتا تھا۔ جھالاوان کی وہ سبز وادیاں بھی شاید اسے یاد کرتی ہوں گی؛ وہ مناظر، جنہیں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی روشنی اتر آتی تھی۔ اس کے لیے پہاڑ محض پتھر نہیں تھے، وادیاں محض منظر نہیں تھیں اور سمندر محض پانی کا پھیلاؤ نہیں تھا۔ ان سب میں اسے اپنے وطن کی ایک زندہ روح محسوس ہوتی تھی۔ دُرک کی ایک بات مجھے آج بھی یاد ہے۔ جب بھی وہ کسی پہاڑ کو دیکھتا یا گوادر کا سمندر اس کے سامنے پھیلا ہوتا، وہ اکثر ایک ہی بات کہا کرتا تھا: “ہم اپنی زمین کے قرض دار ہیں۔ میری زمین اس لائق ہے کہ ہم اس کے لیے قربان ہوں، لیکن اس سے غداری کبھی نہ کریں۔”
‎
شاید اسی سال دُرک کے اندر وہ ذہنی تبدیلی مکمل ہونا شروع ہوئی تھی جس نے بعد میں اس کے پورے سفر کو متعین کیا۔ زمین سے محبت اب محض جذبات نہیں رہی تھی؛ وہ اس کے لیے ایک ذمہ داری بنتی جا رہی تھی۔ وہ صرف بات کرنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کے اندر کچھ کرنے کی بے چینی تھی؛ کہی ہوئی باتوں کو حقیقت میں بدلنے کی، کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے کی، اور اپنے نظریات کو محض الفاظ کے بجائے عمل کے ذریعے ثابت کرنے کی۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ “جب تک کسی بات کو عملی طور پر ثابت نہ کیا جائے، وہ محض ایک سیاسی ڈائیلاگ کے سوا کچھ نہیں۔”دُرک کو سیاست کا روایتی شوق بھی نہیں تھا۔ وہ شال میں مختلف سرکلز اور نشستوں میں جاتا، بحث سنتا، گفتگو کرتا، لوگوں سے ملتا، لیکن جب واپس آتا تو اکثر ایک ہی بات کہتا، “یار سنگو، ان سب سیاست میں کچھ نہیں رکھا، چند تمیز دار جملوں کے سوا۔ سب جھوٹ، فریب اور دکھاوا ہے۔ اور ہم ایسے ملک کے وہ بدنصیب لوگ ہیں جہاں مجھے یقین ہے کہ ہم سیاست کے بل بوتے پر کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔”
‎
شاید اس کی بے چینی کا اصل سبب یہی تھا۔ وہ صرف باتوں سے مطمئن ہونے والا انسان نہیں تھا۔ اسے الفاظ کے بعد عمل چاہیے تھا، وعدوں کے بعد قدم چاہیے تھا اور نظریے کے بعد قربانی۔ اسی لیے میں اسے ہمیشہ “ایکسٹریمسٹ” اور “رسک ٹیکر” کہا کرتی تھی—ایسا شخص جو اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے لیے خطرہ مول لینے کی ایک ایسی حد تک جا سکتا تھا جہاں عام انسان شاید رکنے کا فیصلہ کر لے۔ اس کے اندر ایک عجیب سی بے قراری تھی۔ شال، جہاں اس نے اپنی زندگی کے بہت سے پُرسکون دن گزارے تھے؛ شال کی وہ برفیلی فضا، جسے وہ ہمیشہ اپنے سینے سے لگا کر رکھتا تھا؛ چلتن کے بہار کے موسم، جہاں اسے اپنی زمین کے ایک آزاد اور خوبصورت مستقبل کی جھلک دکھائی دیتی تھی یہ سب کچھ اس کے لیے بے حد عزیز تھا۔ مگر انہی خوبصورتیوں کے درمیان اس کے اندر ایک دوسری ہلچل بھی مسلسل جاری تھی۔ وہ صرف بلوچستان کی خوبصورتی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتا تھا؛ وہ یہ بھی سوچتا تھا کہ اس خوبصورتی کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے۔
‎
اس کے اندر یہ سوال دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا تھا کہ اگر زمین اتنی خوبصورت ہے تو اس کے لوگ اتنے بے اختیار کیوں ہیں؟ اگر وطن اتنا عزیز ہے تو اس کے دکھ سے نظریں کیسے چرائی جا سکتی ہیں؟ اور اگر ہم اپنے لوگوں کے لیے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں تو صرف اس خواب کے بارے میں بات کرنا کافی کیسے ہو سکتا ہے؟ دُرک کے لیے محبت اب محض ایک احساس نہیں رہی تھی؛ وہ عمل کا تقاضا بن چکی تھی۔ اسی لیے شاید اس کا راستہ بھی بدل گیا۔ ایک میڈیکل طالبِ علم، جو کبھی کلاس، لائبریری، ٹیسٹ اور وائیوا کے درمیان اپنا مستقبل تلاش کر رہا تھا، آہستہ آہستہ اپنی زمین، اپنے لوگوں اور اپنے وقت کے سوالات کے درمیان اپنے لیے ایک اور راستہ تلاش کرنے لگا تھا۔

اور مجھے آج بھی یاد ہے، میں اسے “پاگل” کہتی تھی۔ شاید وہ واقعی پاگل تھا مگر اُس زمین کی محبت میں جسے وہ اپنی ماں کی طرح سمجھتا تھا، اور اُن لوگوں کے درد میں جنہیں وہ اپنے وجود سے الگ نہیں سمجھتا تھا۔ خط پڑھ کر میں کچھ دیر تک بے یقینی کی کیفیت میں رہی۔ جانے سے پہلے ایک دوست نے مجھے اُس کا آخری پیغام دیا تھا، اور اُس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی گئی ہو۔ تقریباً تین ہفتے میں اسی بے یقینی اور ایک عجیب سی امید کے درمیان رہی کہ شاید وہ واپس آئے گا، شاید یہ سفر اتنا طویل نہیں ہوگا، شاید دُرک دوبارہ اپنی پرانی زندگی کی طرف لوٹ آئے گا۔ مگر اُس خط میں بہت کچھ تھا محبت، لگن، اپنائیت، اپنی زمین کے لیے ایک بے مثال جنون، مٹی سے وفاداری، گلزمین سے ایمانداری، اور اُن ذاتی خواہشوں سے دست برداری جنہیں ایک نوجوان عام طور پر اپنی زندگی کی منزل سمجھتا ہے۔
‎
اُس خط کے بعد دُرک نے ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ اُس نے پہاڑوں کو اپنے سینے سے لگایا اور اپنی وفا کی اُن راہوں پر چل پڑا جنہیں شاید وہ اپنے اندر بہت پہلے سے تلاش کر رہا تھا۔ بعض اوقات انسان کا جنون اسے وہاں لے جاتا ہے جہاں اُس جنون کا مرکز موجود ہوتا ہے؛ یا یوں کہوں کہ انسان آخرکار اُس مقام کے قریب پہنچ ہی جاتا ہے جسے وہ اپنی منزل سمجھتا رہا ہو۔ دُرک کے لیے شاید وہ منزل کسی شہر، کسی عہدے یا کسی پیشے کا نام نہیں تھی؛ وہ اپنی زمین کے ساتھ ایک ایسے تعلق کی تلاش میں تھا جسے وہ محض الفاظ میں بیان نہیں کرنا چاہتا تھا۔دُرک جان جولائی 2025 میں پہاڑوں کی طرف چلا گیا۔ اُس کے بعد ستمبر میں جب ہماری بات ہوئی تو اس کی آواز اور گفتگو میں ایک عجیب سی ہلکی پن اور کھلکھلاہٹ محسوس ہوئی۔ میں نے پوچھا، “ہاں، اب تم مطمئن ہو؟”
‎
وہ ہنسا اور کہنے لگا، “ہاں جاناں، اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے سینے سے بہت بڑا بوجھ ہٹ چکا ہے۔”میں نے پوچھا، “کون سا بوجھ؟”وہ بولا، “غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جانے کا بوجھ۔ غلامی کو مان لینے کا بوجھ۔ ایسی ریاست کے ماتھے کو چومنے کا بوجھ جو ہمارے کسی بھی درد کی دوا نہیں بن سکتی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میں وہاں پہنچ چکا ہوں جہاں میرے ضمیر ملامت نہیں ہوگی، اور جہاں میں اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے لیے کچھ کر سکوں گا۔” اُس وقت شاید میں اُس کے الفاظ کی پوری گہرائی نہیں سمجھ سکی تھی۔ مجھے صرف یہ محسوس ہوا کہ دُرک پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے۔ جیسے کوئی طویل عرصے سے اپنے اندر اٹھتے سوال کا جواب پا چکا ہو۔ لیکن آج جب میں اُس گفتگو کو یاد کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے لیے یہ صرف ایک جگہ بدلنے کا فیصلہ نہیں تھا؛ یہ اپنے ضمیر کے ساتھ ایک فیصلہ تھا۔ وہ جس بوجھ کی بات کر رہا تھا، وہ کسی ایک واقعے کا بوجھ نہیں تھا، بلکہ اُس احساس کا بوجھ تھا کہ انسان اپنے سامنے ہونے والی ناانصافی کو دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہے۔
‎
پھر ایک دن دُرک نے اپنی ایک نئی تصویر بھیجی وہی تصویر جو آج اُس کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ میں تصویر دیکھ کر چونک گئی۔
‎
یہ تم ہو
“وہ ہنسنے لگا اور بولا، “ہاں، کیسا لگا میرا نیا روپ؟”
‎
اُس ایک لمحے میں مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی بہت پرانے شخص سے دوبارہ مل رہی ہوں، جسے جانے کتنے برسوں سے نہیں دیکھا تھا۔ بڑی داڑھی، بڑے بال، شدید دھوپ میں رہنے کے باعث بدلا ہوا چہرہ، آنکھوں میں ایک الگ سی چمک، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، اور لباس بھی پہلے جیسا نہیں تھا۔ میں نے اُس سے کہا، “ایک اور تصویر بھیجو۔” دوسری تصویر میں بھی وہی اجنبی پن، وہی تبدیلی اور وہی نئی زندگی جھلک رہی تھی۔ میں تصویر کو دیکھتی رہی اور نہ جانے کیوں، اُس لمحے مجھے پہلی بار اُس ریاست سے خوف محسوس ہوا۔ خوف اس بات کا نہیں کہ دُرک بدل گیا تھا؛ بلکہ خوف اس حقیقت کا کہ ایک ایسا نوجوان، جس کے چہرے سے کبھی زندگی، توانائی اور امید چھلکتی تھی، آج اُس مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں میں اسے پہچاننے سے بھی انکار کر رہی تھی۔
‎
تب مجھے محسوس ہوا کہ یہ محض دُرک کے چہرے کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ اُس تبدیلی کا نتیجہ تھا جو برسوں کے جبر، محرومی اور مسلسل بے یقینی نے ایک نوجوان کے اندر پیدا کی تھی۔ یہ اُس ایک طمانچے کا نتیجہ تھا جو ریاست نے اُسے اُس وقت مارا تھا جب وہ میڈیکل کے پہلے سال میں ایک طالبِ علم تھا۔ وہی طالبِ علم جس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں، جس کے سامنے سفید کوٹ کا خواب تھا، آج ایک ایسے راستے پر کھڑا تھا جس کا تصور شاید اُس نے اپنی طالب علمی کے پہلے دن بھی نہیں کیا ہوگا۔
‎
اس تصویر میں مجھے بلوچستان کا ایک واضح آئینہ دکھائی دیا۔ دُرک اکیلا نہیں تھا؛ اُس کے پیچھے اُن بے شمار نوجوانوں کی کہانیاں بھی کھڑی تھیں جنہیں حالات نے اُن مقامات تک پہنچا دیا جہاں واپسی کا راستہ پہلے جیسا آسان نہیں رہتا۔ وہ تصویر صرف دُرک کی تصویر نہیں رہی تھی؛ وہ اُن پہاڑی لوگوں، اُن نوجوانوں اور اُن زندگیوں کی ایک خاموش داستان بن گئی تھی جنہیں جبر نے اپنے گھروں، شہروں اور معمول کی زندگیوں سے دور کر دیا تھا۔میں ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ “جب غلاموں کو شہر میں جگہ نہیں دی جاتی تو پہاڑ اُنہیں اپنی آغوش میں پناہ دے دیتے ہیں” ۔ اُس وقت شاید یہ جملہ میرے لیے ایک استعارہ تھا، مگر دُرک کی اُس تصویر نے میرے بہت سے وہم اور غلط فہمیاں دور کر دیں۔ میں اکثر اُسے اُس کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو کہتی تھی۔ کبھی اسے اس کی ماں کا واسطہ دیتی، کبھی اُس کی بہنوں کا۔ میں کہتی، “تمہارے بعد مہرنگ کا کیا ہوگا؟ تمہاری بہنوں کا کیا ہوگا؟ تم اُن کا واحد سہارا ہو۔”
وہ ہمیشہ مجھے بہت پیار اور تحمل سے سمجھاتا تھا۔ اُس کا جواب آج بھی میرے ذہن میں ویسے ہی محفوظ ہے: اگر ہم سب اسی خوف میں مبتلا رہے کہ ہمارے جانے کے بعد ہماری ماؤں کا کیا ہوگا، ہمارے لوگوں کا کیا ہوگا، تو جنگ کون لڑے گا؟” اُس وقت میں اُس کے جواب سے متفق تھی یا نہیں، یہ الگ بات ہے؛ مگر آج اُس جملے کی گونج مجھے اُس کی پوری زندگی میں سنائی دیتی ہے۔ اُس نے اپنے فیصلے کو آسان نہیں سمجھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہر راستے کی اپنی قیمت ہوتی ہے۔ مگر اُس کے لیے سب سے بڑا سوال شاید یہ تھا کہ انسان اپنے خوف، اپنی ذاتی ذمہ داریوں اور اپنی محبتوں کے باوجود اپنے ضمیر کے سامنے کہاں کھڑا ہوتا ہے۔
‎
دُرک کے لیے پہاڑ شاید منزل سے زیادہ ایک جواب بن گئے تھے اُس سوال کا جواب جو بی ایم سی کی ہلچل، اُس کے پہلے صدمے، ادھورے سفید کوٹ اور اپنے لوگوں کی حالت نے اُس کے اندر پیدا کیا تھا۔ اور جب اُس نے پہاڑوں کو اپنی آغوش میں لیا، تو مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ اُس کا سفر دراصل اُس دن شروع نہیں ہوا تھا جب وہ جولائی 2025 میں روانہ ہوا؛ اُس کا سفر تو اُس دن شروع ہو چکا تھا جب ایک میڈیکل طالبِ علم نے پہلی مرتبہ یہ سوچا تھا کہ اپنی ذات کے محفوظ مستقبل سے آگے بھی اُس کی کوئی ذمہ داری ہے۔ تیس دن شاید اس سے بھی زیادہ—گزر گئے ہیں۔ اب مجھے بہت کچھ یاد نہیں رہتا۔ کیلنڈر دیکھنا، تاریخوں کو گننا، وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش کرنا، دن اور رات کو خاموشی سے گھورتے رہنا کہ رات کب اپنا لبادہ اوڑھے گی اور صبح کب تم سے دوبارہ گفتگو ہوگی؛ یہ سب اب میری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ وقت آگے بڑھ رہا ہے، مگر میرے اندر جیسے وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ تم سے جدا ہوئے دن بڑھتے جا رہے ہیں، مگر میرے لیے ہر دن اسی ایک انتظار کی توسیع ہے۔ زمانہ شاید اب کچھ الگ ہے؛ بظاہر سب کچھ وہی ہے۔

وہی آسمان، وہی راتیں، وہی صبحیں، وہی راستے مگر ہماری داستان نے شاید ایک ایسا موڑ لے لیا ہے جہاں مجھے انتظار کرنا ہے، اور تمہیں آنا نہیں ہے۔۔۔ ان دنوں میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے بکھرے ہوئے احساسات کو لفظوں میں یکجا کر سکوں۔ احساسات بے شمار ہیں، مگر انہیں بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔ کئی روز سے میں معمولی معمولی لفظوں کو جمع کرتی رہی ہوں، جیسے کوئی بکھرے ہوئے ذرات کو ایک ایک کرکے سمیٹتا ہے، اس امید پر کہ کبھی ان سے تمہاری کہانی کا کوئی مکمل نقش بنا سکوں۔ چاہتی تھی تمہاری بہادری کا قصہ لکھوں، تمہاری مخلصانہ جدوجہد کی داستان رقم کروں، اپنی زمین سے تمہاری محبت کو غزل کی طرح لفظوں میں پرو دوں، اپنی مٹی کے لیے تمہاری فنا کو قصیدے کی صورت دے سکوں، اور سب سے بڑھ کر اُس خاموش، خوبصورت شخصیت کی مہک کو لفظوں میں محفوظ کر سکوں جسے شاید دنیا نے ہمیشہ اُس گہرائی سے نہیں دیکھا جس گہرائی سے میں نے اسے محسوس کیا۔

کبھی کبھی لکھتے ہوئے مجھے یوں لگتا ہے جیسے تم اب بھی میرے سامنے بیٹھے ہو اور اپنی داستان خود سنا رہے ہو۔ تم بولتے جا رہے ہو، اپنی زمین، اپنے لوگوں، اپنی جدوجہد اور اپنے خوابوں کی بات کرتے جا رہے ہو، اور میں تمہیں سنتے ہوئے اپنے ذہن میں تمہاری ایک نئی تصویر بناتی جا رہی ہوں۔ باہر وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے، دن بدلتے ہیں، راتیں اترتی ہیں، موسم اپنی شدت بدلتے ہیں؛ مگر میرے اندر تمہاری آواز کا وہ سلسلہ کہیں نہیں رکتا۔ شاید اسی لیے تم میرے لیے صرف ایک یاد نہیں رہے تم ایک مسلسل گفتگو بن گئے ہو، ایک ایسا مکالمہ جس کا دوسرا کردار اب سامنے موجود نہیں، مگر جس کی آواز میرے اندر اب بھی سنائی دیتی ہے۔

لیکن اس گفتگو کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی ہے، جس سے فرار ممکن نہیں۔ اس دوران میں صرف تمہاری جدائی سے نہیں، اپنے اندر کے ایک گہرے صدمے سے بھی لڑتی رہی ہوں۔ اس صدمے نے میرے اندر کے کئی لفظ خاموش کر دیے ہیں۔ کبھی قلم ہاتھ میں ہوتا ہے مگر ہاتھ آگے نہیں بڑھتا؛ جملہ ذہن میں بنتا ہے مگر کاغذ تک پہنچنے سے پہلے ٹوٹ جاتا ہے۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ میں لکھنا چاہتی ہوں، وہ میرے اندر اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ اسے لفظ دینا خود اپنے زخم کو دوبارہ چھونے کے برابر ہے۔ مگر شاید یہی وہ مقام ہے جہاں لکھنا میرے لیے محض اظہار نہیں رہتا، یہ مزاحمت بن جاتا ہے۔

کاغذ اور قلم میرے ہاتھ میں ہیں، اور مزاحمت جاری ہے۔ میں خود کو بار بار یاد دلاتی ہوں کہ مجھے تمہیں مایوس نہیں کرنا، تمہاری باکردار شخصیت کے ساتھ اپنے لفظوں میں انصاف کرنا ہے۔ مجھے تمہاری کہانی کو صرف اپنی یاد تک محدود نہیں رہنے دینا؛ اسے لفظوں میں اس طرح محفوظ کرنا ہے کہ لوگ تمہیں ڈھونڈیں، تمہیں پکاریں، تمہیں سمجھنے کی کوشش کریں، اور تمہیں کبھی محض ایک گزرے ہوئے نام کے طور پر یاد نہ کریں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم ان کے دلوں میں، ان کے جذبوں میں، اور اپنی زمین کے ہر ذرے میں زندہ رہو؛ کہ جب بھی کوئی اس مٹی کو چھوئے تو اسے تمہاری محبت، تمہاری جدوجہد اور تمہاری وابستگی کی کوئی نہ کوئی دلیل محسوس ہو۔ وقت بہت لے چکا ہے۔ الفاظ بار بار پھسلتے ہیں، ہمت کبھی کم پڑ جاتی ہے، اور صدمہ کبھی کبھی یہ یقین دلانے لگتا ہے کہ خاموش رہنا شاید آسان ہے۔ مگر مجھے لکھنا ہوگا۔ اس لیے نہیں کہ میرے پاس کہنے کو سب کچھ موجود ہے، بلکہ اس لیے کہ خاموشی کے پاس بھلا دینے کی طاقت ہوتی ہے، جبکہ لفظ یاد رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ مجھے لکھنا ہوگا تاکہ تمہاری آواز میرے اندر ہی دفن نہ ہو جائے۔ مجھے لکھنا ہوگا تاکہ تمہاری کہانی وقت کے شور میں گم نہ ہو۔ اور مجھے لکھنا ہوگا کیونکہ کبھی کبھی قلم کا چلتے رہنا ہی اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ انسان اپنے صدمے کے باوجود شکست تسلیم نہیں کر رہا۔

تمہارا ایک جملہ آج بھی میرے اندر کہیں گونجتا ہے۔ اس ایک جملے نے مجھے صرف ہمت نہیں دی تھی، بلکہ مجھے یہ باور کرایا تھا کہ مجھے ہار نہیں ماننی۔ جب الفاظ میرا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں، جب یادیں بوجھ بن جاتی ہیں، اور جب اندر کا خوف لکھنے سے روکنے لگتا ہے، تب وہی آواز مجھے دوبارہ قلم اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔

دُرک اچانک دہرانے لگا:
مجھے نہیں پتا کہ عورت مضبوط ہے یا نہیں، لیکن مجھے یہ ضرور پتا ہے کہ سنگین، آپ کمزور نہیں ہو۔”

شاید تمہیں اُس وقت اندازہ نہیں تھا کہ تمہارا یہ ایک جملہ میرے اندر کتنی دیر تک زندہ رہے گا۔ آج جب میں اپنے ہی صدمے کے سامنے کھڑی ہوتی ہوں، جب الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور ہمت ڈگمگانے لگتی ہے، تو یہی جملہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ لکھنا چھوڑ دینا شاید سب سے آسان راستہ ہے مگر میرا راستہ نہیں۔ کیونکہ تمہاری کہانی لکھنا اب صرف ایک ادبی کوشش نہیں؛ یہ میری یاد، میری ذمہ داری اور میری خاموش مزاحمت ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔